سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار
شیئر کریں
سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار
اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاری
سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز اور غیر قانونی مالی لین دین کے معاملے پر محکمہ اینٹی کرپشن سندھ نے مقدمہ درج کرکے یونیورسٹی کے چیف اکاؤنٹنٹ کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ مقدمے میں ایک جونیئر اکاؤنٹنٹ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
ترجمان اینٹی کرپشن کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ حیدرآباد نے اس معاملے میں کرائم نمبر 09/2026 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ مقدمے میں سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کے چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ (بی ایس 18) اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی (بی ایس 11) کو نامزد کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق مقدمہ اینٹی کرپشن حیدرآباد کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد نواز پنہور نے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن حیدرآباد ڈویڑن کی ہدایت پر درج کیا۔ مقدمے کے اندراج کی منظوری مجاز اتھارٹی، اے سی سی ون سندھ کراچی نے 22 ستمبر 2026 کو منعقدہ اجلاس میں دی تھی۔
اینٹی کرپشن حکام کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم اور یونیورسٹی کے چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق پنشن کی مد میں ہونے والی مبینہ غیر قانونی مالی لین دین کے معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے، جس کے دوران متعلقہ ریکارڈ اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم، مقدمے میں نامزد افراد کے خلاف الزامات کا حتمی تعین تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔


