میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سرسید یونیورسٹی، مالیاتی کھاتوں میں ایک کروڑ پانچ لاکھ سے زائد کے اضافی چیکس

سرسید یونیورسٹی، مالیاتی کھاتوں میں ایک کروڑ پانچ لاکھ سے زائد کے اضافی چیکس

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۲ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے انتخابی تنازع میں قانونی اخراجات کی ادائیگی پر سوالات

 

سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے انتخابی تنازع کے تناظر میں یونیورسٹی کے مالیاتی کھاتوں سے قانونی اخراجات کی مد میں مبینہ طور پر ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے سے زائد کے چیکس جاری کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر مالیاتی شفافیت اور تعلیمی فنڈز کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

دستیاب مالیاتی ریکارڈ کے مطابق، 11فروری2026 کو، جس روز ضلعی عدالت کے حکم کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے عارضی حکمِ معطلی حاصل کیا گیا، یونیورسٹی کے کھاتوں سے ستر لاکھ روپے سے زائد مالیت کے مختلف چیکس جاری کیے گئے۔

اسی طرح 25 فروری 2026 کو قانونی اخراجات کی مد میں مزید 35لاکھ روپے کے چیکس جاری کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان دونوں تاریخوں پر جاری کردہ چیکس کی مجموعی مالیت ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔

اس معاملے پر انجمن کے بعض ارکان اور سینئر علیگ نے سوال اٹھایا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے انتخابی تنازع اور اس سے متعلق قانونی کارروائیوں کے اخراجات سرسید یونیورسٹی کے فنڈز سے کس قانونی اور انتظامی اختیار کے تحت ادا کیے گئے؟

ان کے مطابق، یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ان ادائیگیوں کی منظوری کس مجاز اتھارٹی نے دی اور آیا متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق پیشگی اجازت حاصل کی گئی تھی یا نہیں۔ ارکان اور سینئر علیگ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس نوعیت کی مزید رقوم بھی جاری کی گئی ہو سکتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر طلبہ کی فیسوں سے حاصل ہونے والے تعلیمی فنڈز کو انجمن کے انتخابی تنازع یا ایسے قانونی مقدمات پر خرچ کیا گیا جن کا یونیورسٹی کے تعلیمی اور ادارہ جاتی مفادات سے براہِ راست تعلق نہیں، تو اس معاملے کی قانونی حیثیت، مالیاتی جواز اور انتظامی منظوری کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی کے متعلقہ مالیاتی کھاتوں، چیکس، ادائیگیوں کے مقاصد، قانونی خدمات کے بلوں اور منظوریوں کی تفصیلی جانچ کی جائے، تاکہ یہ تعین ہو سکے کہ رقوم کس مقصد کے لیے جاری کی گئیں اور ان کا استعمال متعلقہ قواعد کے مطابق ہوا یا نہیں۔

سینئر علیگ اور ارکان نے محکمہ انسدادِ بدعنوانی، وفاقی تحقیقاتی ادارے اور دیگر متعلقہ حکام سے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور جامع فرانزک مالیاتی جانچ کرانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر کسی مالی بے ضابطگی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی تصدیق ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

تاہم، ادائیگیوں کے قانونی جواز، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور رقوم کے حتمی مصرف سے متعلق حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے متعلقہ مالیاتی دستاویزات، عدالتی ریکارڈ اور یونیورسٹی انتظامیہ کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں