میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
فیڈرل ڈریمز ریونیو اتھارٹی

فیڈرل ڈریمز ریونیو اتھارٹی

جرات ڈیسک
هفته, ۲۵ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان میں اب شاید ہی کوئی ایسی چیز باقی رہ گئی ہو جس پر کسی نہ کسی شکل میں ٹیکس نہ ہو۔ روٹی خریدیں تو ٹیکس، چائے پئیں تو ٹیکس، بجلی جلائیں تو ٹیکس، موبائل استعمال کریں تو ٹیکس، پٹرول ڈلوائیں تو ٹیکس، بینک سے اپنی ہی کمائی نکالیں تو بھی ٹیکس۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شہری اپنی آمدنی سے زیادہ ٹیکسوں کی فہرست یاد رکھنے پر مجبور ہو گیا ہو۔ کہتے ہیں کسی معاشرے کی اصل طاقت اس کا مضبوط متوسط طبقہ ہوتا ہے۔ یہی طبقہ معیشت کو سہارا دیتا ہے، کاروبار چلاتا ہے، بچوں کو تعلیم دلاتا ہے اور ریاست کے لیے سب سے زیادہ ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔ مگر آج پاکستان میں یہی طبقہ سکڑتے سکڑتے اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں بہت سے لوگ خود سے یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ وہ آخر متوسط ہیں بھی یا نہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کی دولت بڑھتی جا رہی ہے، دوسری طرف وہ کروڑوں لوگ ہیں جن کے لیے مہینے کے آخری دس دن سب سے بڑے امتحان بن چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک میں ایسے بااثر طبقات بھی موجود ہیں جو مختلف راستوں سے ٹیکس سے بچ نکلتے ہیں، جبکہ ایک عام آدمی کے لیے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ وہ کچھ خریدے یا نہ خریدے، سفر کرے یا نہ کرے، بجلی استعمال کرے یا موم بتی جلائے، کسی نہ کسی شکل میں اس کی جیب سے رقم نکل ہی جاتی ہے۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ ریاست نے غریب آدمی کو چلتا پھرتا ریونیو دفتر سمجھ لیا ہے۔ اور پھر ایک خیال ذہن میں آتا ہے۔ اگر یہی سلسلہ اسی رفتار سے چلتا رہا تو شاید ایک دن حکومت اعلان کر دے کہ اب خواب بھی مفت نہیں دیکھے جا سکتے۔ ہر خواب کی قیمت ہوگی، ہر امید کا چالان ہوگا، اور ہر خواہش پر ایک نیا ٹیکس نافذ ہوگا۔ آخر جب جاگتی آنکھوں کی ہر ضرورت پر محصول وصول کیا جا سکتا ہے تو سوتی آنکھوں کے خواب کیوں مستثنیٰ رہیں؟ پہلے پہل یہ خیال بے حد مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے، لیکن جب حقیقت خود طنز بن جائے تو پھر طنز اور حقیقت کے درمیان فاصلہ بھی کہاں باقی رہتا ہے؟

پاکستان میں شاید وہ وقت بھی زیادہ دور نہیں جب حکومت ایک نئی پریس کانفرنس میں اعلان کرے کہ ملک کے معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے اب خوابوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے۔ آخر خواب بھی تو ایک اثاثہ ہیں، ان کی بھی کوئی نہ کوئی معاشی قدر ہونی چاہیے۔ پھر ایک نیا محکمہ قائم ہوگا، ’’فیڈرل ڈریمز ریونیو اتھارٹی ‘‘۔ جس کا کام ہوگا لوگوں کے خوابوں کا ریکارڈ رکھنا۔ رات کو جو شخص محل کا خواب دیکھے گا، صبح اس کے موبائل پر پیغام آئے گا کہ آپ نے مہنگا خواب دیکھا ہے، براہِ کرم اس کا ٹیکس سات دن کے اندر جمع کروا دیں، بصورتِ دیگر جرمانہ اور سرچارج بھی وصول کیا جائے گا۔

ہوسکتا ہے غریب آدمی پھر بھی کوئی راستہ نکال لے۔ وہ سونے سے پہلے اپنے بچوں کو نصیحت کرے کہ بیٹا! بڑے خواب مت دیکھنا، حکومت جاگ رہی ہے۔ صرف اتنا خواب دیکھنا کہ کل آٹا مل جائے، بجلی کا بل ادا ہوجائے اور گیس آجائے، کیونکہ اس درجے کے خواب شاید ابھی ٹیکس فری ہوں۔ لیکن اگر غلطی سے تم نے یہ خواب دیکھ لیا کہ تم ڈاکٹر بنو گے، انجینئر بنو گے، سائنس دان بنو گے یا اپنا کاروبار کھڑا کرو گے تو یاد رکھنا، یہ لگژری خواب شمار ہوں گے اور ان پر اضافی محصول لاگو ہوگا۔ یہ سب پڑھ کر ہنسی ضرور آتی ہے، مگر اس ہنسی کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی چھپی ہوئی ہے۔ جب ایک نوجوان اپنی پہلی تنخواہ سے پہلے ہی درجنوں بالواسطہ ٹیکس ادا کر رہا ہو، جب ایک ریڑھی والا، مزدور، کسان، کلرک اور استاد ہر خریدی جانے والی چیز میں ٹیکس دے رہا ہو، جبکہ طاقتور طبقے کے لیے بچ نکلنے کے راستے موجود ہوں، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس ملک کا اصل ٹیکس دہندہ کون ہے؟

وہ جو کروڑوں کماتا ہے یا وہ جو دو وقت کی روٹی کے لیے دن رات محنت کرتا ہے؟ اور شاید سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ غریب ٹیکس دے رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسے احساس بھی نہیں کہ وہ ہر روز کتنی بار ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ اس کی جیب سے نکلنے والا ہر نوٹ کسی نہ کسی نام سے کٹ جاتا ہے، لیکن اس کے حصے میں نہ معیاری تعلیم آتی ہے، نہ علاج، نہ صاف پانی، نہ محفوظ سڑکیں اور نہ ہی ایسا مستقبل جس پر وہ اپنے بچوں کے ساتھ فخر کر سکے۔ اب اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو ڈر صرف اس بات کا ہے کہ کل کہیں واقعی خوابوں پر ٹیکس لگانے کی ضرورت نہ پڑ جائے، کیونکہ جس معاشرے میں امید مہنگی ہو جائے، وہاں خواب خود بخود غریب آدمی کی پہنچ سے باہر چلے جاتے ہیں۔

ایک لمحے کے لیے سیاست، معیشت اور اعداد و شمار کو ایک طرف رکھ کر صرف یہ سوال خود سے پوچھیے کہ کیا کسی قوم سے اس کے خواب بھی چھین لیے جائیں تو اس کے پاس بچتا کیا ہے؟ روٹی انسان کو زندہ رکھتی ہے، مگر خواب اسے جینے کی وجہ دیتے ہیں۔ جس نوجوان کو یقین ہو کہ محنت سے اس کی زندگی بدل سکتی ہے، وہ ملک چھوڑنے کے بجائے ملک بناتا ہے۔ لیکن جس معاشرے میں محنت سے زیادہ سفارش، دیانت سے زیادہ طاقت اور ٹیکس صرف کمزور کے لیے رہ جائے، وہاں خواب آہستہ آہستہ ہجرت کرنے لگتے ہیں۔ حکومتوں کا کام صرف ٹیکس جمع کرنا نہیں، بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا بھی ہے جہاں لوگ خوشی سے ٹیکس دیں، کیونکہ انہیں یقین ہو کہ ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ اگر ریاست کا ہاتھ صرف جیب تک پہنچے اور عوام کے مسائل تک نہ پہنچے تو اعتماد بھی ختم ہو جاتا ہے اور امید بھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ خوابوں پر ابھی کوئی ٹیکس نہیں لگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور غیر مساوی ٹیکسوں کے بوجھ نے لاکھوں لوگوں کے خواب پہلے ہی اتنے مہنگے کر دیے ہیں کہ وہ انہیں دیکھنے سے بھی ڈرنے لگے ہیں۔ خدا نہ کرے وہ دن آئے جب حکومت واقعی اعلان کرے کہ ’’خواب دیکھنا مفت نہیں رہا ‘‘ ۔ کیونکہ جس دن کسی قوم کے خوابوں کی قیمت وصول کی جانے لگے، اس دن سمجھ لیجیے کہ صرف معیشت نہیں، مستقبل بھی دیوالیہ ہونے لگتا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں