سندھ حکومت کے گوداموں میں بوریوں کی گندم ضائع ہونے کا خدشہ
شیئر کریں
کراچی کے گوداموں میں 40لاکھ بوریاں اسٹاک میں موجود،لانڈھی میں 2لاکھ سے زائد بوریوں میں گندم گل سڑ کر خراب ہوگئی
صوبائی حکومت نے یہ گندم دو سال قبل 10ہزار روپے 100کلو کے حساب سے امدادی قیمت میں خریدی تھی،متعلقہ حکام کی گفتگو
سندھ حکومت کے گوداموں میں ایک کروڑ سے زائد بوریوں میں موجود گندم ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔کراچی شہر کے گوداموں میں 40لاکھ بوریاں اسٹاک میں موجود ہیں جبکہ لانڈھی گودام میں 2لاکھ سے زائد بوریوں میں بھری گندم گل سڑ کر خراب ہو چکی ہے۔متعلقہ حکام نے بتایاکہ صوبائی حکومت نے یہ گندم دو سال قبل 10 ہزار روپے 100 کلو کے حساب سے امدادی قیمت میں خریدی تھی مگر اوپن مارکیٹ میں قیمت ساڑھے تین ہزار کم تھی، اس لیے اسے فروخت نہیں کیا گیا۔حکام کے مطابق اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت گرتے گرتے 6 ہزار 400 روپے تک پہنچ گئی جس کے باعث مہنگے داموں خریدی گئی گندم بیچنے کا فیصلہ التوا میں پڑا ہوا ہے۔ اس شش و پنج کا نتیجہ یہ نکلا کہ لانڈھی گودام میں اسٹاک 2 لاکھ ٹن سے زائد گندم روٹیوں میں ڈھلنے اور غریبوں کے پیٹ میں جانے کے بجائے گل سڑ کر برباد ہوگئی۔


