نظریہ کی ضرورت
شیئر کریں
ایک شخص نے اپنے استاد سے پوچھا، ‘‘ انسان کو نظریے کی ضرورت کیوں ہوتی ہے ؟ کیا عقل کافی نہیں’’؟ استاد نے مسکرا کر میز پر پڑا ہوا
ایک نقشہ اٹھایا اور کہا، ‘‘اگر تمہیں کسی نامعلوم شہر میں چھوڑ دیا جائے اور تمہارے پاس پیسہ، طاقت، گاڑی اور کھانے کا سامان سب کچھ ہو، لیکن راستے کا نقشہ نہ ہو تو کیا تم اپنی منزل تک پہنچ جاؤ گے ’’؟ شاگرد نے جواب دیا، ‘‘شاید نہیں’’۔ استاد نے کہا، ‘‘بس یہی نظریہ ہے ۔ وسائل تمہیں سفر کرنے کی طاقت دیتے ہیں، نظریہ تمہیں سمت دیتا ہے ’’۔
انسان کی سب سے بڑی مشکل یہ نہیں کہ وہ سوچتا نہیں، اصل مشکل یہ ہے کہ وہ کس بنیاد پر سوچتا ہے ۔ نظریہ دراصل خیالات، اصولوں،
عقائد، اقدار اور تصورات کا ایسا منظم مجموعہ ہے جو انسان، معاشرے ، قوم یا ریاست کو کسی خاص سمت میں سوچنے اور عمل کرنے کی فکری بنیاد فراہم کرتا ہے ۔ یہ محض ایک خیال نہیں بلکہ ایک ایسا تصورِ حیات یا فکری لائحہ عمل ہے جو انسان کے فیصلوں، ترجیحات اور طرزِ عمل پر اثرانداز ہوتا ہے ۔ اسی لیے نظریہ صرف کتابوں یا فلسفے کا موضوع نہیں، یہ عملی زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہوتا ہے ۔
دنیا میں تین طرح کے انسان دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ صرف جیتے ہیں اور مر جاتے ہیں، کچھ ایسے خیالات پیش کرتے ہیں جو ان کے بعد
بھی زندہ رہتے ہیں، اور کچھ کسی نظریے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا کر اس کے مطابق جدوجہد کرتے ہیں۔
ایک شخص طاقت کو فخر اور غلبے کا ذریعہ سمجھتا ہے ، دوسرا اسی طاقت کو ذمہ داری سمجھتا ہے ۔ طاقت ایک ہی ہے لیکن نظریہ بدلتے ہی اس کی تعبیر بدل جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کی بڑی تبدیلیاں صرف تلوار، توپ، سرمایہ یا ٹیکنالوجی سے نہیں آئیں، ان کے پیچھے ایک خیال، ایک تصور اور ایک نظریہ بھی موجود تھا۔دنیا کا ہر بڑا انقلاب پہلے کسی انسان کے ذہن میں پیدا ہوا، پھر اس نے فکر کو جنم دیا، فکر نے تحریک پیدا کی، تحریک نے تنظیم بنائی اور تنظیم نے بالآخر نظام کو متاثر کیا۔
نظریہ کا بنیادی کام سمت فراہم کرنا ہے ۔ کمپاس راستہ نہیں بناتا، لیکن سمت بتاتا ہے ۔ نظریہ بھی مسئلہ فوراً حل نہیں کرتا، مگر یہ طے کرتا ہے
کہ مسئلے کو دیکھنا کیسے ہے ۔ انسان جس چیز کو ناممکن سمجھتا ہے ، عموماً اس کے لیے کوشش بھی نہیں کرتا۔ اسی لیے نظریہ انسانی زندگی میں ذہنی نقشے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ایک نوجوان امتحان میں ناکام ہوجاتا ہے ۔ اگر اس کا نظریہ یہ ہے کہ ‘‘میں ناکام ہوں’’ تو وہ شاید کوشش چھوڑ دے ،
لیکن اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ ‘‘میری حکمتِ عملی ناکام ہوئی ہے ’’ تو وہ اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرے گا۔ دونوں کے سامنے ایک ہی نتیجہ ہے ، مگر نتیجے
کی تشریح مختلف ہونے سے اگلا عمل بھی مختلف ہوجاتا ہے ۔ یہی فرق فرد اور قوم دونوں کی زندگی میں نظر آتا ہے ۔ اگر ایک قوم یہ نظریہ اختیار
کرلے کہ اس کے مسائل ہمیشہ دوسرے لوگ حل کریں گے تو وہ انتظار کرتی رہے گی، لیکن اگر وہ یہ سمجھ لے کہ مسائل کا حل اس کی اپنی ذمہ
داری ہے تو وہ راستے تلاش کرے گی، اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گی۔ یوں نظریہ کسی قوم کو شناخت اور اجتماعی سمت دیتا ہے ،
لوگوں کو مشترکہ مقاصد کے تحت جوڑتا ہے اور انفرادی کوششوں کو اجتماعی عمل میں تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے ۔
نظریہ کے لفظی اور فلسفیانہ پس منظر کو دیکھا جائے تو اس کا تعلق قدیم یونانی لفظ ‘‘تھیوریا’’سے جوڑا جاتا ہے ، جس میں غور، مشاہدہ اور فکری بصیرت کا مفہوم پایا جاتا تھا۔ جدید مفہوم میں نظریہ کسی مظہر، نظام یا زندگی کے کسی پہلو کو سمجھنے کے لیے منظم خیالات اور اصولوں کا مجموعہ ہوسکتا ہے ۔ تاہم نظریہ اور نظریہ ٔحیات یا Ideology ہر جگہ ایک دوسرے کے عین مترادف نہیں۔ سائنسی نظریہ کسی قدرتی مظہر کی شواہد پر مبنی وضاحت ہوسکتا ہے ، جبکہ نظریۂ حیات یا Ideology زیادہ وسیع فکری نظام ہوتا ہے جو اقدار، مقاصد، سیاسی و سماجی تصورات اور عملی ترجیحات کو بھی اپنے اندر سمو سکتا ہے ۔
نظریات کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ مذہبی نظریہ مذہبی تعلیمات، عقائد اور اخلاقی اصولوں سے تشکیل پاتا ہے ۔ سیاسی نظریہ ریاست، حکومت، اقتدار، آزادی، حقوق اور فرائض کے بارے میں ایک مخصوص فکری تصور پیش کرتا ہے ۔ سائنسی نظریہ مشاہدات، تجربات اور شواہد کی بنیاد پر کسی قدرتی یا طبعی مظہر کی توضیح کرتا ہے ۔ سماجی نظریات انسانی معاشرے ، طبقاتی تعلقات، اداروں اور اجتماعی رویوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ معاشی نظریات پیداوار، دولت، تجارت، تقسیم اور وسائل کے استعمال کے بارے میں مخصوص تصورات پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر فرد کے اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدات سے بھی ایک مخصوص فکری تصور تشکیل پاتا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ نظریہ بنتا کیسے ہے ؟ انسانی سوچ کی جڑیں بہت گہری ہوتی ہیں۔ بچپن کا ماحول، والدین کی تربیت، تعلیم، معاشرتی
روایات، مذہبی تصورات، ثقافت، تاریخی واقعات، ذاتی تجربات، مشاہدات، کامیابیاں، ناکامیاں، خوف، خواہشات اور انسانی نفسیات
مل کر ذہن کا ایک مخصوص سانچہ بناتے ہیں۔ قوموں کے اجتماعی تجربات بھی ان کے نظریات کی تشکیل کرتے ہیں۔ کسی قوم پر جنگ مسلط ہو،
اسے غلامی کا تجربہ ہو، اسے معاشی محرومی کا سامنا ہو یا اسے کسی بڑی اجتماعی کامیابی کا تجربہ حاصل ہو، یہ سب عوامل اس کی اجتماعی سوچ پر
اثرانداز ہوسکتے ہیں۔لیکن نظریات ہمیشہ جامد نہیں رہتے ۔ بعض اوقات کوئی نیا علم، غیر معمولی تجربہ یا گہری بصیرت انسان کے ذہنی سانچے کو تبدیل کردیتی ہے ۔ ایک شخص کسی گروہ، جماعت یا تحریک سے وابستہ ہوکر مسلسل ایک ہی نوعیت کی معلومات سنتا رہے تو اس کے ذہن میں مخصوص نقطۂ نظر پیدا ہوسکتا ہے ۔ اسی طرح حالات بدلنے سے نظریات بھی بدل سکتے ہیں۔ تاریخ میں بہت سے افراد اور معاشرے ایسے گزرے ہیں جنہوں نے نئے تجربات، نئے شواہد یا بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں اپنی سابقہ سوچ پر نظرِ ثانی کی۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا بھی ضروری ہے ۔ فکر یا Thinking ایک مسلسل، وسیع اور لچک دار ذہنی عمل ہے ۔ زاویۂ نگاہ Angle of View کسی معاملے کو دیکھنے کا مخصوص رخ ہے ۔ نقطۂ نظر Point of View اس غور و فکر کے نتیجے میں قائم ہونے والی رائے یا
سوچ ہے ، جبکہ تناظر Context وہ وسیع پس منظر، حالات اور فریم ورک ہے جس میں کسی واقعے یا مسئلے کو سمجھا جاتا ہے ۔ موقف Stance کسی معاملے پر اختیار کیا گیا واضح مؤقف ہے ۔ جب خیالات منظم ہوکر اصولوں اور ایک وسیع فکری نظام کی صورت اختیار
کرتے ہیں تو وہ نظریے کی شکل اختیار کرسکتے ہیں، جبکہ عقیدہ اس سے مختلف نوعیت رکھتا ہے اور عموماً کسی ایسی بات یا حقیقت پر پختہ اعتقاد کو
ظاہر کرتا ہے جسے انسان سچ مانتا ہے ۔
نظریے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ انسان بغیر کسی فکری بنیاد کے مستقل اور بامقصد اجتماعی عمل نہیں کرسکتا۔ کوئی نظریہ اچھا ہو یا برا،
محض وجود میں آنے سے معاشرے پر اثرانداز نہیں ہوجاتا۔ اسے لوگوں تک پہنچانے ، سمجھانے اور اجتماعی عمل میں ڈھالنے کے لیے تحریک
کی ضرورت پڑ سکتی ہے ، اور تحریک کو مؤثر بنانے کے لیے تنظیم، افرادی قوت، تربیت، نظم و ضبط اور مسلسل جدوجہد درکار ہوتی ہے ۔ جب
ایک مشترکہ نظریہ لوگوں کو ایک مقصد پر متحد کرتا ہے تو انفرادی قوت اجتماعی قوت میں تبدیل ہوسکتی ہے ۔ اسی لیے تاریخ میں نظریات اور
تحریکوں کا تعلق بہت گہرا رہا ہے ۔مگر یہاں نظریے کا ایک خطرناک پہلو بھی سامنے آتا ہے : ہر نظریہ درست نہیں ہوتا۔ انسان غلط نظریے کے ساتھ پوری زندگی گزار سکتا ہے ۔ تعصب، انتقام، اندھی تقلید اور خود فریبی بھی کسی وقت منظم فکری سانچے کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ ایک غلط نظریہ انسان کو حقیقت سے دور لے جاسکتا ہے ، جبکہ ایک متوازن نظریہ اسے حقیقت کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے ۔ اس لیے صرف نظریہ رکھنا کافی نہیں، اپنے نظریے کو پرکھنا بھی ضروری ہے ۔
ایک صحت مند نظریہ سوال سے نہیں ڈرتا، اختلافِ رائے برداشت کرسکتا ہے ، نئے شواہد کو قبول کرنے کی گنجائش رکھتا ہے اور حقیقت کے سامنے اپنی اصلاح کرسکتا ہے ۔ سائنسی فکر کی طاقت بھی اسی اصول میں ہے ۔ سائنسی نظریات مشاہدے ، تجربے اور شواہد سے تقویت پاتے ہیں اور نئے شواہد آنے پر ان کی وضاحت میں تبدیلی ممکن ہوتی ہے ۔ علم اس وقت آگے بڑھتا ہے جب انسان اپنے سابقہ تصور کو حقیقت
سے بڑا نہیں سمجھتا۔اسی اصول کو ذاتی زندگی پر بھی لاگو کیا جاسکتا ہے ۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ’’میرے حالات کبھی نہیں بدل سکتے ‘‘ تو آپ حالات کے قیدی بن جاتے ہیں۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ’’مجھے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنی چاہیے ‘‘ تو آپ راستہ تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں۔ فرق بظاہر چند الفاظ کا ہے ، مگر یہی الفاظ فیصلوں کو بدلتے ہیں، فیصلے عادتیں بناتے ہیں، عادتیں کردار تشکیل دیتی ہیں اور کردار بالآخر زندگی کی سمت متعین کرتا ہے ۔
ایک اچھے اور زندہ نظریے کی کچھ بنیادی خصوصیات ہوتی ہیں۔ وہ جمود پیدا کرنے کے بجائے تعمیری تبدیلی کا محرک بنتا ہے ، زمینی حقائق
سے ہم آہنگ ہوتا ہے ، منطقی بنیاد رکھتا ہے ، قابلِ عمل ہوتا ہے ، وسیع انسانی مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، سادہ مگر سطحی نہیں ہوتا اور اپنیبنیادی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے نئے شواہد اور بدلتے حالات کے مطابق اصلاح کی گنجائش رکھتا ہے ۔ ایسا نظریہ انسانوں کو ایک دوسرے
سے نفرت کے لیے نہیں بلکہ کسی بامقصد تعمیر کے لیے جوڑتا ہے ۔شاید اسی لیے ایک پرانا قول ہے کہ انسان جیسا سوچتا ہے ، ویسا ہی دیکھنے لگتا ہے ۔
ہماری سب سے خطرناک قید وہ نہیں جس کی دیواریں دکھائی دیتی ہوں؛ خطرناک قید وہ ہے جس میں انسان کو اپنی ذہنی دیواریں نظر ہی نہ آئیں۔ نظریہ دراصل ذہن کی کھڑکی ہے ۔ کھڑکی صاف ہو تو دنیا واضح دکھائی دیتی ہے ، شیشہ دھندلا ہو تو منظر بھی دھندلا ہوجاتا ہے ۔
اس لیے زندگی میں نظریہ ضرور رکھیے ، مگر اپنے نظریے کو عقل کے ترازو میں تولتے رہیے ۔ اپنی سوچ سے محبت کیجیے ، مگر اپنی سوچ کو حقیقت سے بڑا مت بنائیے ۔ نظریہ راستہ دکھا سکتا ہے ، مگر منزل کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ منزل تک پہنچنے کے لیے نظریے کے ساتھ علم، عمل، تجربہ، مشاہدہ، صبر اور وقت بھی درکار ہوتے ہیں۔ شاید زندگی کا اصل کمال یہی ہے کہ انسان کے پاس ایک سمت ہو، مگر اپنی سمت پر نظرِ ثانی کرنے کی آزادی بھی ہو؛ اس کے پاس یقین ہو، مگر سوال کی گنجائش بھی ہو؛ اس کے پاس نظریہ ہو، مگر حقیقت کو نظریے کے تابع بنانے کی ضد نہ ہو۔کیونکہ نظریہ اگر عقل، علم اور حقیقت سے جڑ جائے تو انسان کو سمت دیتا ہے ، اور اگر تعصب، جمود اور خود فریبی سے جڑ جائے تو وہی نظریہ انسان کے لیے قید بن سکتا ہے ۔ اصل دانش مندی کسی نظریے کا اندھا پیروکار بننا نہیں، بلکہ ایسا فکری سفر جاری رکھنا ہے جس میں انسان اپنی سمت بھی جانتا ہو اور ضرورت پڑنے پر اپنا نقشہ دوبارہ دیکھنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہو۔
نظریات کی ضرورت کیوں ؟ کے عنوان سے جبار قریشی صاحب روذنامہ ایکسپریس میں اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ کوئی نظریہ اچھا ہو یا برا خود بخود فروغ نہیں پاتا، عمومی طور پر لوگ فاتح یا غالب نظریات سے متاثر ہوتے ہیں نظریہ خواہ کتنا ہی طاقتور اور انقلابی کیوں نہ ہو، اسے لوگوں تک پہنچانے کے لیے تحریک برپا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ، نظریہ اپنے پھیلاؤ اور عوام الناس تک پہنچنے کے لیے تحریک کا محتاج ہوتا ہے ، تحریک برپا کرنے کے لیے تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے ، تنظیم کی کامیابی کا تعلق افرادی قوت اس کی تربیت نظم و ضبط اور اس کے متحرک ہونے سے ہے ۔ نظریہ ان لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر منظم کرکے ان میں باہمی اتحاد اور محبت پیدا کرکے تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔ اور نظریہ ہی کسی انسان کے زندگی کا رخ متعین کرتا ہے ۔ نظریاتی پختگی، سوچ اور فکر کے حوالے سے جون ایلیا کا یہ منفرد شعر بہت پسند کیا جاتا ہے کہ
کیا ستم ہے کہ اب ترے پاس بھی
صرف باتیں ہیں، نظریات نہیں
ساحر لدھیانوی کہتے ہیں کہ
لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے
کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم
٭٭٭


