میگزین

Magazine
تازہ ترین :  ڈبلیو ڈبلیو ای کراؤن جیول: رومن رینز نے سمی زین کو ہرا کر مینز کراؤن جیول چیمپئن شپ  جیت لی فارمولا ون نے ساؤ پالو گراں پری کو 2035 تک کیلنڈر میں برقرار رکھنے کا معاہدہ کر لیا مکسڈ مارشل آرٹس، وسیم اکرم کے صاحبزادے تیمور اکرم نے امریکی حریف کو چت کر دیا، مسلسل چوتھی فتح ٹیم سلیکشن کا کام متعلقہ حکام کا ہے، ہر بات یہاں بتانا ضروری نہیں، بابراعظم اپوزیشن کا سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے تحریک التوا لانے کا فیصلہ دنیا کی بلند ترین چیخ کا اعزاز برطانوی خاتون کے نام، نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل عالمی مالیاتی منڈیوں میں ٹیکنالوجی اتارچڑھاؤ اور بلند شرحوں کا خطرہ ایران کے تجارتی راستوں پر دباؤ اور توانائی کی قیمت: پاکستان کا درآمدی بل پھر مرکز میں ایران سے متعلق ڈالر پابندیوں کی توسیع: ترسیلات، کمپلائنس اور علاقائی تجارت کا خطرہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی ممکنہ 1.2 ارب ڈالر قسط: ریزروز اور اصلاحات کا اگلا امتحان

ای پیج

e-Paper
آبادکاری کے منتظر افغانوں کو ملک بدر کردیا جائے گا،اسحق ڈار

آبادکاری کے منتظر افغانوں کو ملک بدر کردیا جائے گا،اسحق ڈار

ویب ڈیسک
پیر, ۲۴ فروری ۲۰۲۵

شیئر کریں

امریکا نے جن پناہ گزینوں کی آبادکاری سے انکار کیا انہیںافغانستان واپس بھیجنے پر مجبور ہو سکتے ہیں
اگست 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد سے 6 لاکھ افغان ظلم و ستم پر پاکستان ہجرت کر چکے ہیں

پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے آباد کاری کے لیے قبول نہ کیے جانے والے افغان مہاجرین کو غیر قانونی تارکین وطن سمجھا جائے گا اور ملک بدر کر دیا جائے گا۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ پاکستان اس معاملے پر امریکا کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے ، لیکن جن پناہ گزینوں کی آبادکاری سے انکار کیا گیا ہے انہیں ملک بدری کا سامنا کرنا پڑے گا۔اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ ’ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے اور مذاکرات کریں گے تاہم اصولی طور پر اگر کسی پناہ گزین کو کسی دوسرے ملک کی جانب سے، مدت سے قطع نظر، مناسب طریقہ کار کے بعد لے جایا جاتا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا اور ملک انکار کرتا ہے تو اس شخص کو پاکستان میں غیر قانونی تارکین وطن تصور کیا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایسے پناہ گزینوں کو ان کے اصل ملک افغانستان واپس بھیجنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔اگست 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد سے اب تک تقریباً چھ لاکھ افغان ظلم و ستم کے خوف سے پاکستان ہجرت کر چکے ہیں، بہت سے لوگوں نے تیسرے ممالک، بالخصوص امریکا میں آبادکاری کا مطالبہ کیا، تقریباً 80 ہزار افغانوں کو کامیابی کے ساتھ دوسری جگہ منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ 40 ہزار سے زائد افراد اب بھی مشکلات کا شکار ہیں۔توقع کی جا رہی تھی کہ تقریبا 25 ہزار افراد کو امریکا میں آباد کیا جائے گا، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبادکاری کے منصوبے کی اچانک معطلی نے تقریباً 20 ہزار افغانوں کو پاکستان میں اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی بنا دیا تھا۔صدر ٹرمپ کی جانب سے 20 جنوری کو جاری کیے گئے انتظامی حکم نامے کے تحت ہوم لینڈ سیکیورٹی اور اسٹیٹ سیکریٹریز کو 90 دن کے اندر ایک رپورٹ پیش کرنی ہوگی کہ آیا امریکی پناہ گزینوں کے داخلے کے پروگرام (یو ایس آر اے پی) کے تحت پناہ گزینوں کے داخلے دوبارہ شروع کرنا امریکی مفادات سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں