میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
لالچ کی بھوک کبھی نہیں مرتی!

لالچ کی بھوک کبھی نہیں مرتی!

جرات ڈیسک
اتوار, ۹ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

انسانی تاریخ اگر کسی ایک جذبے کے گرد بار بار گھومتی دکھائی دیتی ہے تو وہ لالچ ہے۔ سلطنتیں تلوار سے کم اور حرص سے زیادہ تباہ ہوئی ہیں۔
خاندان محبت کی کمی سے کم اور دولت کی ہوس سے زیادہ بکھرے ہیں۔ تہذیبیں دشمنوں سے پہلے اپنے اندر چھپے مفاد پرست انسانوں کے ہاتھوں کمزور ہوئی ہیں۔

یہی وہ حقیقت ہے جسے انگریزی ادب کے عظیم ڈرامہ نگارBen Jonson نے اپنے لازوال طنزیہ شاہکار وولپونے (Volpone ) میں نہایت گہری بصیرت کے ساتھ پیش کیا۔وولپونے ،بظاہر ایک امیر شخص کی کہانی ہے، مگر حقیقت میں یہ انسانی فطرت کا آئینہ ہے۔ وولپونے ،خود کو مرنے کے قریب ظاہر کرتا ہے تاکہ اس کے اردگرد موجود لوگ اس کی خوشامد کریں، اسے تحفے دیں، اور اس امید میں اس کی خدمت کریں کہ شاید وہ اپنی دولت ان کے نام کر دے۔ اس کے گرد جمع ہونے والے لوگ صرف کردار نہیں بلکہ انسانی خواہشات کی مختلف شکلیں ہیں۔ ہر شخص دولت کے لیے اپنی عزت، سچائی، رشتے اور ضمیر کا سودا کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔یہ ڈراما صرف لالچی لوگوں کا مذاق نہیں اڑاتا بلکہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آخر انسان اس مقام تک پہنچتا کیسے ہے جہاں دولت اس کی اخلاقیات سے زیادہ قیمتی ہو جاتی ہے فلسفہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب انسان زندگی کے مقصد کو صرف دولت، طاقت اور ذاتی مفاد تک محدود کر دیتا ہے تو اس کی روح آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہے۔ وہ زندہ رہتا ہے، مگر انسان نہیں رہتا۔نفسیات کی دنیا بھی یہی کہتی ہے۔ انسان کی خواہشات کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری جنم لے لیتی ہے۔ اگر ان خواہشات کو عقل، اخلاق اور شعور قابو میں نہ رکھیں تو وہ لامتناہی بھوک بن جاتی ہیں۔ یہی بھوک وولپونے، کے ہر کردار میں نظر آتی ہے۔ یہاں محبت بھی سودے میں بدل جاتی ہے، دوستی بھی فائدے کی محتاج ہو جاتی ہے اور رشتے بھی دولت کے ترازو میں تولے جاتے ہیں۔تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بڑی سلطنتوں کے زوال میں صرف بیرونی حملے ذمہ دار نہیں تھے۔

رومی سلطنت کے آخری دور میں عیش پرستی، بدعنوانی اور ذاتی مفادات نے ریاست کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ بہت سی بادشاہتوں میں اقتدار کی ہوس نے بھائی کو بھائی کا دشمن بنایا۔ نوآبادیاتی دور میں طاقتور اقوام نے دولت کی خواہش میں کمزور قوموں کو غلام بنایا۔ ہر زمانے میں لالچ نے اپنا لباس بدلا، مگر اس کی فطرت کبھی نہیں بدلی۔اسی لیے وولپونے، صرف سترہویں صدی کا ڈراما نہیں بلکہ ہر صدی کی کہانی ہے۔

آج بھی جب دولت کے لیے انصاف بیچا جاتا ہے، جب طاقت کے لیے اصول قربان کیے جاتے ہیں، جب سیاست خدمت کے بجائے کاروبار بن جاتی ہے، جب علم سچائی کے بجائے مفاد کا آلہ بن جاتا ہے، تو محسوس ہوتا ہے کہ Volpone کا اسٹیج ابھی تک ختم نہیں ہوا۔ کردار بدل گئے ہیں، مگر کہانی وہی ہے۔جرمن فلسفی فریڈرش نطشے نے کہا تھا کہ انسان کے اندر موجود خواہش اگر اخلاق سے آزاد ہو جائے تو وہ تباہی پیدا کرتی ہے۔ دوستوئیفسکی نے اپنے ناولوں میں دکھایا کہ اصل جنگ باہر نہیں بلکہ انسان کے اپنے اندر ہوتی ہے۔ شیکسپئر نے بارہا بتایا کہ بے لگام خواہش انسان کو اس کے اپنے انجام تک پہنچا دیتی ہے۔ ان تمام فکری روایتوں کا خلاصہ Volpone میں ایک طنز کے ذریعے سامنے آتا ہے۔ادب کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ انسان کو دوسروں کی نہیں، اپنی تصویر دکھاتا ہے۔ Volpone پڑھتے ہوئے قاری صرف کرداروں پر نہیں ہنستا بلکہ ایک لمحے کے لیے خود سے بھی سوال کرتا ہے کہ کیا میری

خواہشات بھی کبھی میرے اصولوں سے بڑی ہو جاتی ہیں؟ کیا میں بھی کسی نہ کسی شکل میں اسی دوڑ کا حصہ تو نہیں؟آخرکار ڈرامے میں دھوکے بے نقاب ہوتے ہیں، کردار اپنے انجام کو پہنچتے ہیں اور انصاف کی ایک صورت سامنے آتی ہے۔ لیکن اصل انجام عدالت کا فیصلہ نہیں بلکہ قاری کا شعور ہے۔ اگر وہ یہ سمجھ لے کہ دولت ایک وسیلہ ہے، مقصد نہیں؛ طاقت ایک ذمہ داری ہے، برتری نہیں؛ اور انسان کی اصل قدر اس کے کردار میں ہے، نہ کہ اس کے خزانے میں، تو Volpone اپنا مقصد حاصل کر لیتا ہے۔Volpone ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تہذیبیں صرف قانون سے نہیں بلکہ اخلاق سے زندہ رہتی ہیں، اور جب کسی معاشرے میں دولت کردار سے بڑی، مفاد انصاف سے بڑا، اور لالچ انسانیت سے بڑی قدر بن جائے تو زوال صرف وقت کا انتظار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہBen Jonson کا یہ شاہکار چار سو برس بعد بھی تازہ محسوس ہوتا ہے، کیونکہ انسان نے ترقی ضرور کی ہے، مگر اپنی خواہشات کے ساتھ جنگ آج بھی نہیں جیتی۔ ”ریاستیں اس وقت مرتی ہیں جب اقتدار خدمت سے نہیں، ملکیت سے تعبیر ہونے لگے”۔

اگرBen Jonson آج پاکستان کو دیکھتا تو شاید اسے Volpone دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ اسے صرف کرداروں کے نام بدلنے پڑتے، کیونکہ کہانی وہی رہتی: اقتدار کے گرد منڈلاتے مفادات، دولت کے گرد گھومتی وفاداریاں، اور انصاف کے دروازے پر کھڑی بے بس عوام۔پاکستان کی تاریخ صرف حکومتوں کی تبدیلی کی تاریخ نہیں، بلکہ اداروں کی کمزوری، طاقت کی کشمکش، اشرافیائی غلبے، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور عوامی اعتماد کے بار بار مجروح ہونے کی تاریخ بھی ہے۔ ہر دور میں یہ سوال زندہ رہا کہ ریاست آخر کس کے لیے ہے: شہری کے لیے یا طاقتور کے لیے؟جب طاقت جواب دہی سے آزاد محسوس کرنے لگے تو اس کی نفسیات بدل جاتی ہے۔ وہ ریاست کو امانت نہیں بلکہ اختیار سمجھنے لگتی ہے۔ جب دولت احتساب سے محفوظ ہو جائے تو اس کی نفسیات بھی بدلتی ہے؛ دولت خدمت کا ذریعہ نہیں بلکہ اثرورسوخ کا ہتھیار بن جاتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس پر Volpone طنز کرتا ہے۔دوسری طرف عام شہری کی نفسیات بھی مسلسل ناانصافی سے متاثر ہوتی ہے۔ جب اسے بار بار محسوس ہو کہ قانون سب پر یکساں نافذ نہیں، کہ محنت ہمیشہ کامیابی کی ضمانت نہیں، اور کہ مواقع برابر تقسیم نہیں ہوتے، تو اس کے اندر مایوسی، بے اعتمادی اور بے بسی جنم لے سکتی ہے۔ یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی سرمائے کو کمزور کرتا ہے۔تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ کوئی بھی اشرافیہ ہمیشہ یکساں نہیں ہوتی، لیکن جب کسی ملک میں سیاسی، معاشی یا سماجی طاقت محدود حلقوں میں مرکوز ہو جائے اور اس کے ساتھ مؤثر احتساب نہ ہو تو ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ بڑھنے لگتا ہے۔ یہی فاصلہ ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔Volpone کا اصل سبق یہی ہے کہ جب مفاد، اصولوں پر غالب آ جائے تو

زوال صرف معیشت کا نہیں ہوتا؛ اعتماد، انصاف اور اجتماعی اخلاق بھی کمزور ہوتے ہیں۔ اور جب عوام کو یقین نہ رہے کہ ریاست ان کے لیے یکساں انصاف مہیا کرے گی تو ریاست کی بنیادیں خاموشی سے ہلنے لگتی ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں امید کے باب بھی موجود ہیں: ایسے افراد، جج، صحافی، اساتذہ، سرکاری افسران، سیاست دان، کارکن اور عام شہری بھی رہے ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں بھی اصولوں کا ساتھ دیا۔ اسی لیے مستقبل کا راستہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے میں نہیں بلکہ مضبوط اداروں، شفاف احتساب، قانون کی بالادستی اور شہری شعور کو مضبوط کرنے میں ہے۔آخرکار Volpone ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ کسی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے خزانے نہیں بلکہ اس کا انصاف، اس کے ادارے اور اس کا اخلاقی کردار ہوتے ہیں۔ جب یہ محفوظ ہوں تو ریاست مضبوط ہوتی ہے، اور جب یہی کمزور پڑ جائیں تو دولت کے انبار بھی زوال کو نہیں روک سکتے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں