میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارت میں احتجاجی طلبہ پر ہندو انتہا پسندوں کے حملے

بھارت میں احتجاجی طلبہ پر ہندو انتہا پسندوں کے حملے

جرات ڈیسک
بدھ, ۲۹ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

مظاہرین میں کھانا اور پانی تقسیم کرنیوالے رضاکار محمد جنید ملک سے پولیس نے پوجھ گچھ کی

کارکن ستیام پنڈت کو طلبہ سے نام اور مذہب پوچھتے اور تشدد کرتے دیکھا گیا، ویڈیوز وائرل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھارت میں امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور تعلیمی نظام کے خلاف طلبہ کے ملک گیر احتجاج کے دوران، نئی دہلی میں جنتر منتر کے قریب ہندوتوا کارکنوں کی طرف سے طلبہ کو ہراساں کرنے اور مار پیٹ کے واقعات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں۔

نئی دلی کے جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے اطراف جاری طلبہ احتجاج میں شدید بدنظمی اور پولیس لاٹھی چارج کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں گازیاباد سے تعلق رکھنے والے دائیں بازو کے کارکن ستیام پنڈت کو احتجاج سے لوٹنے والے طلبہ سے نام اور مذہب پوچھتے اور تشدد کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

اپوزیشن رہنماؤں نے طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد اور انتہا پسند عناصر کی دھمکیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انڈیا کے دارالحکومت نئی دلی میں جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران مظاہرین میں کھانا اور پانی تقسیم کر کے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے والے رضاکار محمد جنید ملک اب خود ایک مشکل میں پھنس گئے ہیں۔

محمد جنید کا دعویٰ ہے کہ انہیں دلی پولیس نے حراست میں لیا، آنکھوں پر پٹی باندھ کر پوری رات پوچھ گچھ کی اور بعد ازاں اُتراکھنڈ کے شہر مسوری میں چھوڑ دیا جبکہ ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے غازی آباد میں ان کے گھر جا کر بھی پوچھ گچھ کی۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق غازی آباد سے تعلق رکھنے والے محمد جنید ملک گذشتہ کئی روز سے جنتر منتر پر ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ سی جے پی کی قیادت میں ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران مظاہرین کو مفت کھانا اور پانی فراہم کر رہے تھے۔

ان کی یہ خدمت سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے بعد نمایاں ہوئی اور متعدد صارفین نے انہیں سراہا۔تاہم چند روز بعد محمد جنید نے سوشل میڈیا پر سامنے آ کر دعویٰ کیا کہ جمعے کی رات وہ ایک دوست کے ساتھ رام منوہر لوہیا (آر ایم ایل) اسپتال سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں چند افراد نے انہیں روک لیا۔ ان کے مطابق ان افراد نے خود کو دہلی پولیس کے اہلکار بتایا۔سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں محمد جنید کہتے ہیں جب ہم ہسپتال سے نکلے تو بمشکل 50 سے 60 میٹر ہی آگے گئے تھے کہ اچانک کچھ افراد نے ہمیں روک لیا۔

‘پہلے مجھے لگا شاید کچھ شرپسند عناصر ہیں جو ہمیں مارنا چاہتے ہیں، لیکن انہوں نے کہا کہ ڈرئیے مت، ہم دلی پولیس سے ہیں۔ اس وقت میں ان کے چہرے بھی نہیں دیکھ سکا۔ محمد جنید کے مطابق بعد میں انہیں ایک سفید رنگ کی سکارپیو گاڑی میں بٹھایا گیا، جہاں ان سے مسلسل سوالات کیے گئے۔‘انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ سب کیسے چل رہا ہے، فنڈنگ کہاں سے آرہی ہے اور تم اتنا بڑا کام کیسے کر رہے ہو؟

۔محمد جنید کا دعویٰ ہے کہ ان کی آنکھوں پر پوری رات پٹی بندھی رہی اور اگلی صبح بھی ان سے بار بار یہی سوال کیا جاتا رہا کہ ‘احتجاج کرنے والے طلبہ کے لیے کھانے اور پانی کا انتظام کون کرتا ہے اور رقم کہاں سے آتی ہے۔ان کے مطابق انہوں نے پولیس کو بتایا کہ کھانے اور پانی کا انتظام لوگوں کے عطیات اور حامیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی اشیا کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ایک اور ویڈیو میں محمد جنید آبدیدہ ہوتے ہوئے کہتے ہیں ‘میں صرف طلبہ کی خدمت کر رہا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میرے ساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔ پوری رات مجھ سے یہی پوچھا جاتا رہا کہ کھانے کی فنڈنگ کس نے کی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں