سائبیریا کے مہمان پرندوں کی کراچی آمد شروع، ساحلوں، جھیلوں کی رونقوں میں اضافہ
شیئر کریں
ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے آنے والے مہمان پرندوں نے سی ویو، ہاکس بے اور رشین بیچ سمیت سندھ کی جھیلوں کا رخ کرلیا
سرد ترین علاقے سائبیریا سے ہجرت کرکے آنے والے مہمان پرندوں کی کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس سے ساحلی علاقوں اور آبی ذخائر کی رونقیں بڑھ گئی ہیں۔
خوبصورت پرندوں کی چہچہاہٹ اور آسمان پر ان کی دلکش اڑان نے قدرتی مناظر کو مزید حسین بنادیا، جبکہ شہری بھی ان خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہونے لگے ہیں۔
سردیوں کی آمد سے قبل سائبیریا اور دیگر سرد علاقوں سے آنے والے یہ پرندے شدید سردی سے بچنے اور خوراک کی تلاش میں ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے پاکستان پہنچتے ہیں۔
کراچی میں سی ویو، ہاکس بے اور رشین بیچ سمیت سندھ کی مختلف جھیلیں اور آبی ذخائر ان مہمان پرندوں کی عارضی قیام گاہ بنتے ہیں، جہاں انہیں خوراک اور سازگار ماحول میسر آتا ہے۔
موسمی ہجرت کے دوران مرغابیوں، کونجوں اور دیگر آبی پرندوں کی مختلف اقسام سندھ کا رخ کرتی ہیں۔
کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل اور اڈیرو جھیل سمیت صوبے کے دیگر آبی ذخائر بھی ان پرندوں کے لیے اہم مسکن کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان مقامات پر پرندوں کی آمد سے قدرتی ماحول میں رونق بڑھ جاتی ہے اور پرندوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مناسب خوراک میسر آتی ہے۔
سائبیریا کے برفیلے علاقوں سے آنے والے ان مہمانوں میں کونج، لال بطخ اور دیگر آبی پرندوں سمیت مختلف اقسام شامل ہوتی ہیں۔
ان میں بعض نایاب پرندے بھی پائے جاتے ہیں، جو ہر سال سردیوں کے موسم میں گرم علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور چند ماہ قیام کے بعد اپنے آبائی علاقوں میں واپس چلے جاتے ہیں۔
ماحولیاتی نظام میں بھی ان مہمان پرندوں کی اہمیت نمایاں ہے۔ یہ پرندے کیڑے مکوڑوں اور دیگر حشرات کو خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس سے ان کی آبادی کو قدرتی طور پر متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
اس طرح موسمی ہجرت نہ صرف قدرتی حسن میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ان مہمان پرندوں کی آمد قدرتی ماحول اور آبی مسکن کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ ان کی محفوظ نقل و حرکت اور قیام کے لیے ضروری ہے کہ ساحلی علاقوں، جھیلوں اور دیگر آبی ذخائر کو آلودگی سے پاک رکھا جائے، قدرتی مسکن کو نقصان سے بچایا جائے اور غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان پرندوں کے قدرتی مسکن کا تحفظ اور شکار کی روک تھام ناگزیر ہے، تاکہ ہر سال آنے والے یہ مہمان پرندے محفوظ ماحول میں قیام کرسکیں اور سندھ کے ساحلی و آبی علاقوں کا قدرتی حسن برقرار رہے۔


