میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ٹرمپ کی تازہ دھمکی، ایران ناراض،مذاکرات کھٹائی میں

ٹرمپ کی تازہ دھمکی، ایران ناراض،مذاکرات کھٹائی میں

ویب ڈیسک
پیر, ۲۲ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات پر ایرانی وفد کا مذاکرات سے احتجاجاً واک آؤٹ،ایران نے لبنان جنگ کے خاتمے تک دیگر امور پر بات کرنے سے انکار کردیا، ایرانی افواج کو الرٹ رہنے کا حکم
واشنگٹن خبردار! اپنے بیانات اور زبان کے استعمال میں احتیاط برتے،ہماری مسلح افواج امریکی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار اور الرٹ ہیں،باقر قالیباف کا امریکی دھمکیوں پر سخت ردِعمل

امریکہ ایران امن مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہوگئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر ایرانی وفد احتجاجاً واک آؤٹ کرکے روانہ ہوگیا، ایران نے لبنان جنگ کے خاتمے تک دیگر امور پر بات کرنے سے انکا کرتے ہوئے ایرانی افواج کو الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔ عالمی میڈیا کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں جاری امریکہ ایران امن مذاکرات اتوار کے روز اس وقت شدید ترین بحران کا شکار ہوئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تند و تیز بیانات اور دھمکیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایرانی وفد مذاکرات کا بائیکاٹ کرکے لابی اور پنڈال سے باہر نکل گیا۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ نے مذاکراتی عمل کے قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے دوران ہی ایران پر حملوں کی نئی دھمکیاں سامنے آنے کے بعد تہران کے وفد نے شدید احتجاج کیا اور سوئس مذاکراتی مقام کو چھوڑ کر روانہ ہو گیا۔اس موقع پر ایران کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار اور اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف نے امریکی دھمکیوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ وہ اپنے بیانات اور زبان کے استعمال میں احتیاط برتے،ہماری مسلح افواج کسی بھی امریکی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار اور الرٹ ہیں۔ایرانی مذاکراتی وفد کے ایک رکن نے تہران کے دوٹوک مؤقف کو واضح کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ جب تک لبنان میں جاری جنگ اور تنازع کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، تب تک موجودہ ایجنڈے سے ہٹ کر کسی بھی دوسرے علاقائی یا بین الاقوامی معاملے پر امریکہ سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی، مذاکرات میں کسی بھی قسم کی پیشرفت کا انحصار براہِ راست میدانِ جنگ کی صورتحال سے جڑا ہوا ہے۔ دوسری جانب، تہران اور قطر کے مابین ہونے والی دوطرفہ بیٹھک کے حوالے سے ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ سیاسی ڈیڈ لاک کے باوجود ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور منتقلی کے حوالے سے ایگزیکٹو اور تکنیکی طریقہ کار کا آغاز ہو چکا ہے، جس میں قطری وفد بھرپور طریقے سے شرکت اور ثالثی کر رہا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں