میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
 امن اور سفارت

 امن اور سفارت

جرات ڈیسک
اتوار, ۹ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

بداعتمادی ہی طاقت کا توازن اپنے حق میں کرنے جیسی کوششوں کی بنیادبنتی ہے جو معاشی مفادات اور سیاسی رقابتوں کاموجب ہوتی
ہیں۔ لہٰذا کہہ سکتے ہیں کہ جنگوں کا آغاز اچانک نہیں ہوتا جب تک توپوں کی گُھن گرج کے لیے باقاعدہ ماحول نہ بنایاجائے ۔البتہ سفارت
کاری کی میزیں سجی رہیں توامن قائم رہتاہے ۔مذاکرات کی زبان خاموش ہو تو بارود کوبولنے کا موقع ملتا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور فوجی تصادم اسی تلخ حقیقت کی طرف اِشارہ ہے یہ تنازع صرف دوریاستوں تک محدود
نہیں رہا بلکہ سارے مشرقِ وسطیٰ پر اثراندازہورہا ہے عالمی معیشت و امن کے لیے امتحان بن چکا ہے اِس کا حل صرف یہ ہے کہ جنگ کی
بجائے سفارتکاری کو ترجیح بنایا جائے۔امریکہ و ایران کے تعلقات ہمیشہ سے خراب نہیں تھے۔ 1979کے ایرانی انقلاب سے پہلے دونوں
ایک دوسرے کے قریبی اور اتحادی تھے مگر انقلاب نے صورتحال کو یکسر بدل دیا۔سفارتی تعلقات منقطع اور پابندیوں کے طویل سلسلے کا آغاز
ہوا ۔دونوں ممالک ایک دوسرے پر اپنے مفادات کونقصان پہنچانے کے الزامات لگاتے رہے۔ یوں خلیج فارس میں کشیدگی حدسے بڑھتی
گئی۔ گزشتہ کئی عشروں میں یہ کشیدگی معاشی پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہونے کے ساتھ پراکسی لڑائی اور محدود فوجی کاروائی کا باعث بنتی
رہی مگر حالیہ تصادم نے ساری دنیا کویہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید پھیلا تو نتائج خطے تک محدود نہیں رہیں گے ۔کیونکہ مزید
ممالک ملوث ہونے لگے ہیں جس سے ایک بڑاعالمی معاشی بحران جنم لے سکتاہے اِس کا حل صرف سفارتکاری سے تلاش کیاجا سکتا ہے۔

امریکہ فوجی کارروائی کو اپنے مفادات کے لیے ناگزیر تصورکرتاہے اُس کا خیال ہے کہ اِس طرح اتحادیوں اور خطے کے استحکام کوبھی یقینی
بنا لے گا مگر ابھی تک تمام اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہے نہ صرف اُس کے اپنے مفادات خطرے میں ہیں بلکہ اتحادی بھی دورہوئے
ہیں۔ علاوہ ازیں خطے کااستحکام بھی قصہ ماضی بن گیا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ اپنی خود مختاری اور قومی سلامتی پر کوئی بیرونی دباؤ قبول
نہیں کرے گا۔دونوں ممالک کے دلائل میں وزن ہونے کے باوجودبے وزن ہیں کیونکہ جنگ تعمیروترقی نہیں صرف تباہی لاتی ہے ۔یہ
درست ہے کہ جنگ میں حکومتوں سے سے زیادہ نقصان عام انسان کا ہوتا ہے۔ بچے متاثر ہوتے اور خاندان بچھڑتے ہیں ہسپتال صرف
زخمیوں کے علاج کے لیے وقف ہوکر رہ جاتے ہیں اور لوگ خوف کے سائے میں زندگیاں بسرکرنے پر مجبورہوتے ہیں مگر امیر اور
طاقتورممالک معاشی اور دفاعی حوالے سے بھی کمزور ہوجاتے ہیں ۔میزائل ذخیرے میں کمی طاقت کم ہونے کی طرف ہی اِشارہ ہے ۔یہ
صورتحال ٹرمپ کے برہم ہونے اور معلومات کوافشا کرنے والوں کوقیدکی سزادینے کی دھمکیوں سے بہتر نہیں ہو سکتی۔ اے کاش کہ متحارب
ممالک جنگ کی تباہ کاریاں سمجھ جائیں طاقت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے مزاکرات کی میز سجائیں اور سفارتکاری سے تنازع حل کرنے پر
توجہ مرکوزکریں۔

عالمی قوانین طاقت کے استعمال کی خاص اور انتہائی حالات میں ہی اجازت دیتے ہیں اقوامِ متحدہ کا منشورتنازعات کے حل کو جنگ
سے نہیں بلکہ مذاکرات ،ثالثی اور سفارتکاری کی حوصلہ افزائی کرتاہے مگر فسوسناک بات تو یہ ہے کہ عالمی طاقتیں خود اقوامِ متحدہ کے منشور کو
نظرانداز کرتی ہیں ۔یہ رویہ عالمی نظام کو کمزورکرنے کاباعث ہے اور دنیا میں طاقت ہی فیصلہ کُن معیار بنتی جارہی ہے۔ اگر امریکہ و ایران
دونوں مذاکرات ،ثالثی اور سفارتکاری پر اعتماد کریں تو مشرقِ وسطیٰ میں کسی حدتک امن بحال ہو سکتا ہے ۔مکمل امن کی بحالی اسرائیل کی
ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کی بندش سے مشروط ہے۔
عرب ممالک کی سیاست بہت پیچیدہ ہے جس میں مزید پیچیدگی اُس وقت آئی جب عرب امارات نے تعلقات کامحور اسرائیل کو بنالیا ۔

حالانکہ خطے میں اکثر ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے جُڑے ہیں۔ اگر کچھ ممالک امریکہ کے اتحادی ہیں توچند ممالک کا ایران کی
طرف جھکاؤ ہے۔ عرب امارات کا اسرائیل کی طرف جھکاؤ اور ایرانی حملوں نے خطے کے ممالک میں دفاعی انحصار متنوع بنانے کاخیال
راسخ کیا ہے مزید یہ کہ روس ،چین اور یورپی ممالک کے یہاں اپنے مفادات ہیں اسی وجہ سے یہ خطہ اب عالمی سازشوں آمجگاہ ہے اور سرد
جنگ کے بعد ایک بارپھر دنیا تقسیم کی طرف بڑھ رہی ہے ۔دنیا کا امن برقرار رکھنا ہے تو طاقت کے اظہارکی بجائے سفارتکاری کی میزیں
سجاناہوں گی۔

خلیج فارس توانائی کاایک اہم مرکز ہے۔ یہاں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا اور عالمی تجارت میں کمی آ تی ہے جس
سے ترقی پذیر ممالک جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکارہیں ،خاص طورپر متاثر ہو تے ہیں۔ امن سے تجارت اور معاشی سرگرمیاں فروغ پاتی
ہیں ۔مسلم اُمہ کے لیے یہ صورتحال کسی امتحان سے کم نہیں ایک طرف علاقائی اختلافات میں اضافہ ہوا ہے تودوسری طرف تیل جیسے معاشی
مفادات خطرے میں ہیں ۔اگر مسلم ممالک جذباتی کیفیت سے نکل کر سمجھداری ، اتحاد،تدبر اور سفارتکاری کواپنی ترجیح بنائیں تو نہ صرف خطہ
مزید عدمِ استحکام سے محفوظ رہ سکتا ہے بلکہ غیر ملکی مداخلت کا خاتمہ بھی ہوسکتا ہے ۔عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ کشیدگی بڑھانے کی بجائے
مذاکرات کی طرف آئیں تاکہ بہتراور دیرپاامن قائم ہو ۔

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ دونوں عالمی جنگیں مذاکرات سے ختم ہوئیں پہلی اور دوسری عالمگیر جنگوں سمیت اکثر بڑے تنازعات کاحل بات
چیت سے نکلاامریکہ و ایران اگر اعتمادکی بحالی کے لیے اقدامات کریں اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کریں تو یہ صرف انھی کے لیے
ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن اور معیشت کے لیے فائدہ مند ہو گا۔
امن کا مطلب ہے کہ انصاف ،برابری ،احترام اور قوانین کی پاسداری ہو،طاقتور اور کمزور کے لیے علیحدہ قوانین سے بداعتمادی بڑھتی
ہے۔ یہ عالمی اِداروں کافرض ہے کہ سب کے لیے یکساں رویہ رکھیں اورانصاف سے کام لیں۔آج دنیا ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں سے
ایک راستہ جنگ،تباہی اور معاشی بحران کی طرف جاتا ہے تو دوسراراستہ امن ،سفارتکاری ،تعاون کا ہے۔ امریکہ و ایران کے ساتھ پوری
عالمی برادری نے اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس راستے کاانتخاب کرتی ہے۔

طاقت صرف وقتی طورپر فائدہ دیتی ہے ۔یہ دلوں کوجیتنے کا ذریعہ نہیں بنتی۔ پائیدار امن کے لیے لازم ہے کہ مسائل کاحل ہتھیاروں کی
بجائے بات چیت ،دلیل اور انصاف سے تلاش کیا جائے ۔اگر دنیانے یہ سبق نہ سیکھا تو تاریخ یہی بتائے گی کہ انسان نے ترقی تو کرلی ،
زمین سے خلا تک بھی پہنچ گیالیکن جنگ سے محفوظ رہنے کاراستہ تلاش نہ کر سکا۔
٭٭٭

 


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں