محکمہ اسپورٹس سندھ کی ترقیاتی اسکیموں میں بے ضابطگیاں
شیئر کریں
3 ؍ارب 74کروڑ روپے مختص ہونے کے باوجود اخراجات تقریباً36فیصد تک محدود
متعدداسکیمیں غیرتسلی بخش قرار،ترقیاتی فنڈز کے استعمال پر سنگین سوالات اُٹھ گئے
(رپورٹ: اسد آرائیں ) محکمہ اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز سندھ کی ترقیاتی اسکیموں کے مڈ ایئر ریویو میں فنڈز کے کم استعمال، منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر، مانیٹرنگ رپورٹس میں خامیوں اور مکمل اسکیموں کی لازمی دستاویزات جمع نہ کرانے سمیت متعدد انتظامی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
محکمہ کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سیل (MEC)کے اجلاس کی کارروائی کے مطابق 92 ترقیاتی اسکیموں کے لیے 3ارب 74 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 2 ارب 28 کروڑ 57 لاکھ روپے جاری ہوئے، تاہم 23 جنوری 2026 تک اخراجات ایک ارب 38 کروڑ 43 لاکھ روپے رہے ، جو مجموعی مختص رقم کا 36.93 فیصد ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 92اسکیموں میں 70جاری اور 22نئی اسکیمیں شامل ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نئی اسکیموں کے لیے فنڈز کے اجرا اور عملی پیش رفت کے حوالے سے مسائل موجود ہیں، جبکہ چار اسکیموں میں فنڈز جاری ہونے کے باوجود کوئی خرچ نہیں ہوا۔ مزید چار اسکیموں کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔
رپورٹ میں 41اسکیموں کے جولائی 2020سے پہلے منظور شدہ پرانی اسکیموں کے بجائے LTBC حیثیت میں مکمل ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے ، جبکہ چار اسکیمیں نظرثانی کے مرحلے میں ہیں۔ اجلاس کی کارروائی میں انکشاف کیا گیا کہ محکمہ اسپورٹس کی چھ اسکیموں یا یونٹس کی مانیٹرنگ رپورٹس غیر تسلی بخش قرار دی گئی ہیں، جن میں تین رواں مالی سال اور تین گزشتہ مالی سال کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں محکمہ اسپورٹس نے 130ترقیاتی اسکیمیں مکمل کیں، تاہم ان میں سے 109اسکیموں کے پی سی فور( PC-IV)جمع کرائے گئے، جبکہ 21منصوبوں کی دستاویزات تاحال زیر التوا ہیں۔ پی سی فورمکمل منصوبے کی تکمیل، اخراجات اور حاصل شدہ نتائج کا جائزہ لینے کے لیے اہم دستاویز ہے۔
دسمبر 2025میں محکمہ اور متعلقہ ایگزیکیوٹنگ ایجنسیوں نے 86اسکیموں کی ماہانہ پیش رفت رپورٹس جمع کرائیں، تاہم ماہانہ اوسط کے مطابق چھ اسکیموں کی رپورٹس جمع نہیں کرائی جا رہیں۔ حکام کو تمام اسکیموں کی پیش رفت رپورٹس اور متعلقہ سیکشن کو باقاعدگی سے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔
مزید برآں، جولائی 2020 سے پہلے منظور شدہ پرانی اسکیموں میں سے بعض پر ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ کام کررہا ہے ، لیکن چند منصوبوں کی مانیٹرنگ رپورٹس غیر تسلی بخش ہیں اور مطلوبہ تعمیلی دستاویزات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔ رپورٹ میں سامنے آنے والے نکات کے مطابق محکمہ اسپورٹس کے ترقیاتی منصوبوں میں فنڈز کے بروقت استعمال، اضافی کاموں کی منظوری، نظرثانی شدہ پی سی ون جمع کرانے، ماہانہ پیش رفت رپورٹس اور مکمل اسکیموں کے پی سی فور کی فراہمی جیسے معاملات توجہ طلب ہیں۔
اجلاس میں متعلقہ حکام کو مقررہ مدت میں دستاویزات اور تعمیلی جوابات جمع کرانے اور منصوبوں کو منظور شدہ لاگت اور دائرہ کار کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔محکمہ اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز سندھ کی ترقیاتی اسکیموں میں فنڈز کے کم استعمال، اضافی کاموں، لاگت میں تبدیلی، منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر، غیر تسلی بخش مانیٹرنگ اور مطلوبہ دستاویزات جمع نہ کرانے کے اسباب کی جامع اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔
متعلقہ حکام کی کارکردگی، منظور شدہ فنڈز کے استعمال اور منصوبوں میں ہونے والی تاخیر کا تفصیلی آڈٹ کرایا جائے ، جبکہ غفلت، کوتاہی یا انتظامی نااہلی کے ذمہ دار افسران کا تعین کرکے ان کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ زیر التوا دستاویزات کی تکمیل، فنڈز کے استعمال اور تمام ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کی نگرانی یقینی بنائی جائے تاکہ سرکاری وسائل کے موثر استعمال اور عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ممکن بنایا جاسکے ۔


