میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
افغان دریاو¿ں پر ڈیم تعمیر کرنے کی بھارتی کوشش

افغان دریاو¿ں پر ڈیم تعمیر کرنے کی بھارتی کوشش

منتظم
اتوار, ۳۰ اکتوبر ۲۰۱۶

شیئر کریں

ریاض احمد چودھری
بھارت پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے اور پانی بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے اور اب اس نے اپنے ان مذموم مقاصد میں افغانستان کو بھی ساتھ ملا لیا ہے اور مل کر پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین سندھ طاس معاہدہ موجود ہے جس کے تحت وہ پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاو¿ں پر کوئی تعمیرات نہیں کر سکتا مگر پھر بھی وہ ہمارے دریاو¿ں پر بند باندھ رہا ہے اور ڈیم بنا رہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے مابین ایسا کوئی معاہدہ موجودنہیں حالانکہ اس کے کئی دریا پاکستان میں آتے ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا نے بتایا ہے کہ اب بھارت نے افغانی دریاو¿ں پر بند باندھنے اور ڈیم بنانے میں افغانستان کی معاونت شروع کر دی ہے تاکہ افغانستان سے پاکستان آنے والے پانی کو روکا جا سکے۔ اب تک افغانستان ان دریاو¿ں سے بالکل استفادہ نہیں کر رہا تھا اور ان کا تمام پانی براہ راست پاکستان آ رہا تھا۔ افغانستان کے پاکستانی آنے والے ان مشرقی دریاو¿ں میں دریائے کابل بالخصوص قابل ذکر ہے اور بھارت اس پرخصوصی طور پر بجلی کی پیداوار کے منصوبے لگانے میں افغانستان کی معاونت کر رہا ہے۔ دریائے کابل اور دریائے چناب میں کافی مماثلت ہے۔ان دونوں میں پانی کی مقدار بھی لگ بھگ برابر ہے جو 2کروڑ30لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔ افغانستان اس دریا پر بجلی کے پیداواری منصوبے لگانے کے لیے بے چین ہے۔ اس کے علاوہ وہ دریائے کنڑ اور دریائے چترال پر بھی ایسے منصوبے لگانا چاہتا ہے۔ یہ دریا بھی سیدھے پاکستان میں آتے ہیں۔ ان دریاو¿ں پر تعمیراتی کام کرکے بھارت پاکستان کو ایک سخت پیغام دے سکتا ہے۔ افغان صدر محمد اشرف غنی جب گزشتہ ماہ بھارت آئے تھے تو انہوں نے یہ منصوبے خصوصی طور پر موضوع گفتگو بنائے تھے۔
بھارت نے دریائے چناب پر مزید تین ڈیم بنانے کے لیے اقوام متحدہ سے کاربن کریڈٹ سرٹیفکیٹ حاصل کرلیے ہیں جب کہ افغانستان دریائے کابل پر ورلڈ بینک کے سات ارب ڈالر قرضے سے بارہ ڈیم تعمیر کرے گا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے باوجود دونوں ممالک کے مابین آبی مسائل سنگین صورتحال اختیار کر رہے ہیں۔ اب بھارت نے پاکستان کی اجازت کے بغیر دریائے چناب پر مزید تین ڈیموں کی تعمیر کے لیے اقوام متحدہ سے کاربن کریڈٹ سرٹیفکیٹ حاصل کرلیے ہیں۔بھارت دریائے چناب پر تین ڈیموں کی تعمیر سے دو کروڑ کیوبک فٹ پانی روک سکے گا۔
اطلاعات یہ ہیں کہ بھارت دریائے کابل پر افغانستان میں بارہ ڈیموں کی تعمیر میں اس کی مدد کریگا اور ان بارہ ڈیموں کی تعمیر کے لیے ورلڈ بینک افغانستان کو سات ارب ڈالر کا قرضہ فراہم کر رہا ہے۔ بھارت عرصے سے پاکستان کی طرف بہنے والے دریاو¿ں پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں بگلیہار ڈیم اور کشن گنگا ڈیم پر دونوں ملکوں میں قانونی جنگ بھی جاری رہی اور اس پر ہونے والے مذاکرات بھی ناکامی سے دوچار ہو چکے ہیں۔
حکومت پاکستان کو اس حوالے سے متحرک ایکشن لینا چاہیے۔ یہ سیدھی سی بات ہے کہ اگر پاکستان میں بہنے والے دریاو¿ں میں پانی نہیں ہو گا تو یہاں زراعت کیسے زندہ رہے گی اور یہاں پن بجلی کیسے پیدا ہو گی۔ پاکستان کو نئے ڈیم بنانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی فورمز پر بھی پانی کا مسئلہ اٹھانا چاہیے کیونکہ اس معاملے میں تاخیر پاکستان کی معیشت کے لیے تباہی کا باعث ہو سکتی ہے۔حکومت پاکستان آبی معاملات پر بھارت اور افغانستان سے معنی خیز بات چیت آگے بڑھائے۔پانی کے معاملات ایسے ہیں جو پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہونی چاہئیں۔
پاکستان نے دریائے کابل کے پانی کو شیئر کرنے کا فارمولا طے کرنے کیلئے ایک مرتبہ پھر کابل سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے معاہدے طے کرنے کے حوالے سے افغانستان سے بات چیت کی یہ تیسری کوشش ہوگی۔ پیپلزپارٹی اور مشرف کے دور میں بھی افغانستان سے رابطہ کیا تھا‘ تاہم اس وقت افغان نیشنل واٹر پالیسی کی عدم موجودگی کسی معاہدے میں رکاوٹ بن گئی تھی۔ افغانستان نے دریائے کابل پر 1177 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی استعداد والے 12 ہائیڈرو پاور پراجیکٹس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنوری میں نریندر مودی نے اپنے دورہ کابل کے موقع پر اس دریا پر ہائیڈل پراجیکٹ کا افتتاح بھی کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان 9 دریا مشترک ہیں جن سے سالانہ 18.3 ملین ایکڑ فٹ (ایم ے ایف) پانی بہتا ہے۔ اس میں سے 16.5 ایم اے ایف پانی دریائے کابل سے گزرتا ہے۔ پاکستان کا دریائے چترال میں پانی کا سالانہ بہاﺅ 8.5 ایم اے ایف ہے۔ یہ دریا جب افغانستان میں داخل ہوتا ہے اس کا نام دریائے کنڑ ہو جاتا ہے۔ یہ جلال آباد کے قریب دریائے کابل سے ملتا ہے اور پھر پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں پراجیکٹس پر اعتراض نہیں‘ تاہم افغانستان عالمی قوانین کے تحت باہمی معاہدے کے بغیر پاکستان کا پانی نہیں روک سکتا۔ اس طرح یہ معاہدہ کرنا عالمی قوانین کے تحت بھی ضروری ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں