میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایران کے اسرائیلی حملہ کے بعد بھارت مشکل میں پڑگیا

ایران کے اسرائیلی حملہ کے بعد بھارت مشکل میں پڑگیا

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۷ اپریل ۲۰۲۴

شیئر کریں

اسرائیل پر ایرانی حملے کے بعد بھارت مشکل میں پڑگیا ،بھارت کے لیے مشرقِ وسطی ایک ایسا اہم خطہ ہے جہاں تیزی سے بدلتی صورتِ حال نئی دہلی کی حکومت نظرانداز نہیں کر سکتی۔ مبصرین کے مطابق بھارت کے مشرقِ وسطی میں مفادات ہیں اور اگر اس خطے میں غیر یقینی حالات پیدا ہوئے تو اس کا اثر بھارت پر بھی پڑ سکتا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک عشرے کے دوران بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے مشرقِ وسطی کے ملکوں کے ساتھ نہ صرف سفارتی تعلقات کو نئی جہت دینے کی کامیاب کوشش کی ہے بلکہ انہوں نے خطے کے حکمرانوں کے ساتھ ذاتی تعلقات بھی استوار کیے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب ایران نے دمشق میں اپنے سفارت خانے پر اسرائیلی حملے کا جواب دیا تو بھارت نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ایرانی جوابی حملے کے بعد بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان کہا تھا کہ "ہم اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی دشمنی پر انتہائی فکر مند ہیں۔ اس سے خطے میں امن و سلامتی کو خطرہ ہے۔”بھارتی وزارتِ خارجہ نے دونوں ملکوں سے تحمل سے کام لینے اور مذاکرات و سفارت کاری سے کشیدگی کو دور کرنے کی اپیل کی تھی۔بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے بھی دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور کشیدہ صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر فلسطینی تنظیم حماس کے حملے کے بعد بھارت کے ردِ عمل اور اسرائیل پر ایران کے حملے کے بعد کے ردِ عمل میں کافی فرق ہے۔اول الذکر واقعہ میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے حماس کے حملے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ایران کے حملے پر نئی دہلی کا ردِ عمل محتاط ہے۔خارجہ امور کے سینئر تجزیہ کار کلول بھٹاچارجی کا کہنا ہے کہ ایران اسرائیل جنگ کی صورت میں بھارت نہ تو کسی ایک کی حمایت کر سکتا ہے اور نہ ہی مخالفت۔ بھارت کے دونوں ملکوں سے اہم تعلقات ہیں اور وہ ان میں سے کسی ایک کی حمایت یا مخالفت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کلول بھٹاچارجی نے کہا کہ خلیجی ممالک میں بھارت کے 70 لاکھ افراد کام کرتے ہیں جو سالانہ 90 بلین ڈالر سے زیادہ زرِمبادلہ بھارت بھیجتے ہیں۔ مشرقِ وسطی میں جنگ کی صورت میں بھارتی ورکرز سب سے زیادہ متاثر ہوں گے اور زرِ مبادلہ کی ترسیل رک جائے گی جس کا اثر نئی دہلی کی معیشت پر بھی پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی تنازعہ تاریخی ہے اور بھارت اسے اسی تناظر میں دیکھتا ہے۔ اگر ایران اسرائیل جنگ ہوئی تو بھارت ہر حال میں متاثر ہوگا۔خارجہ امور کے سینئر تجزیہ کار اوما شنکر سنگھ کہتے ہیں کہ بھارت کے اسرائیل کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات ہیں جب کہ ایران کے ساتھ تاریخی رشتہ ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں