میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ،سوسائٹیز میں تعمیراتی مافیا بے لگام، علاقہ تجارتی جنگل میں تبدیل

سندھ بلڈنگ،سوسائٹیز میں تعمیراتی مافیا بے لگام، علاقہ تجارتی جنگل میں تبدیل

ویب ڈیسک
جمعرات, ۲۵ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز شیخ کی ملی بھگت، غیر قانونی فلورز اور پورشنز کی تعمیر، مکینوں کا احتجاج
دہلی مرکنٹائل ہاؤسنگ سوسائٹی بلاک 3، ایس ٹی 10، پلاٹ نمبر 156پر کمرشل تعمیرات

شہر قائد کے معروف رہائشی علاقے ہل پارک سے متصل دہلی مرکنٹائل کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے بلاک 3 کے مکینوں نے علاقے میں غیر قانونی اور کمرشل تعمیرات کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ رہائشی پلاٹوں پر غیر قانونی فلورز، پورشنز اور تجارتی تعمیرات تیزی سے جاری ہیں، جبکہ متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔مظاہرین نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز شیخ کی مبینہ ملی بھگت اور چشم پوشی کے باعث تعمیراتی مافیا کھلے عام قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بارہا شکایات اور درخواستوں کے باوجود غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، جس سے سرکاری اداروں کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔علاقہ مکینوں نے خاص طور پر بلاک 3، ایس ٹی 10، پلاٹ نمبر 156 پر جاری کمرشل تعمیرات کو فوری طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسمار کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کے مطابق مذکورہ پلاٹ رہائشی استعمال کے لیے مختص ہے ، تاہم وہاں تجارتی نوعیت کی تعمیر جاری ہے جو ماسٹر پلان اور بلڈنگ قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے ۔اس سلسلے میں علاقے میں آویزاں بینرز کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان، کور کمانڈر کراچی، چیئرمین نیب، وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات سندھ، ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے اور چیئرمین ڈی ایم سی ایچ ایس سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ نہ روکا گیا اور مبینہ طور پر ملوث افسران کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رہائشی علاقوں کی اصل حیثیت بحال کرنے اور شہری قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے فوری اور غیر جانبدارانہ آپریشن کیا جائے ۔(نمائندہ جرأت)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں