میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سائبر جرائم کی شکایات میں 43 ہزار سے زائد کا اضافہ، 1 لاکھ 48 ہزار شکایات موصول

سائبر جرائم کی شکایات میں 43 ہزار سے زائد کا اضافہ، 1 لاکھ 48 ہزار شکایات موصول

جرات ڈیسک
پیر, ۱۹ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

مالی فراڈ کی شکایات 71 ہزار سے تجاوز کرگئیں، الیکٹرانک فراڈ کے 2 ہزار 827 مقدمات میں 1,527 گرفتاریاں، سزا صرف 6 مقدمات میں ہوسکی

 

پاکستان میں سائبر جرائم کی شکایات میں ایک سال کے دوران 43 ہزار سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو 2026ئ میں اب تک ایک لاکھ 48 ہزار 204 شکایات موصول ہوچکی ہیں۔

مالی فراڈ، بلیک میلنگ اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہوا، جبکہ بچوں سے متعلق قابلِ اعتراض مواد کی شکایات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ دستاویزات کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں شکایات کی تعداد میں 43 ہزار 714 کا اضافہ ہوا۔

مالی فراڈ کی شکایات 49 ہزار 982 سے بڑھ کر 71 ہزار 51 ہوگئیں، جبکہ بلیک میلنگ، ہراسانی اور ہتکِ عزت سے متعلق شکایات کی تعداد 50 ہزار 782 رہی۔

شناخت کی نقالی سے متعلق شکایات بھی بڑھ کر 4 ہزار 60 ہوگئیں، جو گزشتہ سال ایک ہزار 768 تھیں۔ دوسری جانب بچوں سے متعلق قابلِ اعتراض مواد کی شکایات 236 سے کم ہوکر 66 رہ گئیں۔

اس نوعیت کی 419 انکوائریوں میں سے 90 کو مقدمات میں تبدیل کیا گیا۔ ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق شکایات بھی 593 سے کم ہوکر 220 رہ گئیں، جبکہ انسانی اسمگلنگ سے متعلق شکایات ایک سے بڑھ کر 20 ہوگئیں۔

دستاویزات کے مطابق الیکٹرانک فراڈ اور جعل سازی کے خلاف 17 ہزار 115 انکوائریاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں 2 ہزار 827 مقدمات درج کرکے ایک ہزار 527 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، تاہم صرف 6 مقدمات میں سزائیں ہوسکیں۔

شناخت کی چوری کے 317 مقدمات میں 325 گرفتاریاں ریکارڈ کی گئیں۔ نفرت انگیز تقاریر کے 161 مقدمات درج کرکے 105 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے اور سائبر دہشت گردی کے 104 مقدمات میں 54 گرفتاریاں ہوئیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں