میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
صحافیوں کاکام صحافت کرناہے ،سیاست نہیں ،سپریم کورٹ

صحافیوں کاکام صحافت کرناہے ،سیاست نہیں ،سپریم کورٹ

ویب ڈیسک
منگل, ۳۱ اگست ۲۰۲۱

شیئر کریں

سپریم کورٹ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس میں ڈی جی ایف آئی اے، آئی جی اسلام آباد، چیئرمین پیمرا، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو ٓائندہ سماعت میں طلب کر لیا جبکہ عدالت عظمیٰ نے صحافیوں کے حوالے سے اسلام آبادہائی کورٹ میں جاری کارروائی کی تفصیلات بھی مانگ لیں ۔ پیر کو سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخودنوٹس کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ مداخلت کریگی،تنخواہوں اور چھانٹیوں کے معاملے پر بھی عدالت صحافیوں کیساتھ کھڑی رہی ہے،عدالت نے خود کو مطمئن کرنا ہے کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تو نہیں ہو رہی ہے. میڈیا قوم کا ضمیر اور آواز ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا آئین پاکستان میڈیا کو آزادی فراہم کرتا ہے،آزادی صحافت کا ذکر تو بھارتی اور امریکی آئین میں بھی موجود ہے،کوئی قانون آرٹیکل 19 کے متضاد ہوا تو کالعدم قرار دیدیں گے ،کمرہ عدالت خالی بھی ہوا تو سماعت کرینگے۔جسٹس قاضی امین نے کہا کہ بطور جج ہم سیاست نہیں کر سکتے صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،صحافت اور آزادی اظہار رائے تہذیب کے دائرے میں ہونا چاہیے. ججز تاریخ کے ہاتھوں میں ہیں چند افراد کے نہیں۔ پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ کے علاوہ دیگر درخواست گزار عبدالقیوم صدیقی، اسد طور اور عامر میر نے درخواستیں واپس لے لیں. عدالت نے کیس کی مزید سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کر دی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں