میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ملک یا اقتدار؟

ملک یا اقتدار؟

جرات ڈیسک
منگل, ۲۰ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

چارہمسائے ہیں،تین دشمن بنا لئے ،تینوں سے تجارت بند ہے ،چوتھے سے مہنگے قرضے لیے ،اب اس کے منصوبے بھی ویران کردیے۔ پانچ صوبے ہیں،ایک میں سکیورٹی ادارے موومنٹ نہیں کرسکتے ،دوسرے میں گورنر راج،تیسرے میں فارم سنتالیس کے فاتحین،چوتھا حمایت کے بدلے ٹھکوں کو دے رکھا،پانچویں میں بھی عوامی نمائندہ حکومت نہیں،ملحق ریاست میں شدید احتجاج،دھرنے چل رہے ہیں۔ ہمسائیوں سے تجارت بند،اپنے گھر میں بے چینی اور حکمرانوں کی نظریں اقتدار پر،پھر بتایئے ،یہ ملک ہے یا بند گلی؟ ملک چل رہا ہے یا اقتدار گھسیٹا جارہا ہے؟

کوئی ملک جغرافیے سے نہیں، اپنی حکمت عملی سے تنہا ہوتا ہے ۔ راستے موجود ہوں، ہمسائے موجود ہوں، منڈیاں موجود ہوں، مگرتجارت کے دروازے بند کر دیے جائیں تو سوال سرحدوں کا نہیں، فیصلوں کا پیدا ہوتا ہے ۔ پاکستان آج اسی سوال کے سامنے کھڑا ہے ۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے اپنے گرد راستے کھولنے کے بجائے دیواریں کھڑی کر لی ہیں۔بھارت، افغانستان اور ایران کے ساتھ تجارتی بندش کے اثرات صرف حکومتی فائلوں تک محدود نہیں۔ ان کا بوجھ کاروبار، روزگار، اشیائے ضروریہ اورعام شہری کی جیب تک پہنچ چکا ہے ۔ دنیا کے ممالک اختلافات کے باوجود تجارت کے راستے تلاش کرتے ہیں، کیونکہ معیشت کو دشمنی کی آگ میں جھونک کرترقی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ سفارت کاری کا ہنریہی ہے کہ جہاں اختلاف ہو، وہاں بھی قومی مفاد کا راستہ نکالا جائے ۔ چار ہمسائے رکھنے والا ملک اگر تین طرف سے تجارتی راستے بند کر لے تو اسے جغرافیے کی مجبوری کہیں گے یا حکمت عملی کی ناکامی؟

قرض لینا جرم نہیں، مگرقرض لے کرمنصوبے روک دینا ضرورسوال پیدا کرتا ہے ۔ چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی، توانائی اور
سڑکوں کے منصوبے شروع ہوئے ، ترقی کے خواب دکھائے گئے ، مگر جب یہی منصوبے تعطل کا شکارہوں تو سوال اٹھتا ہے کہ آخر رکاوٹ
کہاں ہے ؟ جس ملک کو معاشی بحران سے نکلنے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہو، وہ اپنے دستیاب مواقع کو ویران کیوں ہونے دے رہا
ہے ؟معیشت صرف قرضوں سے نہیں چلتی، منصوبوں کی تکمیل، کاروبار کے فروغ اور سرمایہ کار کے اعتماد سے چلتی ہے ۔ دنیا نئی منڈیاں
تلاش کر رہی ہے ، نئی صنعتیں لگا رہی ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے ، جبکہ ہم اپنے جاری منصوبوں کو مکمل کرنے میں الجھے ہوئے
ہیں۔ قرض کا سود اپنی جگہ بڑھتا رہتا ہے ، لیکن اگر منصوبہ آمدن اور روزگار پیدا نہ کرے تو قومی خزانے پر بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے ۔آخرہم
قرض لے کرملک بنانا چاہتے ہیں یا قرض لے کراپنی اگلی نسلوں کیلئے مزید قرض چھوڑنا چاہتے ہیں؟

ملک صرف سرحدوں سے نہیں، صوبوں سے بھی بنتا ہے ، اور صوبے صرف نقشے پر رنگ بھرنے کا نام نہیں، وہاں کروڑوں انسان بستے
ہیں جنہیں امن، اختیار اور نمائندگی چاہیے ۔ مگر ہمارے ہاں پانچ صوبوں کی صورت حال دیکھیے تو ایک ہی سوال مختلف شکلوں میں سامنے
آتا ہے ، کیا نظام عوام کیلئے چل رہا ہے یا عوام کو نظام کے مطابق چلنے پرمجبور کیا جا رہا ہے ؟ صوبائی حکومتیں اگرعوام کے اعتماد سے محروم ہوں، فیصلے نمائندگی کے بجائے طاقت کے توازن پرہوں اورسیاسی اختلاف کو مفاہمت کے بجائے انتظامی اقدامات سے حل کیا جائے تو بے چینی بڑھتی ہے ۔

ریاست کی طاقت کا اصل امتحان مخالف آواز کو دبانا نہیں، اس کا اعتماد حاصل کرنا ہے ،جب صوبے موجود ہوں، حکومتیں بھی ہوں، مگرعوامی اختیاراوراعتماد سوال بن جائیں تو پھر مسئلہ صوبوں کا نہیں، پورے نظام کا ہوتا ہے ۔ ریاستیں صرف طاقت سے نہیں، اعتماد سے قائم رہتی ہیں۔ جب عوام کومحسوس ہو کہ ان کی آواز فیصلہ سازوں تک نہیں پہنچ رہی تو احتجاج ان کی آخری زبان بن جاتا ہے ۔ حکومتوں کی کامیابی اس میں نہیں کہ سڑکیں کتنی جلدی خالی کرا لی گئیں، بلکہ اس میں ہے کہ لوگوں کو دوبارہ سڑکوں پر آنے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔ بیرونی محاذ پرمحدود ہوتے تجارتی راستے ، تعطل کا شکار منصوبے ، صوبوں میں سیاسی بے چینی اور ملحق ریاست میں احتجاج،یہ سب الگ الگ تصویریں ضرور ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک مشترکہ سوال موجود ہے ، کیا ہم مسائل حل کر رہے ہیں یا صرف ان کے اگلے دھماکے تک مہلت حاصل کر رہے ہیں؟

ملک چلانے کیلئے صرف حکومتیں، اسمبلیاں، ادارے اورسرحدیں کافی نہیں ہوتیں۔ اس کیلئے واضح سمت، مضبوط معیشت، ہمسایوں سے
دانش مندانہ تعلقات اورعوام کا اعتماد بھی ضروری ہے ۔ تجارت بند ہو، منصوبے رک جائیں، صوبوں میں سیاسی اختیار پرسوال اٹھیں اور لوگ
احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں تو حکمرانوں کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی چاہیے ۔ ہرمسئلے کا جواب طاقت نہیں، ہراختلاف کا حل پابندی
نہیں اورہربحران سے نکلنے کا راستہ قرض نہیں ہوتا۔ پاکستان کسی بند گلی کا نام نہیں۔ اس ملک کے پاس وسائل بھی ہیں، صلاحیتیں بھی اور
آگے بڑھنے کے راستے بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قومی فیصلے اقتدار بچانے کے بجائے ملک بنانے کیلئے کیے جائیں۔

ہمسایوں سے تجارت، سرمایہ کاری کے منصوبوں کی تکمیل، صوبوں میں حقیقی نمائندگی اور عوامی مسائل کا حل کسی ایک جماعت کا ایجنڈا نہیں،
ریاست کی بنیادی ضرورت ہے ۔ملک چلانے کیلئے راستے کھولنے پڑتے ہیں، دل جیتنے پڑتے ہیں اورفیصلے بدلنے پڑتے ہیں، ورنہ
اقتدارتو بچ سکتا ہے ، ملک نہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں