30 سال بعد بھی گلشنِ روفی کے الاٹیز پلاٹس سے محروم
شیئر کریں
متاثرین کا 17 ستمبر کو اہل خانہ کے ہمراہ پرائیڈ بلڈرز کے دفتر کے باہر احتجاج کا اعلان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلشنِ روفی متاثرین ایکشن کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ گلشنِ روفی اور پرائیڈ بلڈرز کے متاثرہ الاٹیز 30 سال گزرنے کے باوجود اپنے پلاٹس کے حصول سے محروم ہیں اور انہیں اپنے جائز حقوق کیلئے تین دہائیوں سے دربدر ہونا پڑ رہا ہے۔
ایکشن کمیٹی نے متاثرین کے اہل خانہ کے ہمراہ 17 ستمبر کو پرائیڈ بلڈرز کے دفتر کے باہر پْرامن احتجاج کا اعلان کردیا۔گلشنِ روفی متاثرین ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں احمد منظور، ڈاکٹر جاوید، یوسف شیخ، سکندر، نثار، محمد قاسم، سید شہزاد مظہر اور دیگر اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس میں متاثرین کو طویل عرصے سے پلاٹس فراہم نہ کیے جانے پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔اجلاس کے شرکا نے الزام عائد کیا کہ سابق سینیٹر قاسم لاسی، ان کے بیٹے جہانزیب، رؤف روفی اور رحمت الٰہی کی جانب سے متاثرین کے مسائل حل کرنے کے بجائے مبینہ طور پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔
ایکشن کمیٹی کے مطابق متعلقہ افراد نے عدالتی اور نیب کے احکامات کو بھی نظر انداز کیا ہے۔متاثرین کا الزام ہے کہ گلشنِ روفی منصوبے کے منجمد ہونے اور پابندی عائد ہونے کے باوجود متاثرین کے پلاٹس مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے فروخت کیے گئے، جبکہ سینکڑوں الاٹیز گزشتہ تین دہائیوں سے اپنے پلاٹس کے حصول کیلئے مختلف متعلقہ اداروں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔
اجلاس میں متاثرین کے قانونی معاملات اور اپنے جائز حقوق کے حصول کیلئے پْرامن احتجاج کی حتمی حکمت عملی بھی طے کی گئی۔ ایکشن کمیٹی کے مطابق جمعرات 17 ستمبر کو دوپہر 2 بجے گلشنِ روفی پرائیڈ بلڈرز کے دفتر کے بالمقابل، وفاقی اردو یونیورسٹی گلشنِ اقبال کے قریب متاثرین اپنے اہل خانہ، خواتین اور بچوں کے ہمراہ بھرپور مگر پْرامن احتجاج کریں گے۔
ایکشن کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرین کی شکایات کا فوری نوٹس لیا جائے اور متعلقہ اداروں کو ان کے مسائل کے حل کیلئے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی جائے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ متعدد مرتبہ متعلقہ اداروں اور ذمہ داران کی توجہ متاثرین کے مسائل کی جانب مبذول کرائی جاچکی ہے، تاہم تین دہائیاں گزرنے کے باوجود معاملہ تاحال حل طلب ہے۔متاثرین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ انہیں مبینہ طور پر بااثر افراد سے تحفظ فراہم کیا جائے، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور پلاٹس کی فراہمی سمیت دیگر جائز مطالبات کا فوری ازالہ کیا جائے۔
ایکشن کمیٹی نے سول سوسائٹی اور میڈیا نمائندگان سے بھی احتجاج میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین پْرامن اور آئینی جدوجہد کے ذریعے اپنی آواز متعلقہ حکام تک پہنچائیں گے۔


