میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مذاکرات کی بات کرنیوالے عمران کے ساتھی نہیں،علیمہ خانم

مذاکرات کی بات کرنیوالے عمران کے ساتھی نہیں،علیمہ خانم

ویب ڈیسک
منگل, ۲۳ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

تحریک تحفظ کانفرنس کے اعلامیے کا علم نہیں،غلط فیصلے دینے والے ججز کے نام یاد رکھے جائیں گے
عمران کو قید مگر مریم نواز نے توشہ خانہ سے گاڑی لی اس پر کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟میڈیا سے گفتگو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ مذاکرات کی بات کرنے والے افراد ان کے ساتھ نہیں اور نہ ہی انہیں ان کا قریبی ساتھی کہا جا سکتا ہے۔تحریک تحفظ کانفرنس کے اعلامیے کا علم نہیں،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس پر 17 سال قید کی سزا سنائی گئی، مریم نواز نے جو گاڑی توشہ خانہ سے لی تھی اس کا وہ جواب نہیں دے پائی تھی اس کا کیا ہوا؟ قانون کا مذاق بنایا ہوا ہے۔انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ مریم نواز کی جانب سے توشہ خانہ سے حاصل کی گئی گاڑی کے معاملے پر آج تک کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا، جو قانون کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ملک کی اکثریتی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں جب کہ گزشتہ برس 22 نومبر کو پُرامن احتجاج کی اپیل کی تھی اور اُن پر الزام صرف یہ ہے کہ انہوں نے یہ پیغام عوام تک پہنچایا۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ اُن کے خلاف پولیس اہلکاروں کو بطور گواہ پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ جھوٹی گواہی دینے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، جس سے انصاف کا نظام سوالیہ نشان بن چکا ہے، عمران خان ہمیشہ قانون کی بالادستی کی بات کرتے رہے ہیں، لیکن جو جج رول آف لا کی بات کرے، اسے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ توشہ خانہ کیس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ الزام صرف یہ ہے کہ ایک ہار کی قیمت کم لگوائی گئی جس پر 17 سال قید کی سزا دی گئی جب کہ دیگر معاملات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے حالیہ پیغام میں کہا ہے کہ وہ قوم کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں وہ گزشتہ اڑھائی سال سے جیل میں ہیں، انہوں نے ہمیشہ مقدمات کا سامنا کرنے کی بات کی اور ملک چھوڑنے کی پیشکش کو بھی مسترد کیا۔ عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا تھا کہ غلط فیصلے دینے والے بعض ججز ملک سے باہر چلے جاتے ہیں، اُن کے نام یاد رکھے جائیں گے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ انسداد دہشتگردی عدالت کے ججز بھی کسی منصوبے کے تحت کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ علیمہ خان نے بتایا کہ انہوں نے عمران خان کا پیغام میڈیا تک پہنچایا تھا اور اس حوالے سے صحافیوں کو گواہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بانی کو جیل میں 11 کتابیں بھجوائی گئی تھیں، جن میں سے 9 انہیں موصول ہو چکی ہیں۔علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سٹریٹ موومنٹ سے متعلق خیبرپختونخوا کی قیادت کو ہدایات جاری کی ہیں۔ فیصل ملک ایڈووکیٹ نے کہا کہ علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے مقدمے میں کوئی مواد نہیں، ہم نے آج علیمہ خان کی بریت کی درخواست دائر کی ہے، ہماری درخواست کے باوجود آج گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، یہ سارے مقدمات سیاسی انتقامی کارروائی پر مبنی ہیں، ہماری عدالتوں سے درخواست سے وہ انصاف فراہم کریں، استغاثہ کو علیمہ خان کا کیس تیز رفتاری سے چلانے کی جلدی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں