میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پاکستان کی بہتر کریڈٹ ریٹنگ، مگر عوام کو کیا ملا؟

پاکستان کی بہتر کریڈٹ ریٹنگ، مگر عوام کو کیا ملا؟

جرات ڈیسک
منگل, ۲۸ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل (S&P Global)نے گزشتہ روز پاکستان کی طویل المدتی خودمختار (Sovereign)
کریڈٹ ریٹنگ ‘Bمائنس سے بڑھا کر ‘B’ کر دی ہے ۔

اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ گزشتہ8 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ پاکستان کی ریٹنگ 2019 میں B- تک گر گئی تھی، جبکہ 2022 کے آخر میں اسے مزید تنزلی کا سامنا کرتے ہوئے CCC+ کی درجہ بندی میں ڈال دیا گیا تھا۔

گزشتہ سال جولائی میں پاکستان دوبارہ B- کی سطح پر واپس آیا تھا اور اب ایک اور درجہ ترقی حاصل کر چکا ہے۔اس ملک کے عوام کی اکثریت کو یہ نہیں معلوم کہ کریڈٹ ریٹنگ کیا ہوتی ہے اور اس کی اہمیت کیوں ہے؟وہ تو ملک کے معاشی طور پر مستحکم یا غیرمستحکم ہونے کا اندازہ روزمرہ ضروریات کی اشیا کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے لگاتے ہیں اگر ان کو آٹا اور ضروریات زندگی کی دیگر اشیا ان کی یومیہ آمدنی میں آسانی سے مل جاتی ہیں تو وہ اسے غنیمت سمجھتے ہیں اور اگر ضروریات زندگی کی خریداری کے بعد معمولی سی رقم بھی بچ جائے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ملک اب بہتری کی جانب گامزن ہورہاہے۔اب جہاں تک کریڈٹ ریٹنگ کا سوال ہے تو سادہ الفاظ میں، کسی ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کو ایک فرد یا کاروبار کے کریڈٹ اسکورکی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف اس بات کا تعین کرتی ہے کہ کوئی ملک عالمی مالیاتی منڈیوں سے کس شرح سود اور کن شرائط پر قرض حاصل کر سکتا ہے بلکہ یہ اس کی معاشی مضبوطی اور استحکام کا بھی اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔ بہتر کریڈٹ ریٹنگ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتی ہے اور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔اسی لیے پاکستان کی بہتر کریڈٹ ریٹنگ کو اس بات کا مضبوط اشارہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ حالیہ برسوں میں ملکی معیشت میں کچھ بہتری آئی ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کی بنیادی وجہ ادارہ جاتی استحکام میں اضافہ ہے، جس نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے اصلاحاتی پروگرام پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کو ممکن بنایا۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ ملا اور ملک کے بیرونی مالیاتی ذخائر میں بہتری آئی۔ ریٹنگ ایجنسی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ستمبر 2024 میں آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) پروگرام کی منظوری پاکستان میں معاشی استحکام بحال کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنے کے لیے نہایت اہم ثابت ہوئی۔رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور محصولات بڑھانے کی کوششوں نے مالیاتی خسارہ کم کرنے کے عمل کو تیز کیا، جس کے باعث مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے مقابلے میں حکومتی قرضوں کے تناسب میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ اگرچہ حکومت کو اس معاشی استحکام کے حصول پر سراہا جا سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ اس استحکام کی اصل قیمت عوام نے ادا کی ہے۔ پاکستانیوں، خصوصاً تنخواہ دار طبقے سے زیادہ ٹیکس وصول کرنا، موجودہ حکومت کی سب سے نمایاں معاشی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر آج عام شہری سے پوچھا جائے کہ کیا اس کی معاشی حالت8 سال پہلے کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے، تو غالب امکان یہی ہے کہ اکثریت کا جواب نہیں ہوگا۔اس کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلیٹی بلوں میں اضافہ ہوا، مختلف شعبوں میں ٹیرف بڑھائے گئے اور ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھتا گیا۔ لیکن اس کے مقابلے میں عوام کو نہ تو آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ملا، نہ روزگار کے بہتر مواقع پیدا ہوئے اور نہ ہی سرمایہ کاری میں ایسا اضافہ دیکھنے میں آیا جس سے عام آدمی کی زندگی آسان ہو سکتی۔اگرچہ چند سال پہلے کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں مہنگائی میں قدرے کمی آئی تھی، لیکن اب افراطِ زر دوبارہ ڈبل ہندسوں میں پہنچ چکا ہے اور تقریباً ہر چیز ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہو چکی ہے۔ دوسری جانب
لوگوں کی تنخواہیں اسی رفتار سے نہیں بڑھ سکیں۔نئے مالی سال کے آغاز پر مہنگائی کے دباؤ میں دوبارہ اضافہ، خوراک اور توانائی کی قیمتیں تشویش کا باعث ہیں۔نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان میں مہنگائی کی رفتار ایک بار پھر تشویش کا باعث بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور عالمی توانائی منڈیوں میں دوبارہ پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اشیائے ضروریہ کی لاگت میں مزید اضافے کا خطرہ پیدا کر رہی ہیں۔جس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جون میں مجموعی مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد تک کم ہونے کے بعد اب جولائی میں یہ شرح بڑھ کر 9.1 فیصد تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ مارکیٹ کے تخمینوں کے مطابق مہنگائی میں اس ممکنہ اضافے کے باعث پالیسی ساز آئندہ شرحِ سود کے فیصلے میں محتاط رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مختلف اشیا اور خدمات کے شعبے میں سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ 11.3 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ اس کے بعد ملبوسات اور خوراک کی قیمتوں میں 9.1 فیصد، تعلیم میں 8.3 فیصد اور صحت کے شعبے میں 7.4 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔اسی طرح ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں کھانے پینے کی قیمتوں میں 5.4 فیصد جبکہ فرنیچر اور گھریلو سامان کی قیمتوں میں 5.9 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ تفریحی سرگرمیوں سے متعلق مہنگائی صرف 0.2 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ مواصلاتی خدمات کی قیمتوں میں 0.8 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ماہانہ بنیاد پر ریسٹورنٹس کی قیمتوں میں 0.4 فیصد اضافہ متوقع ہے، جبکہ ملبوسات، صحت، تعلیم اور تفریح کے شعبوں میں ہر ایک کے لیے 0.2 فیصد ماہانہ اضافہ متوقع ہے۔مارکیٹ کے ماہرین، گروتھ سیکیورٹیز اور جے ایس گلوبل نے جولائی کے لیے کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کی سالانہ مہنگائی 9اعشاریہ ایک فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ گروتھ سیکیورٹیز نے اس کے ساتھ ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 1.1 فیصد اضافے کی بھی پیش گوئی کی ہے۔اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ جولائی 2025 میں ریکارڈ کی گئی مہنگائی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوگا، جبکہ حکومت کی مالی سال 2026-27 کے لیے 8.2 فیصد اوسط مہنگائی کی پیش گوئی سے بھی زیادہ ہوگا۔ دوسری جانب، حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق 23 جولائی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح کم ہو کر 9.66 فیصد رہ گئی، جو اس سے قبل2 ہندسوں میں تھی۔ تاہم مجموعی رجحان میں بہتری کے باوجود کم آمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی اب بھی 2 ہندسوں میں برقرار ہے، جس سے معاشرے کے غریب ترین طبقات بدستور شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔معاشی استحکام کا اصل مقصد عوام کی زندگی بہتر بنانا ہونا چاہیے، مگر بدقسمتی سے پاکستان کے عام شہریوں کے پاس اس استحکام کے ثمرات کے طور پر دکھانے کے لیے بہت کم ہے۔اس کے ساتھ ایک دلچسپ تضاد بھی مو جود ہے پاکستان کی کریڈٹ میں یہ اضافہ اس بنیاد پر کیاگیاہے کہ آئی ایم ایف سے ملنے والے قرض کی وجہ سے حکومت کی مالی حالت میں بہتری آگئی ہے۔ کسی ملک کی کریڈٹ ریٹنگ اس بنیاد پر بہتر ہو کہ اس نے مزید قرض لینے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے، خواہ وہ قرض دنیا کے آخری مالیاتی سہارا فراہم کرنے والے ادارے یعنی آئی ایم ایف ہی سے کیوں نہ لیا گیا ہو، تو اس میں ایک عجیب سی منطق نظر آتی ہے۔کیا کسی ملک کے لیے مزید قرض حاصل کرنا آسان بنانے کے لیے پہلے مزید قرض لینا ضروری ہے؟ بظاہر یہ دلیل ایک دائرے میں گھومتی محسوس ہوتی ہے۔بہتر یہ ہوتا کہ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی بنیاد زیادہ مضبوط معاشی عوامل ہوتے، مثلاً غیر
ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ، پیداواری سرگرمیوں کا فروغ یا اقتصادی ترقی کی بلند شرح۔اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ موجودہ حکومت کی معاشی کامیابیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جائے۔ سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی، جس سے حالات مزید خراب ہوئے۔ یہ دعویٰ کرنا بھی آسان نہیں کہ آئی ایم ایف اور اس کی سخت اصلاحات کے بغیر پاکستان آج بہتر معاشی پوزیشن میں ہوتا۔تاہم ایک حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان ہمیشہ کے لیے اسی معاشی ٹریڈ مل پر نہیں چل سکتا، جہاں ہر بحران کا حل مزید قرض اور مزید اصلاحات ہوں۔ اسی طرح عوام سے بھی یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ مسلسل اصلاحات کی قیمت ادا کرتے رہیں، مگر اس کے بدلے انہیں اپنی زندگیوں میں بہتری، بہتر روزگار، زیادہ آمدنی اور خوشحالی کی صورت میں خاطر خواہ ثمرات کبھی نہ ملیں۔ملک کی معیشت کی اس صورت حال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے وزیراعظم اور درآمد شدہ وزیر خزانہ حکومتی اخراجات ،طویل ترین پروٹوکولز اور اشرافیہ کو دی گئی مراعات میں حقیقی بنیادوں پر کچھ کمی کرنے پر تیار ہوجائیں گے کیا ہمارے وزیر خزانہ ایف بی آر سے نت نئی گاڑیوں کی فرمائش کرنا بند کرنے پر تیار ہوجائیں گے تاکہ ملکی خزانے کو کچھ آکسیجن مل سکے،اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر قرضوں کی بنیاد پر کریڈٹ ریٹنگ پر بغلیں تو بجائی جاسکتی ہیں ملک اور عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں