میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، کرپٹ مافیا نے غیرقانونی وصولیوں کا بازار سجالیا

سندھ بلڈنگ، کرپٹ مافیا نے غیرقانونی وصولیوں کا بازار سجالیا

ویب ڈیسک
جمعرات, ۱۷ دسمبر ۲۰۲۰

شیئر کریں

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کرپٹ تجربہ کار کھلاڑیوں نے غیرقانونی وصولیوں کا بازار سجا رکھا ہے، سپریم کورٹ کے احکامات ریاستی،ادارتی قوانین سے کھلواڑ جاری، کرپٹ مافیا اپنی جیبیں بینک بیلنسں بھرنے میں مگن کرپشن کے بے تاج بادشاہ گر و سند یافتہ ڈائریکٹر گلشن زون محمد رقیب اور انکے ماتحت اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی خان نے دولت کے نشے میں مست ہوکر ادارتی بائی لاز کی دھجیاں بکھیر دی۔ رہائشی پلاٹ کی نوعیت تبدیل کرائے بغیر، بغیر نقشے اور بغیر اپرول منظوری کے 2 سے 3 منزلہ کمرشل فلیٹ،یونٹس،پورشن کی درجنوں غیر قانونی تعمیرات کو پروان چڑھایا اور اس غیرقانونی بزنس کے عوض بلڈر مافیا سے ہفتہ ماہانہ لاکھوں، کروڑوں بطور رشوت وصولی کے دھندے میں مدہوش ہیں۔ یاد رہے گلستان جوہر میں سینکڑوں غیرقانونی تعمیرات کے حوالے سے علی خان کافی شہرت رکھتے ہیں، انکے بارے میں انتہائی بااعتماد و باوثوق اندرونی ادارتی و علاقائی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس غیرقانونی دھندے کے عوض موصوف نے لاکھوں کروڑوں کی وصولیاں کی ہیں اور اس مد میں قومی و ادارتی خزانے کو لاکھوں کروڑوں کا چونا و جھٹکا دیا جارہا ہے۔ ادھر نئے ڈی جی کا چارج سنبھالنے والے شمس الدین سومرو کے احکامات محض کاغذات کی حد تک ہیں، جبکہ زمینی حقائق کے مطابق تاحال ایس بی سی اے میں سکہ اور راج کرپٹ مافیاکا چل رہا ہے۔ ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی خان نے اپنے حاصل شدہ ریاستی و ادارتی اختیارات کو فرائض منصبی کے بر خلاف بس مال بناؤ پالیسی میں تبدیل کردیا اور انھیں حاصل شدہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے مسجد کے پیش امام کو بھی بلڈر کا لائسنس جاری کرتے ہوئے بلڈر بنادیا، ان پیش امام کو استعمال کرتے ہوئے ادارتی بائی لاز کے برخلاف تعمیرات سمیت ناقص میٹریل و دیگر غیرقانونی عوامل کا کاروبار زور و شور سے جاری ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ ناقص میٹریل سے 2 سے 3 منزلہ عمارت بنا کر ایک طرف انسانی جانوں سے کھلواڑ کیا جارہا ہے تو دوسری جانب بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی، یوٹیلیٹی سروسز کی فراہمی میں بھی نقصانات و رکاوٹ بن رہی ہے شہریوں کو بنیادی سہولیات سے محروم کیا جارہا ہے، ان غیرقانونی تعمیرات کے سبب ان افسران کی مجرمانہ غفلت و چشم پوشی نے بلڈرز مافیا سے اپنے اختیارات کو فروخت کرتے ہوئے لاکھوں، کروڑوں کی غیرقانونی وصولیوں کا بازار سجا و جما رکھا ہے۔ گلشن اقبال زون 2 میں واقع گلستان جوہر کے پلاٹ نمبر C-37/3 بلاک نمبر 3-A پر بغیر نقشے اور بغیر اپرول منظوری کے رہائشی پلاٹ پر 2 منزلہ 2+G فلیٹ ٹائپ نما غیر قانونی تعمیرات شروع کروا رکھی ہیں۔ گلستان جوہر میں ہی واقع بلاک نمبر 11 کے پلاٹ نمبر B-253 پر دونوں کرپٹ و راشی افسران نے بلڈر سے بھاری رشوت وصول کر کے 3 منزلہ G+3 فلیٹ نما غیر قانونی تعمیرات شروع کروا کر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قوانین کو جوتے کی نوک پر رکھ رکھا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں