اِدھر ہم اُدھر تم، ایم کیو ایم حیدرآباد دو گروپوں میں تقسیم
شیئر کریں
گزشتہ دو روز سے چلنے والا تنازع بغیر کسی نتیجے کے ختم
ظفر صدیقی ، ندیم قاضی میں سخت جملوں کے تبادلے، کارکن مختلف دھڑوں میں تقسیم
……………………
11 ستمبر کے احتجاج پرکشیدگی، سیاسی حلقوں ،سوشل میڈیا پر چہ مگوئیاں گردش کرنے لگی
ایم کیو ایم پاکستان حیدرآباد میں گزشتہ دو روز سے جاری اندرونی اختلافات تاحال کسی واضح نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جبکہ تنظیمی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث کارکنوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق 11 ستمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف مجوزہ احتجاجی اجتماع کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ حیدرآباد کے زونل انچارج ظفر صدیقی اور جوائنٹ زونل انچارج ندیم قاضی کے درمیان سخت تلخ کلامی اور غیر اخلاقی جملوں کے تبادلے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران صورتحال اس قدر کشیدہ ہوگئی نعمت اللہ اور رئیس راجہ ندیم قاضی کے ساتھ کھڑے نظر آئے اجلاس اختتام پذیر ہوا، تاہم اختلافات برقرار رہے۔
تنظیمی ذرائع کے مطابق حالیہ صورتحال کے بعد حیدرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے کارکن مختلف گروپوں میں تقسیم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بعض کارکن ظفر صدیقی کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ دیگر ندیم قاضی کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔
سیاسی حلقوں میں یہ بھی تبصرے کیے جا رہے ہیں کہ تنظیم کے اندر مختلف دھڑوں کی صف بندی مستقبل کی سیاسی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پارٹی کے سابق سینئر رہنما سہیل مشہدی کے ساتھ بھی ایک حالیہ سیاسی سرگرمی کے دوران نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔
ان دعوؤں میں کہا گیا ہے کہ انہیں ایک موقع پر مرکزی قیادت کے ہمراہ موجودگی سے روک دیا گیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر تنظیمی اختلافات کو بروقت حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات آئندہ سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی مہم پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
(رپورٹ:عمران سعید)


