جب شہر سونے کا ہو اور انسان بھوکا!
شیئر کریں
انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان نے جنگیں لڑیں، بادشاہتیں قائم کیں، سلطنتیں فتح کیں اور شہر اجاڑے؛ اصل المیہ یہ
ہے کہ انسان نے ہر عہد میں اپنے سامنے ہونے والے دکھ کو دیکھنے کے لیے آنکھیں تو رکھیں، مگر اسے محسوس کرنے کے لیے دل نہیں رکھا۔
آسکر وائلڈ کاThe Happy Prince اسی انسانی المیے کی ایک ایسی داستان ہے جو پریوں کی کہانی کے لباس میں لکھی گئی، مگر اس
کے اندر پوری انسانی تہذیب کا پوسٹ مارٹم چھپا ہوا ہے۔ یہ 1888 میںThe Happy Prince and Other Tales کے عنوان سے شائع ہوئی۔ بظاہر یہ ایک شہزادے اور ایک پرندے کی کہانی ہے، لیکن حقیقت میں یہ اقتدار، دولت، طبقاتی تقسیم، غربت، ضمیر اور قربانی کے درمیان کھڑی انسانی تاریخ کی کہانی ہے۔ شہر کے وسط میں ایک بلند ستون پر ایک خوبصورت شہزادے کا مجسمہ کھڑا ہے۔
اس کے جسم پر سونا چڑھا ہوا ہے، آنکھوں میں قیمتی پتھر ہیں، اور اس کے پاس دنیا کی ہر ظاہری خوبصورتی موجود ہے۔ لوگ اسے Happy Prince کہتے ہیں۔لیکن مرنے کے بعد پہلی مرتبہ شہزادہ دیکھتا ہے۔یہاں وائلڈ انسانی تاریخ کا سب سے خوفناک فلسفیانہ سوال اٹھاتا
ہے:کیا انسان واقعی تب دیکھنا شروع کرتا ہے جب اس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں رہتا؟زندگی میں شہزادہ محل کے اندر رہا تھا۔ اسے
دکھ معلوم نہ تھا۔ اس نے غربت نہیں دیکھی تھی۔ بھوک اس کے لیے فلسفیانہ تصور بھی نہیں تھی۔ اس کے اردگرد حسن تھا، موسیقی تھی، دولت تھی،
جشن تھا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ وہ خوش ہے، اس لیے وہ خوش تھا۔ یہیں سے وائلڈ جدید تہذیب کے ایک بنیادی جھوٹ کو پکڑ لیتا ہے، اکثر
انسان اپنی زندگی نہیں جیتا، اسے دوسروں کے بنائے ہوئے معنی کے مطابق جینا سکھایا جاتا ہے۔
قدیم مصر کے فرعون سے لے کر روم کے شہنشاہ تک، قرونِ وسطیٰ کے بادشاہوں سے جدید ریاستوں تک، تاریخ میں اقتدار ہمیشہ صرف تلوار سے نہیں چلتا رہا۔ وہ ایک اور طاقت سے بھی چلتا رہا ہے، لوگوں کو یہ باور کرانے کی طاقت کہ جو کچھ ہے، یہی فطری ہے۔بادشاہ کا محل فطری ہے۔غریب کی جھونپڑی فطری ہے۔ امیر کا دسترخوان فطری ہے۔فقیر کی بھوک فطری ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی نفسیات سیاست کا سب سے خطرناک آلہ بن جاتی ہے۔انسان جب مسلسل کسی ناانصافی کو دیکھتا ہے تو ایک عجیب نفسیاتی عمل شروع ہوتا ہے۔ ظلم پہلے اسے چونکاتا ہے، پھر پریشان کرتا ہے، پھر تھکاتا ہے، اور آخرکار معمول بن جاتا ہے۔انسان ظلم سے اتنا نہیں مرتا جتنا ظلم کے معمول بن جانے سے مرتا ہے۔وائلڈ کا شہزادہ اسی معمول کے خلاف ایک مجسمہ بن کر کھڑا ہے۔اس کی آنکھیں قیمتی پتھر ہیں، مگر پہلی مرتبہ وہ ان قیمتی آنکھوں سے شہر کے غریب لوگوں کو دیکھتا ہے۔وہ ایک سلائی کرنے والی عورت کو دیکھتا ہے۔اس کا بیمار بچہ دیکھتا ہے۔وہ ایک نوجوان مصنف کو دیکھتا ہے جو سردی میں کام کر رہا ہے۔وہ ایک غریب لڑکی کو دیکھتا ہے۔اور تب اسے احساس ہوتا ہے کہ جس شہر میں اسے -93خوش نصیب-94 کہا جاتا تھا، وہاں بے شمار لوگ خوش نصیب نہیں، صرف زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔یہاں وائلڈ سقراط کے اس بنیادی تصور کے قریب پہنچ جاتا ہے کہ زندگی کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ہم کیسے زندہ رہیں؛ سوال یہ ہے کہ ہم کس قسم کی زندگی کو زندگی کہنے کے قابل سمجھتے ہیں۔ افلاطون کی Republic سے لے کر ارسطو کی Politics تک، ابن خلدون کے عصبیت کے تصور سے لے کر ہابس، لاک، روسو، مارکس اور بعد کے سیاسی مفکرین تک انسانی فکر بار بار ایک ہی سوال کے گرد گھومتی رہی:طاقت کس کے پاس ہے، دولت کس کے پاس ہے، اور انسان کس کے لیے زندہ ہے؟
تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ ہر دور نے برابری کی بات کی، مگر تقریباً ہر دور نے نئی نابرابری پیدا کی۔بادشاہت ختم ہوئی تو اشرافیہ آئی۔ اشرافیہ کے بعد سرمایہ دارانہ طاقتیں آئیں۔سلطنتیں ختم ہوئیں تو ریاستی طاقتیں آئیں۔نوآبادیاتی جھنڈے اترے تو اقتصادی انحصار کے نئے طریقے پیدا ہوئے۔زنجیر کی شکل بدلتی رہی، مگر سوال وہی رہا:زنجیر کس کے ہاتھ میں ہے؟مارکس نے سرمایہ اور طبقاتی طاقت کے ذریعے اسی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی۔ فریڈرک اینگلز اور بعد کے سماجی مفکرین نے بھی غربت کو صرف فرد کی ناکامی نہیں بلکہ سماجی ساخت سے جوڑ کر دیکھا۔ وائلڈ خود بھی بعد میں The Soul of Man under Socialism میں فرد، ملکیت اور سماجی نظام کے سوالات سے براہِ راست الجھے۔مگر The Happy Prince کی اصل شدت یہاں ہے کہ وائلڈ انقلاب کا نعرہ نہیں لگاتا؛ وہ ضمیر کو بیدار کرتا ہے۔اور ضمیر کبھی کبھی انقلاب سے زیادہ خطرناک چیز ہوتا ہے۔کیونکہ انقلاب محل گرا سکتا ہے، مگر ضمیر انسان کے اندر کا محل گراتا ہے۔شہزادہ اپنے جسم سے سونا اتروا کر غریبوں میں بانٹ دیتا ہے۔پھر اپنی قیمتی آنکھیں دے دیتا ہے۔پھر آخر میں اس کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ یہاں کہانی قربانی سے آگے بڑھ کر ایک فلسفیانہ سوال بن جاتی ہے:کیا کسی انسان کا خوبصورت ہونا اس وقت تک بے معنی ہے جب تک وہ کسی دوسرے کے دکھ کو کم نہ کرے؟قدیم یونان میں Arete یعنی انسانی فضیلت کا سوال اٹھایا گیا۔رومی فلسفے میں Stoics نے اندرونی اخلاقی قوت پر زور دیا۔عیسائی روایت نے قربانی اور دوسروں کے لیے محبت کو مرکزی اخلاقی قدر بنایا۔
اسلامی تہذیب میں زکوٰۃ، صدقہ، عدل اور امانت کے ذریعے دولت اور سماجی ذمہ داری کا سوال اٹھایا گیا۔بدھ مت نے دکھ کو انسانی وجود کا
مرکزی مسئلہ سمجھا۔اور جدید فلسفے نے فرد، آزادی، طبقے اور طاقت کے سوالات کو نئے انداز میں اٹھایا۔مگر تاریخ کا حیرت انگیز المیہ یہ ہے کہ
انسان نے اخلاق کے بارے میں ہزاروں کتابیں لکھیں، لیکن بھوک آج بھی فلسفے سے زیادہ طاقتور حقیقت ہے۔ایک بھوکے انسان کو فلسفہ نہیں، روٹی چاہیے۔ ایک بے گھر انسان کو جمالیات نہیں، چھت چاہیے۔ایک مظلوم انسان کو تقریر نہیں، انصاف چاہیے۔یہی وجہ ہے کہ وائلڈ کی کہانی آج بھی زندہ ہے۔کیونکہ اس میں پرندہ صرف پرندہ نہیں۔وہ انسانی ضمیر ہے۔اور شہزادہ صرف شہزادہ نہیں۔وہ وہ انسان ہے جو پہلی مرتبہ اپنی آسائش کے باہر موجود دنیا کو دیکھتا ہے۔
پرندہ گرم ملکوں کی طرف جا سکتا تھا۔اس کے پاس آزادی تھی۔لیکن وہ رک گیا۔ کیونکہ پہلی مرتبہ اس نے کسی دوسرے کے دکھ کو اپنا مسئلہ سمجھا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان اور صرف -93زندہ مخلوق-94 کے درمیان فرق پیدا ہوتا ہے۔دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ لینا شاید انسان ہونے کی آخری تعریف ہے۔پاکستان میں اس سوال کی گونج اور بھی زیادہ تلخ ہو جاتی ہے۔ یہاں بھی بڑے بڑے ایوان ہیں، شاندار عمارتیں ہیں، پروٹوکول ہے، سرکاری گاڑیاں ہیں، سیاسی نعروں کی گونج ہے، طاقت کے مراکز ہیں؛ مگر اسی معاشرے میں غربت، بے روزگاری، تعلیم کی محرومی، صحت کے مسائل، مہنگائی اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے دوچار انسان بھی موجود ہے۔یہاں بھی کبھی کبھی ریاست کا چہرہ سونے سے ڈھکا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے نیچے کھڑا عام آدمی اپنی زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لیے ترستا ہے۔ یہاں Happy Prince کا سوال اور بھی تلخ ہو جاتا ہے:کیا ہم بھی ایسے شہزادے ہیں جو اپنے شہر کو دیکھتے ہوئے بھی اسے دیکھ نہیں رہے؟
پاکستانی تاریخ کا المیہ صرف یہ نہیں کہ حکمران بدلتے رہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عام انسان کی زندگی کے بنیادی سوال اکثر طاقت کے کھیل میں پیچھے رہ گئے۔ جمہوریت آئی، آمریت آئی، حکومتیں بدلیں، آئین میں ترامیم ہوئیں، نعرے بدلے، جماعتیں بدلیں، چہرے بدلے، لیکن اگر ایک غریب باپ آج بھی اپنے بچے کی تعلیم، علاج اور روزگار کے لیے بے بس ہے تو پھر تاریخ کے بڑے بڑے سیاسی عنوان اس کے لیے کس قدر معنی رکھتے ہیں؟ یہاں وائلڈ کا شہزادہ ہمیں ایک عجیب آئینہ دکھاتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اقتدار کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ حکمران کے محل کتنے بڑے ہیں؛ اصل آزمائش یہ ہے کہ اس کے شہر میں سب سے کمزور انسان کس حالت میں ہے۔اور شاید یہی کسی بھی ریاست، کسی بھی حکومت، کسی بھی تہذیب اور کسی بھی انسان کے اخلاقی وجود کا سب سے سخت امتحان ہے۔ کہانی کے آخر میں شہزادہ اور پرندہ دونوں فنا ہو جاتے ہیں۔شہر انہیں تقریباً بھول جاتا ہے۔دنیا اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے۔یہاں وائلڈ انسانی تاریخ کے ایک اور تلخ راز کو ظاہر کرتا ہے:دنیا اکثر اپنے محسنوں کو اس وقت پہچانتی ہے جب وہ جا چکے ہوتے ہیں۔ لیکن شاید کہانی کا اصل انجام وہاں نہیں جہاں شہزادہ مرتا ہے۔ اصل انجام وہاں ہے جہاں ایک انسان دوسری انسان کی تکلیف کو پہلی مرتبہ اپنے وجود کا حصہ سمجھتا ہے۔وہیں اخلاق پیدا
ہوتا ہے۔وہیں فلسفہ پیدا ہوتا ہے۔ وہیں انسان پیدا ہوتا ہے۔اور شاید اسی لیے The Happy Prince بچوں کی کہانی نہیں؛ یہ بڑوں کے لیے لکھی گئی ایک ایسی اخلاقی فردِ جرم ہے جس میں پوری انسانی تاریخ کٹہرے میں کھڑی ہے۔بادشاہتیں کٹہرے میں ہیں۔ سرمایہ کٹہرے میں ہے۔ ریاست کٹہرے میں ہے۔طبقاتی نظام کٹہرے میں ہے۔اور سب سے آخر میں ہم خود کٹہرے میں ہیں۔
٭٭٭


