میگزین

Magazine
تازہ ترین :  ڈبلیو ڈبلیو ای کراؤن جیول: رومن رینز نے سمی زین کو ہرا کر مینز کراؤن جیول چیمپئن شپ  جیت لی فارمولا ون نے ساؤ پالو گراں پری کو 2035 تک کیلنڈر میں برقرار رکھنے کا معاہدہ کر لیا مکسڈ مارشل آرٹس، وسیم اکرم کے صاحبزادے تیمور اکرم نے امریکی حریف کو چت کر دیا، مسلسل چوتھی فتح ٹیم سلیکشن کا کام متعلقہ حکام کا ہے، ہر بات یہاں بتانا ضروری نہیں، بابراعظم اپوزیشن کا سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے تحریک التوا لانے کا فیصلہ دنیا کی بلند ترین چیخ کا اعزاز برطانوی خاتون کے نام، نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل عالمی مالیاتی منڈیوں میں ٹیکنالوجی اتارچڑھاؤ اور بلند شرحوں کا خطرہ ایران کے تجارتی راستوں پر دباؤ اور توانائی کی قیمت: پاکستان کا درآمدی بل پھر مرکز میں ایران سے متعلق ڈالر پابندیوں کی توسیع: ترسیلات، کمپلائنس اور علاقائی تجارت کا خطرہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی ممکنہ 1.2 ارب ڈالر قسط: ریزروز اور اصلاحات کا اگلا امتحان

ای پیج

e-Paper
پرویز الہٰی کا تحریک انصاف سے 45 نشستوں پر ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ

پرویز الہٰی کا تحریک انصاف سے 45 نشستوں پر ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۲ دسمبر ۲۰۲۲

شیئر کریں

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے تصدیق کی ہے کہ مسلم لیگ (ق) نے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کے بدلے آئندہ عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کی 30 اور قومی اسمبلی کی 15 نشستوں پر ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ضروری ہوگی کیونکہ یہ اب قانونی طور پر ضروری ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کو ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے اعتماد کا ووٹ بھی لینا پڑے گا، پہلے کیا ہوگا اور بعد میں کیا ہوگا اس بارے میں قانون خاموش ہے، میرا خیال ہے یہ معاملہ اب عدالت جائے گا۔ مسلم لیگ (ق) سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جب الیکشن کا وقت آتا ہے تو اتحادیوں کے درمیان سیٹ ایجسٹمنٹ ہوتی ہی ہے، اب پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے جارہی ہے جس کے بعد الیکشن ہوگا اور اس کیلئے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ق) کی جانب سے پنجاب اسمبلی کی 30 اور قومی اسمبلی کی 15 نشستوں پر ایڈجسٹمنٹ کے مطالبے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات لگ بھگ درست ہے، تاہم اس تعداد میں ردوبدل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) ہماری محترم اتحادی ہے، ہم انہیں ساتھ لے کر چلیں گے، جب اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے تو انہیں کچھ دینا تو پڑتا ہے۔ شفقت محمود نے جمعے کو پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر اعتماد کا ووٹ اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا معاملہ نہ آتا تو اسمبلی جمعہ کو ٹوٹ جاتی لیکن اب پہلے تحاریک کے معاملے طے ہوں گے جس کے بعد اسمبلی توڑنے کی باری آئے گی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں