میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مجھے نہیں پتا محسن نقوی کا اشارہ کس طرف ہے، مراد علی شاہ

مجھے نہیں پتا محسن نقوی کا اشارہ کس طرف ہے، مراد علی شاہ

جرات ڈیسک
جمعه, ۳۱ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

پی ٹی آئی بائیکاٹ کی سیاست چھوڑ کر جمہوری عمل میں حصہ لے،وزیراعلیٰ سندھ کا مشورہ

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی حکومت بھی مسلم لیگ نواز کے پاس ہے، گفتگو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی بائیکاٹ کی سیاست چھوڑ کر جمہوری عمل میں حصہ لے۔

محسن نقوی کا بیان سنا ہے، مجھے نہیں پتہ ان کا اشارہ کس طرف ہے۔

مٹیاری بھٹ شاہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی حکومت بھی مسلم لیگ نواز کے پاس ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں کولیشن حکومت ہے اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر محسن نقوی سمجھتے ہیں کہ نظام نیچے چلا گیا تو وہ تجویز دیں۔ یہ جو تجویز انہوں نے دی ہے یہ گھسی پٹی تجویز ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے یہاں کے لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے مزار پر حاضری ان کے لیے باعثِ سعادت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے امن، محبت، بھائی چارے، رواداری اور انسانیت کا درس دیا جب کہ سندھ صوفیوں اور اولیائے کرام کی دھرتی ہے،

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک میں ہمیشہ امن، خوشحالی، محبت اور یکجہتی قائم رکھے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ چئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کشمیری عوام کے حق میں ہمیشہ واضح مؤقف اختیار کیا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر صدر آصف علی زرداری تک کشمیر کے مسئلے پر اصولی مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔

مراد علی شاہ نے مطالبہ کیا کہ دو اور دس اگست کے انتخابی مراحل شفاف ہوں اور الیکشن کمیشن کشمیری عوام کو آزادانہ اور بلا خوف و خطر حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا موقع فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کا مستقبل اور قیمتی سرمایہ ہیں، حکومت ان کی ترقی اور حوصلہ افزائی کو ترجیح دے رہی ہے۔

موٹروے فنڈز کے حوالے سے گورنر سندھ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ متعلقہ رقم پہلے ہی ادا کی جا چکی تھی، انکوائری کے بعد کچھ رقم ریکور بھی کی گئی جبکہ باقی کی وصولی کا عمل جاری ہے، اس لیے گورنر کو درست معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں