میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
4 ؍اکتوبر کا لانگ مارچ: عمران خان کی رہائی اور پاکستان کے سیاسی نظام کا اصل امتحان

4 ؍اکتوبر کا لانگ مارچ: عمران خان کی رہائی اور پاکستان کے سیاسی نظام کا اصل امتحان

جرات ڈیسک
پیر, ۲۸ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

نجم انوار
۔۔۔۔۔

٭حکومت نے مارچ سے پہلے جس بڑے پیمانے پر اسلام آباد کو بند کیا، ہزاروں اہلکار تعینات کیے ، کنٹینرز کھڑے کیے اور رکاوٹیں قائم کیں، اس سے یہ واضح ہے کہ ریاست اسے معمول کا سیاسی مظاہرہ نہیں سمجھ رہی

٭ تحریک انصاف نے مارچ ملتوی کرکے حکومت کی بنائی ہوئی پوری حفاظتی حکمت عملی کو ایک نئے سوال میں تبدیل کر دیا ، احتجاج 27؍ستمبر کو نہیں4؍اکتوبر کو ہونا ہے تو حکومت دارالحکومت کو کب تک اسی کیفیت میں رکھ سکتی ہے

٭پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق حکومت پہلے ہی وفاقی دارالحکومت اور کئی راستے بند کرکے بھاری انتظامی اخراجات کر چکی تھی، اس لیے احتجاج کو چند دن آگے لے جانا حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کا ذریعہ بھی بن سکتا تھا

٭تحریک انصاف وقت استعمال کرنا چاہتی ہے ،حکومت کا خرچ بڑھے ، اسلام آباد بند رہے، عوامی ناراضی بڑھے ، عالمی توجہ بڑھے ، اتحادیوں میں اختلاف بڑھے، مذاکرات کی ضرورت پیدا ہو۔

٭27؍ستمبر کا مارچ ملتوی ہوا ہے ، سیاسی بحران نہیں۔بلکہ 4؍اکتوبر تک پہنچتے پہنچتے حکومت نے پہلے ہی اسلام آباد کو غیر معمولی حفاظتی حصار میں لے کر اس بحران کو قومی اور عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے

٭کیا پاکستان کا موجودہ سیاسی نظام عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ کسی قابلِ عمل سیاسی سمجھوتے کی طرف بڑھ سکتا ہے ، یا دونوں فریق ایک مرتبہ پھر تصادم کے دائرے میں داخل ہونے والے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان تحریک انصاف نے 27؍ستمبر کو اسلام آباد کی طرف جانے والا لانگ مارچ ایک ہفتے کے لیے ملتوی کرکے اب 4 ؍اکتوبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے ۔ بظاہر یہ صرف ایک احتجاج کی نئی تاریخ ہے ، لیکن گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ فیصلہ حکومت اور تحریک انصاف دونوں کی حکمت عملی کے بارے میں کئی اہم سوال اٹھاتا ہے ۔

حکومت نے مارچ سے پہلے اسلام آباد اور اس کے داخلی راستوں کو جس بڑے پیمانے پر بند کیا، ہزاروں اہلکار تعینات کیے ، کنٹینرز
کھڑے کیے اور بعض راستوں پر رکاوٹیں قائم کیں، اس سے یہ واضح ہے کہ ریاست اس احتجاج کو معمول کا سیاسی مظاہرہ نہیں سمجھ رہی۔ دوسری طرف تحریک انصاف نے عین آخری مرحلے پر مارچ ملتوی کرکے حکومت کی بنائی ہوئی پوری حفاظتی حکمت عملی کو ایک نئے سوال میں تبدیل کر دیا ہے ،اگر احتجاج 27؍ستمبر کو نہیں بلکہ 4؍اکتوبر کو ہونا ہے تو حکومت اس دوران دارالحکومت کو کب تک اسی کیفیت میں رکھ سکتی ہے ؟
یہی وہ مقام ہے جہاں اس پورے معاملے کو صرف ‘‘لانگ مارچ’’ یا ‘‘عمران خان کی رہائی’’ کے عنوان سے دیکھنا ناکافی ہو جاتا ہے ۔
اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے :‘‘کیا پاکستان کا موجودہ سیاسی نظام عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ کسی قابلِ عمل سیاسی سمجھوتے کی طرف بڑھ سکتا ہے ، یا دونوں فریق ایک مرتبہ پھر تصادم کے ایسے دائرے میں داخل ہونے والے ہیں جس سے نکلنے کا راستہ کسی کے پاس واضح نہیں؟

تحریک انصاف کا لانگ مارچ موخر کیوں ہوا؟

27 ؍ستمبر سے 4 اکتوبر:پسپائی یا سیاسی چال؟
تحریک انصاف نے مارچ ملتوی کرنے کا فیصلہ سیاسی کمیٹی کی منظوری کے بعد کیا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اسے باقاعدہ طور پر سیاسی حکمت عملی قرار دیا۔ تاہم اندرونی ذرائع سے آنے والی رپورٹنگ میں ایک دوسرا پہلو بھی سامنے آیا۔پارٹی کے پاس راستے کھلوانے کے لیے مطلوبہ مشینری، نقل و حمل اور بعض عملی تیاریوں کی کمی تھی۔ بعض پارٹی رہنماؤں کے مطابق حکومت پہلے ہی وفاقی دارالحکومت اور کئی راستے بند کرکے بھاری انتظامی اخراجات کر چکی تھی، اس لیے احتجاج کو چند دن آگے لے جانا حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کا ذریعہ بھی بن سکتا تھا۔یہاں دونوں امکانات کو الگ الگ دیکھنا چاہیے ۔اگر صرف تیاری کی کمی کی وجہ سے مارچ ملتوی ہوا تو یہ تحریک انصاف کی تنظیمی کمزوری کی علامت ہے ۔لیکن اگر مقصد یہ تھا کہ حکومت کو پہلے ہی ایک بڑے حفاظتی انتظام میں الجھا دیا جائے ، پھر تاریخ آگے بڑھا کر اسے مزید دن اسی کیفیت میں رکھا جائے ، تو یہ ایک مختلف حکمت عملی ہے ۔دونوں باتیں بیک وقت بھی درست ہو سکتی ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ تحریک انصاف نے مارچ ختم نہیں کیا،اس نے صرف اس کی گھڑی آگے کی ہے ۔اور یہ فرق سیاسی اعتبار سے بہت اہم ہے ۔

اسلام آباد کو کنٹینر سٹی میں بدل دیا گیا

حکومت نے اسلام آباد کو قلعہ کیوں بنا دیا؟
مارچ سے پہلے اسلام آباد کے گرد غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ۔ بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹنگ کے مطابق دو ہزار سے زائد
کنٹینرز دارالحکومت اور اہم داخلی راستوں پر استعمال کیے گئے ، بڑی تعداد میں پولیس اور دیگر اہلکار تعینات کیے گئے اور خیبر پختونخوا کو اسلام آباد سے ملانے والے متعدد اہم راستوں پر رکاوٹیں قائم کی گئیں۔برطانوی اخبار گارڈین نے بھی اسلام آباد کو غیر معمولی حفاظتی حصار میں لیے جانے ، ہزاروں اہلکاروں کی تعیناتی اور راستوں کی بندش کو نمایاں کیا۔ اس کے مطابق دارالحکومت میں کاروباری اور شہری زندگی بھی ان اقدامات سے متاثر ہوئی۔حکومت کا مؤقف اس کے برعکس ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ مکمل بندش نہیں بلکہ شہریوں اور سرکاری تنصیبات کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات ہیں۔ حکومت ماضی کے احتجاجوں، خصوصاً پرتشدد واقعات، کو اپنے خدشات کی بنیاد قرار دیتی ہے ۔یہ مؤقف مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اس وقت خود شدید سلامتی کے مسائل سے دوچار ہے اور خیبر پختونخوا میں حالیہ حملوں نے ریاست کے خدشات کو مزید بڑھایا ہے ۔ 26؍ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک دھماکے میں بھی ہلاکتیں ہوئیں۔لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے ،کیا کسی سیاسی احتجاج کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پورے دارالحکومت اور اس سے ملنے والے راستوں کو اس پیمانے پر بند کرنا متناسب حفاظتی اقدام ہے ؟یہ سوال صرف تحریک انصاف نہیں اٹھا رہی۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پی ٹی آئی کارکنوں اور عمران خان کی بہنوں کی احتجاج سے پہلے گرفتاریوں کو بنیادی سیاسی و شہری حقوق کے حوالے سے شدید تشویش کا معاملہ قرار دیا ہے ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایمنسٹی کی رائے کو حکومت کے موقف پر حتمی فیصلہ سمجھ لیا جائے ۔ لیکن یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی حفاظتی حکمت عملی اب داخلی سیاست سے نکل کر پاکستان کی عالمی سیاسی تصویر کا بھی حصہ بن چکی ہے ۔

سب سے اہم سوال:حکومت عمران خان کو رہا کیوں نہیں کرتی؟
یہ سوال بظاہر بہت سادہ ہے ، مگر اس کا جواب صرف قانونی نہیں بلکہ سیاسی ہے ۔اگر عمران خان کو رہا کیا جاتا ہے تو فوری سوال یہ ہوگا کہ یہ رہائی کس بنیاد پر ہوئی؟اگر اسے عدالت کا نتیجہ کہا جاتا ہے تو حکومت کے لیے ایک قابلِ دفاع راستہ موجود ہے ۔اگر اسے کسی سیاسی سمجھوتے کا نتیجہ سمجھا گیا تو مسئلہ بدل جائے گا۔تب تحریک انصاف کے لیے یہ کہنا آسان ہوگا کہ دباؤ بڑھاؤ، ریاست پیچھے ہٹے گی۔یہی وہ نتیجہ ہے جس سے حکومت غالباً بچنا چاہتی ہے ۔اس لیے مسئلہ صرف عمران خان کی ذات نہیں۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کی رہائی کا سیاسی مطلب کیا بنے گا؟حکومت کے لیے سب سے مشکل صورت وہ ہوگی جس میں عمران خان کی رہائی کو تحریک انصاف کی سڑکوں پر حاصل ہونے والی کامیابی سمجھا جائے ۔لیکن دوسری طرف تین سال سے زائد عرصے کی قید کے باوجود عمران خان کی سیاسی مرکزیت ختم نہ ہونا بھی حکومت کے لیے ایک مسئلہ بن چکا ہے ۔ اگست میں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جبکہ ان کی جماعت اس سے پہلے ہی طبی سہولت اور رسائی کے معاملے کو سیاسی احتجاج کا حصہ بنا چکی تھی۔یعنی عمران خان کو قید رکھنے سے عمران خان کا سیاسی سوال ختم نہیں ہوا۔یہ حکومت کے لیے بنیادی دشواری ہے ۔

کیا تحریک انصاف عمران خان کی رہائی سے کم پر راضی ہوگی؟

کیا تحریک انصاف عمران خان کی مکمل رہائی سے کم پر راضی ہو سکتی ہے ؟
یہاں بہت باریک فرق سمجھنے کی ضرورت ہے ۔‘حتمی سیاسی مقصد’اور‘فوری مذاکراتی مطالبہ ’ایک چیز نہیں ہوتے ۔تحریک انصاف کے لیے عمران خان کی رہائی بنیادی مطالبہ ہے ۔ لیکن سیاسی مذاکرات میں اس تک پہنچنے کے لیے کئی درمیانی مرحلے ہو سکتے ہیں،عمران خان سے خاندان اور وکلا کی باقاعدہ ملاقات، مناسب طبی سہولت،مقدمات کی تیز سماعت،ضمانت یا سزا میں قانونی ریلیف،سیاسی کارکنوں کی رہائی، تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے گنجائش،حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان باقاعدہ مذاکرات۔اگر ان میں سے چند چیزیں بیک وقت ملتی ہیں تو تحریک انصاف انہیں ‘‘رہائی سے پہلے کی کامیابی’’ کے طور پر پیش کر سکتی ہے ۔اس امکان کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ حالیہ عرصے میں تحریک انصاف کی طرف سے مکمل محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کے اشارے بھی آئے ہیں۔
زلفی بخاری نے یہ مؤقف دیا کہ عمران خان کی رہائی کی صورت میں وہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ محاذ آرائی کی پالیسی اختیار نہیں کریں گے اور مثبت پیش رفت کا خیر مقدم کریں گے ۔یہ کسی معاہدے کا ثبوت نہیں، لیکن یہ ضرور بتاتا ہے کہ تحریک انصاف نے سیاسی مفاہمت کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا۔

اصل کشمکش شاید ‘‘رہائی’’ نہیں، ‘‘شرائط’’ پر ہے
یہ پورے بحران کو سمجھنے کی کلید ہے ۔حکومت شاید یہ نہیں چاہتی کہ عمران خان ہمیشہ جیل میں رہیں۔تحریک انصاف بھی شاید یہ نہیں چاہتی کہ ہر مسئلہ صرف سڑکوں پر حل ہو۔اصل سوال یہ ہے کہ رہائی کس طریقے سے ہو؟اور اس کے بعدعمران خان اور تحریک انصاف کا سیاسی کردار کیا ہو؟اگر عمران خان باہر آتے ہیں اور فوراً حکومت کے خاتمے ، نئے انتخابات اور ریاستی اداروں کے خلاف ایک نئی محاذ آرائی شروع ہوتی ہے تو حکومت کے لیے یہ سیاسی خطرہ بہت بڑا ہوگا۔لیکن اگر عمران خان کی رہائی کے ساتھ کوئی ایسا سیاسی سمجھوتہ بنتا ہے جس میں تحریک انصاف پارلیمانی اور آئینی سیاست کے راستے پر واپس آتی ہے ، تو یہی رہائی بحران کو کم کرنے کا آغاز بھی بن سکتی ہے ۔اس لیے مسئلہ عمران خان کی رہائی سے زیادہ رہائی کے بعد کے پاکستان کا ہے ۔

تحریک انصاف کا اصل امتحان بھی ابھی باقی ہے
تحریک انصاف کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی طاقت صرف عمران خان کی مقبولیت اور سماجی ذرائع ابلاغ تک محدود نہیں۔4؍اکتوبر کو تین سوال فیصلہ کن ہوں گے ،کتنے لوگ نکلتے ہیں؟کتنے علاقوں سے نکلتے ہیں؟کتنے دن تک نکلے رہتے ہیں؟اگر بڑی تعداد خیبر پختونخوا سے آتی ہے تو حکومت اسے ایک صوبائی سیاسی طاقت کے طور پر پیش کر سکتی ہے ۔اگر پنجاب کے بڑے شہروں سے بھی نمایاں شرکت ہوتی ہے تو معاملہ مختلف ہوگا۔اور اگر سندھ، بلوچستان، اسلام آباد اور پنجاب سے بھی قابلِ ذکر شرکت ہوتی ہے تو تحریک انصاف کے لیے یہ ایک زیادہ وسیع قومی سیاسی تحریک کا ثبوت بن سکتا ہے ۔لیکن تعداد بھی کافی نہیں ہوگی۔تحریک کو نظم و ضبط، پرامن احتجاج، قیادت کا باہمی اتفاق اور ایک واضح سیاسی ہدف دکھانا ہوگا۔البتہ ایک حکمت عملی کے طور پر تحریک انصاف خیبر پختونخوا سے عوامی شرکت کو وسیع بنا کر دوسرے مرحلے میں دوسرے صوبوں کی شرکت کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنا سکتی ہے تاکہ اس کے کارکنوں کو کم سے کم خطرات میں ڈالا جا سکے۔

5 ؍اکتوبر کا پہلو:عمران خان کی سالگرہ کو سیاسی علامت بنانا
4 ؍اکتوبر کے مارچ کے فوراً بعد 5؍اکتوبر عمران خان کی سالگرہ ہے ۔تحریک انصاف پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ اس موقع کو ‘‘یوم فتح’’ کے طور پر منانا چاہتی ہے ۔یہ محض جذباتی علامت نہیں۔اگر تحریک انصاف 4؍اکتوبر کو اسلام آباد کے قریب یا دارالحکومت میں بڑی تعداد جمع کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اور اگلے دن عمران خان کی سالگرہ کو ایک بڑے سیاسی اجتماع میں تبدیل کر دیتی ہے تو مارچ کا مقصد صرف دارالحکومت تک پہنچنا نہیں رہے گا۔وہ عمران خان کے لیے مسلسل سیاسی موجودگی کا مظاہرہ بن جائے گا۔دوسری طرف اگر حکومت اسے دارالحکومت میں داخل ہونے سے روک دیتی ہے تو وہ بھی اسے اپنی انتظامی کامیابی کے طور پر پیش کرے گی۔اس لیے 4اور 5اکتوبر کو الگ الگ دیکھنا شاید درست نہیں۔یہ ایک مسلسل دو روزہ سیاسی مرحلہ بن سکتا ہے ۔

سب سے نیا اور اہم زاویہ:صرف عمران خان کا غصہ نہیں، کئی ناراضیاں اکٹھی ہو رہی ہیں
یہ وہ پہلو ہے جسے نظرانداز کرنا خطرناک ہوگا۔الجزیرہ کی حالیہ تجزیاتی رپورٹ میں ایک اہم نکتہ سامنے آیا کہ حکومت کے لیے اصل تشویش صرف عمران خان کی حمایت نہیں بلکہ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور عمران خان کی مسلسل قید سے پیدا ہونے والی مختلف نوعیت کی ناراضگیوں کا ایک دوسرے سے جڑ جانابھی ہو سکتی ہے ۔یہ بہت اہم ہے ۔اگر ایک شخص عمران خان کے لیے نکلتا ہے ، دوسرا مہنگائی کے خلاف، تیسرا ایندھن کی قیمت کے خلاف، چوتھا عدلیہ کے لیے اور پانچواں انتخابی عمل پر اعتراض کے باعث، تو سب کی منزل ایک سیاسی احتجاج بن سکتی ہے ۔تب تحریک انصاف کا احتجاج محض ‘‘عمران خان کو رہا کرو’’ نہیں رہتا۔وہ حکومت کے خلاف مختلف شکایات کا مشترک پلیٹ فارم بن سکتا ہے ۔یہی چیز حکومت کے لیے زیادہ خطرناک ہے ۔

حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف جماعت اسلامی بھی سڑکوں پر ہے

جماعت اسلامی کا احتجاج بھی اسی بڑی تصویر کا حصہ ہے
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ تحریک انصاف اس وقت واحد جماعت نہیں جو حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سڑکوں پر ہے۔ جماعت اسلامی نے ایندھن اور عوامی بوجھ کے خلاف اسلام آباد کی طرف مارچ کیا اور اکتوبر میں دوبارہ احتجاج کی بات بھی کی ہے ۔ الجزیرہ نے اسی تناظر میں نشاندہی کی کہ اگر مختلف عوامی شکایات ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو حکومت کے لیے سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے ۔یہاں ایک بڑا فرق سمجھنا ضروری ہے ،الگ الگ احتجاج حکومت کے لیے قابلِ انتظام ہوتے ہیں؛ مختلف احتجاجوں کا ایک دوسرے سے جڑ جانا زیادہ بڑا سیاسی مسئلہ بن سکتا ہے ۔ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایسا اتحاد بن چکا ہے ۔لیکن امکان کو نظرانداز کرنا بھی درست نہیں۔

پیپلز پارٹی:حکومت کے اندر موجود ایک الگ سیاسی حقیقت
حکمران اتحاد کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی بھی ہر معاملے پر مسلم لیگ ن کے ساتھ ایک جیسی سوچ نہیں رکھتی۔مہنگائی، صوبائی اختیارات، وسائل کی تقسیم اور نئے صوبوں کے سوال پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔یہ اختلافات ابھی حکومت توڑنے کے مرحلے تک نہیں پہنچے ۔ لیکن ان کی اہمیت اس لیے ہے کہ اگر تحریک انصاف کا دباؤ بڑھتا ہے تو حکومت کو صرف تحریک انصاف سے نہیں بلکہ اپنے اتحادیوں کے سیاسی مفادات سے بھی نمٹنا ہوگا۔خاص طور پر ‘‘نئے صوبوں کا معاملہ’’اس وقت محض انتظامی اصلاح کا موضوع نہیں رہا۔

نئے صوبے :آنے والے بحران کا ایک ممکنہ الگ محاذ
محسن نقوی نے جولائی میں انتہائی واضح الفاظ میں کہا تھا کہ موجودہ حکومتی نظام ‘‘مکمل طور پر ناکام’’ ہو چکا ہے اور نئے انتظامی یونٹ یا صوبے بنانے کی ضرورت ہے ۔یہ بیان اس لیے اہم ہے کہ یہ کسی اپوزیشن رہنما یا سیاسی مبصر کا بیان نہیں بلکہ حکومت کے ایک انتہائی بااثر وزیر کا بیان ہے ۔لیکن نئے صوبوں کا سوال کھلتے ہی دوسرا مسئلہ پیدا ہواصوبائی طاقت کی تقسیم۔نئے صوبوں کا مطلب صرف نقشے پر نئی حد بندی نہیں۔اس کا تعلق ہوگا،قومی اسمبلی کی نشستوں سے ،سینیٹ کی طاقت سے ،وسائل کی تقسیم سے ،این ایف سی سے ،صوبائی سیاسی جماعتوں کے اثر و رسوخ سے، پنجاب کی سیاسی حیثیت سے ،سندھ کے علاقائی مفادات سے ،جنوبی پنجاب، ہزارہ اور دوسرے علاقوں کے مستقبل سے ۔اسی لیے پیپلز پارٹی کا اس معاملے پر حساس ہونا فطری سیاسی بات ہے ۔اگر نئے صوبوں کا سوال واقعی آگے بڑھتا ہے تو یہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک نئے طاقت کے تنازع کو جنم دے سکتا ہے ۔

  • حکومت کا امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے کنٹینرز لگا سکتی ہے ۔اس کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھتے ہوئے ایک بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ سیاسی راستہ کیسے نکالتی ہے ۔ریاستی اداروں کا امتحان یہ نہیں کہ وہ احتجاج روک سکتے ہیں یا نہیں۔اصل امتحان یہ ہے کہ کیا سیاسی تنازع کا مستقل حل طاقت کے بجائے آئینی اور سیاسی عمل کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے ۔اور عمران خان کا امتحان بھی صرف رہائی نہیں۔اگر وہ باہر آتے ہیں تو ان کے سامنے یہ سوال ہوگا کہ وہ اس مقبولیت کو مزید تصادم میں بدلتے ہیں یا اسے ایک نئے سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بناتے ہیں۔

نظام کی ناکامی کا اعلان محسن نقوی خود کر چکے ہیں

نظام ناکام ہو چکا ہے ، یہ جملہ اصل بحران کی طرف اشارہ کرتا ہے
یہاں محسن نقوی کا بیان دوبارہ سامنے آتا ہے ۔اگر موجودہ نظام واقعی اتنا کمزور ہے کہ اسے نئے صوبوں اور بنیادی انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے تو پھر عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ مستقل محاذ آرائی اس مسئلے کا حل کیسے بن سکتی ہے ؟یہاں پاکستان کے بحران کو صرف عمران خان کے نام سے جوڑنا غلطی ہوگی۔اصل مسئلہ زیادہ گہرا ہے ،حکومت کی سیاسی قبولیت، انتخابات پر اعتماد، عدلیہ پر اعتماد، مرکز اور صوبوں کے تعلقات، معاشی دباؤ اور ریاستی اداروں کے کرداریہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔عمران خان اس پورے بحران کا واحد سبب نہیں۔وہ اس بحران کا سب سے طاقتور سیاسی مرکز بن چکے ہیں۔

کیا ‘‘فارم 47’’ کا سوال اب بھی زندہ ہے ؟
2024کے انتخابات کے بعد انتخابی عمل، نتائج کی تیاری اور بعض حلقوں میں شفافیت کے بارے میں سنجیدہ اعتراضات سامنے آئے ۔ فافن نے بھی متعدد حلقوں میں نتائج کی تیاری اور مشاہدے کے عمل سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی تھی۔ موجودہ نظام کی ناکامی کا جب بھی سوال اُٹھے گا تو فطری طور پر اس کے ‘بندوبست’ پر بھی سوال اُٹھے گا۔ فارم 47 کا تنازع ہمیشہ اس حکومت کے تعاقب میں رہے گا۔ خاص طور پر جب خود اس نظام کے شریک بھی اس کی ناکامی کا اعلان کریں۔موجودہ حکومت کا وجود اپنی جگہ، لیکن اس کی سیاسی قبولیت اور انتخابی جواز پر ایک بڑا اور حل طلب تنازع موجود ہے ۔اور یہی تنازع عمران خان کی قید کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔

حکومت کے لیے اصل خطرہ کیا ہے ؟
حکومت کا فوری خطرہ شاید یہ نہیں کہ 4؍اکتوبر کو اچانک حکومت گر جائے گی۔زیادہ بڑا خطرہ یہ ہے کہ احتجاج، مہنگائی ، ایندھن کی قیمت ، انتخابی تنازع ، عمران خان کی قید اورصوبائی شکایات ایک دوسرے سے جڑ جائیں۔اس صورت میں ہر مسئلے کو الگ الگ حل کرنا مشکل ہو جائے گا۔اور یہی وجہ ہے کہ حکومت نے مارچ کو اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی روکنے کی کوشش کی۔لیکن اس حکمت عملی کا ایک الٹا اثر بھی ہے۔ جتنا زیادہ اسلام آباد بند ہوگا، اتنا ہی یہ سوال پیدا ہوگا کہ اگر حکومت مضبوط ہے تو اسے ایک سیاسی جماعت کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے پورا دارالحکومت کیوں بند کرنا پڑ رہا ہے ؟یہ سوال حکومت کے مخالفین کے لیے سیاسی ہتھیار بن سکتا ہے ۔

بین الاقوامی ردعمل:حکومت کے لیے بڑھتا ہوا مسئلہ
عالمی ذرائع ابلاغ نے اسلام آباد کی بندش، کنٹینرز، گرفتاریوں اور عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری کو نمایاں طور پر رپورٹ کیا ہے ۔ گارڈین نے اسلام آباد کو بند کیے جانے اور بڑے پیمانے پر پولیس تعیناتی کو اپنی رپورٹ کا مرکزی حصہ بنایا۔الجزیرہ نے بھی دارالحکومت کے راستوں کی بندش، ہزاروں کنٹینرز اور حفاظتی اقدامات کو تفصیل سے رپورٹ کیا، جبکہ یہ سوال اٹھایا کہ مختلف عوامی ناراضگیاں ایک دوسرے سے مل کر حکومت کے لیے بڑا سیاسی مسئلہ بن سکتی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے احتجاج سے پہلے گرفتاریوں کو بنیادی انسانی حقوق کے تناظر میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔یہ سب حکومت کو لازماً سیاسی طور پر شکست نہیں دیتا۔لیکن اس سے ایک اور چیز ضرور پیدا ہوتی ہے ، پاکستان کا اندرونی سیاسی بحران بین الاقوامی سیاسی اور انسانی حقوق کے بیانیے کا حصہ بنتا جا رہا ہے ۔

تحریک انصاف کے لیے سب سے بڑا خطرہ کیا ہے ؟
تحریک انصاف کے لیے سب سے بڑا خطرہ حکومت نہیں بلکہ ‘اپنی توقعات کا بوجھ’ہے ۔اگر وہ یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ 4؍اکتوبر کو چند لاکھ لوگ نکلیں گے اور اسی دن حکومت گر جائے گی یا عمران خان رہا ہو جائیں گے ، تو ایسی توقع پوری نہ ہونے کی صورت میں کارکنوں میں مایوسی پیدا ہو سکتی ہے ۔اس لیے تحریک انصاف کے لیے زیادہ حقیقت پسندانہ حکمت عملی یہ ہوگی کہ وہ احتجاج کو ایک ‘طویل سیاسی دباؤ’کے عمل کے طور پر دیکھے ، نہ کہ ایک دن کے معرکے کے طور پر۔اس حوالے سے ‘‘ٹیسٹ میچ’’ کی جو اصطلاح خود خیبر پختونخوا کی قیادت استعمال کر رہی ہے ، وہ دلچسپ ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت کم از کم بیانیے کی سطح پر اسے ایک دن کی جنگ نہیں بلکہ کئی دن کی سیاسی آزمائش سمجھ رہی ہے ۔

لیکن تحریک انصاف کے اندر بھی ایک سوال موجود ہے
تحریک انصاف نے مارچ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا، مگر اس عمل میں اس کے بعض اتحادیوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی نظر نہیں آئی۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے بعض رہنماؤں کو فیصلے کے طریقہ کار پر تحفظات تھے ۔ واضح ہے کہ مارچ کی نئی تاریخ طے کرنے سے پہلے اتحادیوں کے درمیان مکمل اتفاق نہیں تھا۔اور سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی مارچ کو ملتوی کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ یہ چھوٹی بات نہیں۔کیونکہ حکومت کے خلاف بڑی تحریک صرف ایک جماعت کے جوش سے نہیں چلتی۔اس کے لیے مرکزی قیادت ، صوبائی تنظیم ، اتحادی جماعتیں ، مقامی کارکن ، مالی وسائل ، نقل و حمل اور مسلسل سیاسی پیغام سب کی ضرورت ہوتی ہے ۔اگر یہ عناصر ایک دوسرے سے الگ سمتوں میں چلیں تو حکومت کو فائدہ ہوگا۔

اصل جنگ اب ‘‘سڑک’’ اور ‘‘ریاست’’ کے درمیان نہیں، ‘‘وقت’’ کے درمیان ہے
یہ شاید اس پورے معاملے کا سب سے اہم تجزیاتی نکتہ ہے ۔حکومت چاہتی ہے کہ وقت گزرے ،احتجاج کی شدت کم ہو، کارکن تھکیں ، گرفتاریاں اثر ڈالیں، راستے بند رہیں، لوگ گھروں میں رہیں ، سیاسی دباؤ کم ہو۔تحریک انصاف بھی وقت استعمال کرنا چاہتی ہے ،حکومت کا خرچ بڑھے ، اسلام آباد بند رہے، عوامی ناراضی بڑھے ، عالمی توجہ بڑھے ، اتحادیوں میں اختلاف بڑھے، مذاکرات کی ضرورت پیدا ہو۔
اسی لیے 27؍ستمبر سے 4؍اکتوبر کا فاصلہ دراصل ‘‘وقت کی جنگ’’ ہے ۔

شفا کے حکم سے آئینی عدالت تک، 16؍ستمبر کا پاکستان کے عدالتی نظام سے اصل سوال

اصل فیصلہ کن مرحلہ 4؍اکتوبر نہیں، 4؍اکتوبر کے بعد ہوگا
4 ؍اکتوبر کو لوگ نکل بھی آئے تو اصل سوال اگلے دن ہوگا۔اگر حکومت کہتی ہے ،کوئی مذاکرات نہیں۔اور تحریک انصاف کہتی ہے :رہائی سے کم کوئی بات نہیں۔تو تصادم جاری رہے گا۔لیکن اگر حکومت کہتی ہے :پرامن احتجاج کرو، مذاکرات کرو، قانونی معاملات عدالتوں میں طے ہوں گے ۔اور تحریک انصاف کہتی ہے ،ہم پرامن احتجاج کریں گے لیکن سیاسی مذاکرات بھی کریں گے ۔تو ایک درمیانی راستہ پیدا ہو سکتا ہے ۔یہی درمیانی راستہ اس وقت پورے نظام کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔

تین ممکنہ راستے
موجودہ شواہد کی بنیاد پر تین راستے دکھائی دیتے ہیں۔
پہلا راستہ:محدود مفاہمت
عمران خان کی رسائی، طبی سہولت، کارکنوں کی رہائی اور سیاسی مذاکرات میں پیش رفت ہو۔تحریک انصاف احتجاج کو محدود کرے ۔حکومت اسے اپنی پسپائی کے بجائے سیاسی عمل کی بحالی قرار دے ۔یہ سب سے کم تصادم والا راستہ ہوگا۔
دوسرا راستہ:انتظامی محاصرہ
حکومت احتجاج کو اسلام آباد میں داخل نہ ہونے دے ۔تحریک انصاف کچھ دن احتجاج کرے اور پھر واپس جائے ۔حکومت فوری طور پر انتظامی کامیابی کا دعویٰ کرے ۔لیکن سیاسی مسئلہ باقی رہے گا۔
تیسرا راستہ:تصادم
بڑی تعداد، راستوں پر جھڑپیں، گرفتاریاں، ممکنہ جانی نقصان اور مزید سخت حکومتی اقدامات۔اس صورت میں مسئلہ عمران خان کی رہائی سے کہیں آگے بڑھ کر **ریاست اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے درمیان بنیادی سیاسی تنازع** بن جائے گا۔

اصل ‘‘سرخ لکیر’’ کہاں ہے ؟
غور کیا جائے تو حکومت اور تحریک انصاف دونوں کی سرخ لکیر شاید ایک ہی جگہ ہے ۔حکومت نہیں چاہتی کہ عمران خان کی رہائی سڑک کے دباؤ کی فتح بنے ۔تحریک انصاف نہیں چاہتی کہ عمران خان کی رہائی کے بغیر سڑک کا دباؤ ختم ہو جائے ۔اس لیے اصل مذاکرات اس سوال پر ہوں گے ۔کیا عمران خان کے معاملے پر ایسا راستہ نکل سکتا ہے جس میں حکومت کو شکست کا تاثر نہ ہو اور تحریک انصاف کو بھی خالی ہاتھ واپس نہ جانا پڑے ؟اگر اس سوال کا جواب ہاں ہے تو سیاسی بحران کم ہو سکتا ہے ۔اگر جواب نہیں ہے تو 4؍اکتوبر شاید ایک نئے طویل مرحلے کا آغاز ہوگا۔

سب سے گہری بات:عمران خان مسئلہ بھی ہیں اور علامت بھی
پاکستان کے موجودہ بحران کو صرف عمران خان کے نام سے سمجھنا شاید سب سے بڑی فکری غلطی ہوگی۔اگر عمران خان کل رہا ہو جائیں تو بھی انتخابی تنازع باقی رہے گا،معیشت کے مسائل باقی رہیں گے ،صوبائی شکایات باقی رہیں گی،مرکز اور صوبوں کے تعلقات کا مسئلہ باقی رہے گا،عدلیہ اور سیاسی اداروں پر اعتماد کا سوال باقی رہے گا،ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تعلق کا مسئلہ باقی رہے گا۔اور اگر عمران خان جیل میں رہتے ہیں تو بھی یہ سوال ختم نہیں ہوں گے ۔اس لیے عمران خان اب صرف ایک سیاسی شخصیت نہیں رہے ۔وہ پاکستان کے اس بڑے سوال کی علامت بن گئے ہیں کہ سیاسی طاقت کا آخری فیصلہ کہاں ہوتا ہے ،انتخابات میں، پارلیمان میں، عدالت میں، سڑک پر یا کسی غیر منتخب طاقت کے ذریعے ؟جب تک اس سوال کا کوئی قابلِ قبول آئینی جواب نہیں نکلتا، حکومت بدلنے سے بھی بحران مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔

4؍اکتوبر دراصل کس کا امتحان ہے ؟
تحریک انصاف کا امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے لوگ اسلام آباد لے آتی ہے ۔اس کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کتنی بڑی، کتنی منظم، کتنی پرامن اور کتنی دیرپا سیاسی قوت ثابت ہوتی ہے ۔حکومت کا امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے کنٹینرز لگا سکتی ہے ۔اس کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھتے ہوئے ایک بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ سیاسی راستہ کیسے نکالتی ہے ۔ریاستی اداروں کا امتحان یہ نہیں کہ وہ احتجاج روک سکتے ہیں یا نہیں۔اصل امتحان یہ ہے کہ کیا سیاسی تنازع کا مستقل حل طاقت کے بجائے آئینی اور سیاسی عمل کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے ۔اور عمران خان کا امتحان بھی صرف رہائی نہیں۔اگر وہ باہر آتے ہیں تو ان کے سامنے یہ سوال ہوگا کہ وہ اس مقبولیت کو مزید تصادم میں بدلتے ہیں یا اسے ایک نئے سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بناتے ہیں۔اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم بات یہی ہے ،27؍ستمبر کا مارچ ملتوی ہوا ہے ، سیاسی بحران نہیں۔بلکہ 4؍اکتوبر تک پہنچتے پہنچتے حکومت نے پہلے ہی اسلام آباد کو غیر معمولی حفاظتی حصار میں لے کر اس بحران کو قومی اور عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے ۔ دوسری طرف تحریک انصاف نے تاریخ آگے کرکے حکومت کو اس حفاظتی انتظام کی سیاسی اور مالی قیمت مزید دنوں تک ادا کرنے کی صورت میں ڈال دیا ہے ۔اب اصل مقابلہ یہ نہیں کہ کون سڑک پر زیادہ طاقتور ہے ۔اصل مقابلہ یہ ہے کہ کون ایسا سیاسی راستہ نکالتا ہے جس میں ریاست کی رٹ بھی قائم رہے ، تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت بھی تسلیم ہو، عمران خان کے معاملے کا کوئی قابلِ قبول حل بھی نکلے ، اور پاکستان ایک اور بڑے تصادم سے بھی بچ جائے ۔اگر یہ راستہ نکل آتا ہے تو 4؍اکتوبر ایک بحران کا اختتام بن سکتا ہے ۔اگر یہ راستہ نہیں نکلتا تو 4اکتوبر محض ایک لانگ مارچ کی نئی تاریخ نہیں ہوگا۔یہ پاکستان کے موجودہ سیاسی بندوبست کے اگلے بڑے امتحان کی تاریخ ہوگی۔

٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں