سندھ بلڈنگ ،منہدم عمارتوں کی دوبارہ تعمیر ،شہریوں کی زندگیوں سے کھلواڑ
شیئر کریں
لیاقت آباد سی ون ایریا کے رہائشی پلاٹ 10/5 پرمنہدم عمارت کی تعمیر، ڈائریکٹر سید ضیاء ملوث
حادثات کی صورت میں ہنگامی عملہ کی رسائی ناممکن ،محکمے پر خطیر رقوم کی بندر بانٹ کے الزامات
شہر کے مصروف ترین اور پرانے رہائشی علاقے لیاقت آباد کی تنگ گلیاں ان دنوں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کے باعث خبروں میں ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات نہ صرف ان کی روزمرہ زندگیوں کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ کسی بھی ممکنہ حادثے یا آگ لگنے کی صورت میں ہنگامی خدمات کی رسائی کو بھی ناممکن بنا رہی ہیں۔مقامی رہائشیوں کے مطابق، ان گلیوں میں ویسے ہی دو گاڑیاں بمشکل ایک دوسرے سے گزر پاتی ہیں، لیکن بلڈرز کی جانب سے زیر تعمیر بلند عمارتوں کے لیے تعمیراتی سامان گلیوں میں جمع رکھا جانا اور تعمیراتی سرگرمیوں نے حالات کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے ۔ڈائریکٹر سید ضیاء پر الزامات ہیں کہ خطیر رقم بٹورنے کے بعد بلند عمارتوں کی تعمیر کی چھوٹ دے رہے ہیں۔ سی ون ایریا کے رہائشی پلاٹ 10/5 پر غیر قانونی بالائی منزلوں کے خلاف انہدامی کارروائی کی گئی تھی جسے بعد ازاں ازسرنو تعمیر کی چھوٹ دینے پر بھی خطیر رقم کی بندر بانٹ کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ہماری گلی میں پانی کی لائنوں کو بار بار نقصان پہنچا ہے ، سیوریج کا نظام بیٹھ گیا ہے ، اور دن رات ڈرلنگ اور شور نے ہماری نیندیں حرام کر دی ہیں” سب سے بڑا خوف تو یہ ہے کہ اگر کسی عمارت میں آگ لگ جائے یا کسی کو ہارٹ اٹیک ہو جائے ، تو فائر بریگیڈ یا ایمبولینس گلی میں داخل ہی نہیں ہو سکے گی۔”شہری انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ زیادہ تر تعمیرات بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے منظور شدہ پلانز کے بغیر ہو رہی ہیں۔ تعمیراتی مافیا کے پاس انتظامیہ سے زیادہ طاقت ہے ۔ماہرین شہری منصوبہ بندی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ سید، جو کہ اربن پلاننگ کی پروفیسر ہیں، انکا کہنا ہے کہ تنگ گلیوں میں اونچی عمارتیں بنانا شہری منصوبہ بندی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ یہ نہ صرف انفراسٹرکچر پر غیر ضروری دباؤ ڈالتا ہے بلکہ زلزلے جیسے قدرتی حالات میں بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن سکتا ہے ۔مقامی شہریوں نے متعلقہ حکام سے فوری اور سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے ۔


