میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جنتر منتر سے دنیا بھر میں مودی سرکار کے خلاف مظاہرے

جنتر منتر سے دنیا بھر میں مودی سرکار کے خلاف مظاہرے

جرات ڈیسک
منگل, ۲۰ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت ایک عرصے سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے ، پاکستان کے خلاف سفارتی محاذ گرم رکھنے
اور دہشت گردی کے حوالے سے اپنے الزامات کو عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے ، لیکن اب بھارت کے اندر
انتخابی عمل، جمہوری آزادیوں اور شہری حقوق کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات نے خود مودی حکومت کو ایک نئے سیاسی امتحان سے
دوچار کر دیا ہے ۔ بھارت میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی آواز اب بیرونِ ملک بھی سنائی دینے لگی ہے ۔ لندن سے امریکہ
تک بھارتی شہریوں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے ہونے والے مظاہروں نے مودی حکومت کے لیے ایک ایسا چیلنج پیدا کر دیا ہے جسے محض داخلی معاملہ قرار دے کر نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔

پاکستان کے خلاف بھارتی حکومت کا بیانیہ اور بھارت کے اندر جمہوری حقوق کے حوالے سے جاری بحث دو الگ معاملات ہیں، تاہم
ان کے درمیان ایک اہم تعلق ضرور ہے ۔ جو حکومت دنیا کے سامنے جمہوریت، قانون کی بالادستی اور شہری آزادیوں کا حوالہ دیتی ہو، اس
کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ملک میں بھی ان اصولوں پر عمل درآمد یقینی بنائے ۔ اگر شہریوں کو انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھانے ،
اپنے ووٹ کے تحفظ کا مطالبہ کرنے اور پُرامن احتجاج کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو تو حکومت کے جمہوری دعووں پر سوالات اٹھنا فطری
امر ہے ۔ یہی صورتِ حال آج مودی حکومت کے لیے سیاسی اور سفارتی سطح پر مشکلات پیدا کر رہی ہے ۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج کرنے والوں کو جنتر منتر تک رسائی اور مظاہروں کے انعقاد کے حوالے سے مشکلات کا سامنا
ہونے کی اطلاعات کے بعد تحریک نے مزید سیاسی اہمیت اختیار کر لی۔ احتجاجی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب شہریوں کو ایک مخصوص مقام پر اپنی
آواز بلند کرنے سے روکا جائے گا تو وہ دوسرے مقامات پر بھی اپنے مطالبات پیش کریں گے ۔ اسی تناظر میں یہ پیغام سامنے آیا کہ جنتر منتر
پر احتجاج روکنے سے احتجاج ختم نہیں ہوگا بلکہ ملک کے دوسرے شہروں اور بیرونِ ملک بھی اس کی آواز پہنچے گی۔اس تحریک میں نوجوانوں
کی سرگرمی، سوشل میڈیا پر مہمات اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کی شمولیت نے احتجاج کو نئی جہت دی ہے ۔ مظاہرین انتخابی فہرستوں کی
نظرثانی، ووٹروں کے حقوق، الیکشن کمیشن کی جواب دہی اور پُرامن احتجاج کی آزادی کو ایک دوسرے سے منسلک مسائل قرار دے رہے
ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے ان کے سوالات کے جواب دیے جائیں اور انتخابی نظام پر اعتماد بحال کیا
جائے ۔

اس احتجاج کی گونج اب برطانیہ تک پہنچ چکی ہے ۔ اخبار دی پرنٹ نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے حوالے سے 17 اکتوبر 2026ء کو
رپورٹ کیا کہ لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کے قریب سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا۔ اس مظاہرے کا اہتمام
کانگریس کی برطانیہ میں سرگرم تنظیموں اور بھارتی طلبہ گروپوں نے کیا تھا۔ مظاہرین نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی اور چیف الیکشن کمشنر
گیانیش کمار کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے انتخابی عمل میں شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کیا۔رپورٹ کے مطابق مظاہرے میں
سرگرم کارکن دھرو راٹھی نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ووٹوں کی مبینہ چوری کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے ۔ مظاہرین نے انتخابی نظام
پر اعتماد کی بحالی اور چیف الیکشن کمشنر کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ تاہم لندن میں صرف حکومت مخالف مظاہرین ہی موجود نہیں تھے ؛ مودی حکومت
کے حامی بھارتی شہریوں نے بھی جوابی مظاہرہ کیا اور وزیراعظم کے حق میں نعرے لگائے ۔ دونوں گروہوں کے درمیان نعرے بازی ہوئی،
جبکہ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے انہیں ایک دوسرے سے الگ رکھا۔ اس صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کا انتخابی تنازع
بیرونِ ملک آباد بھارتی برادری کے اندر بھی اختلاف کا موضوع بن چکا ہے ۔بعض مقامات پر پاکستانی عوام بھی بھارتی شہریوں کے ساتھ
مظاہرے میں شامل تھے دونوں نے اپنے اپنے ملک کے جھنڈے پکڑے ہوئے تھے ۔اس سے ایک روز قبل، 16اکتوبر کو لندن میں بھارتی
ہائی کمیشن کے باہر اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کی برطانوی شاخ نے احتجاج کیا تھا۔ انڈیا ٹوڈے کی پریس ٹرسٹ آف انڈیا پر مبنی
رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے انتخابی فہرستوں سے ووٹروں کے نام خارج کیے جانے اور احتجاج کرنے والوں کے ساتھ پولیس کے
سلوک پر اعتراضات اٹھائے ۔

امریکہ میں بھی بھارتی انتخابی عمل اور شہری حقوق کے حوالے سے احتجاجی سرگرمیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔ ٹیلی گراف انڈیا نے 14 اکتوبر
کو پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے حوالے سے امریکہ میں ہونے والے مظاہروں کی تفصیلات شائع کیں۔اس سلسلے میں انڈین امریکن مسلم
کونسل اور ہندوز فار ہیومن رائٹس سمیت مختلف تنظیموں کی سرگرمیاں سامنے آئیں۔ انڈین امریکن مسلم کونسل کی 13 اکتوبر 2026ء کو
جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 9 سے 11 اکتوبر کے دوران امریکہ کی مختلف ریاستوں میں بھارتی نژاد شہریوں اور ان کے اتحادیوں
نے مظاہرے کیے ۔ ان مظاہروں میں انتخابی فہرستوں سے ووٹروں کے نام خارج کیے جانے اور بھارت میں احتجاج کرنے والوں کے
ساتھ سلوک پر اعتراضات اٹھائے گئے ۔جنتر منتر کے نعروں کو بیرونِ ممالک میں ہونے والے مظاہروں میں مودی سرکار کے خلاف شدید
نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین ‘‘56 انچ کا چھوٹا بندر’’!، ‘‘بھاگ نریندر، بھاگ نریندر’’!، ‘‘ووٹ چور، گدی چھوڑ’’!، ‘‘جب جب مودی
ڈرتا ہے ، پولیس کو آگے کرتا ہے ’’! اور ‘‘گیانیش کمار استعفیٰ دو’’! کے نعرے لگاتے رہے ۔

امریکہ میں ان مظاہروں کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ ان میں شریک افراد صرف بھارت کے اندرونی سیاسی اختلافات پر بات نہیں کر رہے بلکہ انتخابی شفافیت، اقلیتوں کے حقوق اور پُرامن احتجاج کی آزادی جیسے بنیادی جمہوری اصولوں پر توجہ دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بیرونِ ملکوں میں آباد بھارتی شہری جب اپنے آبائی ملک میں انتخابی عمل کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہیں تو اس سے عالمی سطح پر بھارتی جمہوریت کے بارے میں بحث کو تقویت ملتی ہے ۔ان واقعات سے یہ حقیقت ضرور نمایاں ہوتی ہے کہ مودی حکومت کے خلاف اختلافِ رائے اب صرف بھارت کی سیاسی جماعتوں یا
نوجوانوں تک محدود نہیں رہا۔ بیرونِ ملک ہونے والے مظاہرے اس بات کی علامت ہیں کہ بھارتی انتخابی سیاست کے معاملات عالمی
بھارتی برادری کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں اور شہریوں کے حقِ رائے دہی سے متعلق سوالات نے حکومت کے
لیے یہ ضرورت بڑھا دی ہے کہ وہ اپنے اقدامات کی وضاحت کرے اور ناقدین کے خدشات کا جواب دے ۔مودی حکومت کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ احتجاج کو سیاسی دشمنی سمجھ کر دبانے کے بجائے جمہوری اختلاف کے طور پر قبول کرتی ہے یا نہیں۔ اگر مظاہرین کے
مطالبات سے اختلاف ہو تو اس کا جواب دلیل، شفاف تحقیقات اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے دیا جانا چاہیے ۔ محض گرفتاریوں،
پابندیوں یا سخت بیانات سے عوامی خدشات ختم نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات ان میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے ۔

پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی کوششوں کے برعکس، مودی حکومت کو اب اپنے ہی ملک میں انتخابی شفافیت، جمہوری حقوق
اور شہری آزادیوں کے حوالے سے سوالات کا سامنا ہے ۔ عالمی ساکھ محض الزامات سے نہیں بلکہ جمہوری اداروں کی کارکردگی اور شہری
حقوق کے احترام سے قائم ہوتی ہے ۔ بھارت میں جاری احتجاج اسی کے داخلی جمہوری نظام اور ووٹروں کے حقوق سے متعلق ہے ۔

لندن اور امریکہ میں ہونے والے مظاہروں نے مودی حکومت کے سامنے یہ سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ کیا وہ اپنے ناقدین کے تحفظات
دور کرنے کے لیے تیار ہے ؟ کیا انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں شفافیت یقینی بنائی جائے گی؟ کیا احتجاج کرنے والوں کو پُرامن طور
پر اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہوگا؟ اور کیا الیکشن کمیشن عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے اپنے فیصلوں اور طریقۂ کار کی وضاحت کرے گا؟
ان سوالات کے جوابات ہی اس تنازعے کی آئندہ سمت متعین کریں گے ۔

مودی حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جمہوریت صرف انتخابات منعقد کرانے کا نام نہیں بلکہ انتخابی عمل پر عوامی اعتماد، اداروں کی غیر جانب
داری، اختلافِ رائے کے احترام اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا مجموعہ ہے ۔ اگر حکومت ان اصولوں پر عمل کرتی ہے تو احتجاجی تحریک کے سیاسی
اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے ، لیکن اگر اختلاف کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش جاری رہی تو یہ تنازعہ مزید طول پکڑ سکتا ہے ۔ بیرونِ ملک
ہونے والے مظاہروں نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت کے انتخابی تنازعے پر بحث اب سرحدوں کے اندر محدود نہیں رہی۔مودی
سرکار کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ بلند بانگ دعووں اور مخالفین پر الزام تراشی کے بجائے انتخابی شفافیت، شہری آزادیوں اور جمہوری
جواب دہی کے حوالے سے عملی اقدامات کرے ۔ عالمی سطح پر عزت اور اعتماد حاصل کرنے کا راستہ دوسروں کو تنہا کرنے کی کوششوں سے زیادہ
اپنے اداروں کو مضبوط بنانے اور اپنے شہریوں کے حقوق تسلیم کرنے سے گزرتا ہے ۔ اگر بھارتی حکومت اس حقیقت کو نظرانداز کرتی رہی تو
بیرونِ ملکوں میں ہونے والے احتجاج اس کے لیے مسلسل سیاسی دباؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔مودی حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جمہوریت صرف
انتخابات منعقد کرانے کا نام نہیں بلکہ انتخابی عمل پر عوامی اعتماد، اداروں کی غیر جانب داری، اختلافِ رائے کے احترام اور بنیادی حقوق کے
تحفظ کا مجموعہ ہے ۔ اگر بھارتی حکومت ان حقائق کو نظرانداز کرتی رہی تو اس کے خلاف احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے ۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں