میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ چار سال سے ترمیمی قانون پر عمل درآمد نہ کرسکا، پی اے سی میں انکشاف

سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ چار سال سے ترمیمی قانون پر عمل درآمد نہ کرسکا، پی اے سی میں انکشاف

جرات ڈیسک
جمعرات, ۱۵ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

کراچی سے کچرا اٹھانے پر سالانہ 24 ارب روپے خرچ، آمدن اور بجلی پیدا کرنے کا کوئی مؤثر نظام نہیں، ڈویڑنل بورڈز کی تشکیل اور قواعد بنانے کا حکم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ترمیمی ایکٹ 2021 کے تحت چار سال گزرنے کے باوجود سندھ کے ڈویڑنل ہیڈکوارٹرز میں میئرز کی سربراہی میں بورڈز تشکیل نہیں دیے جاسکے، جبکہ ادارے کے قواعد بھی مرتب نہیں کیے گئے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ادارہ تاحال 2014 کے قانون کے تحت کام کر رہا ہے اور اس کے انتظامی امور ایک منیجنگ ڈائریکٹر کے اختیارات میں ہیں۔

کمیٹی نے محکمہ بلدیات کو سندھ بھر میں ڈویڑنل بورڈز تشکیل دینے اور قواعد مرتب کرنے کا حکم دے دیا۔جمعرات کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں کمیٹی ارکان قاسم سراج سومرو، طحہٰ احمد، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ایم ڈی فواد غفار سومرو اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں ادارے کے 2023 اور 2024 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔آڈٹ حکام نے اعتراض اٹھایا کہ ادارہ کچرے کی ری سائیکلنگ سے آمدن پیدا نہیں کرسکا اور نہ ہی کچرے سے بجلی بنانے کے لیے کوئی مؤثر انتظام کیا گیا، جس کے باعث عوام کو کم لاگت بجلی کی فراہمی کے ممکنہ مواقع سے فائدہ نہیں پہنچ سکا۔

چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے ادارے کے سالانہ بجٹ، مختلف اضلاع سے جمع کیے جانے والے کچرے، اس پر اٹھنے والے اخراجات اور کچرے سے حاصل ہونے والی آمدن کی تفصیلات طلب کیں۔ ایم ڈی فواد غفار سومرو نے بتایا کہ ادارے کا سالانہ بجٹ 28 ارب روپے ہے، جس میں سے 24 ارب روپے صرف کراچی سے کچرا اٹھانے پر خرچ کیے جاتے ہیں۔

شہر سے روزانہ 10 ہزار سے 12 ہزار ٹن کچرا جمع کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کراچی میں کچرا اٹھانے کے لیے تین چینی اور ایک ترک کمپنی کو ٹھیکے دیے گئے ہیں، جبکہ برطانیہ کے ساتھ کراچی اور حیدرآباد میں کچرا جمع ہونے کے مقامات پر ری سائیکلنگ یونٹس قائم کرنے کے لیے معاہدہ کیا گیا ہے۔ ڈی ایچ اے کے ساتھ بھی کچرے کی ری سائیکلنگ کے لیے معاہدہ کیا گیا ہے۔

ایم ڈی کے مطابق کراچی کے تقریباً 70 فیصد آباد علاقوں میں بلند عمارتوں سے ڈسٹ بن کے ذریعے کچرا اٹھایا جاتا ہے، جبکہ باقی 30 فیصد کچی آبادیوں میں ٹرالیوں کے ذریعے کچرا جمع کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاڑکانہ کی طرز پر کراچی کے ایک ضلع میں گھر گھر سے کچرا اٹھانے کا کام بھی شروع کیا گیا ہے۔

چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ صرف ڈیفنس پورا کراچی نہیں، شہر کے مختلف علاقوں سے کچرا نہ اٹھائے جانے کی شکایات موصول ہوتی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر روزانہ ہزاروں ٹن کچرا جمع کیا جارہا ہے تو اس سے کتنی آمدن حاصل ہورہی ہے اور اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے ضلع وار کچرا اٹھانے کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ادارہ کچرے سے بجلی پیدا نہیں کرسکتا تو اس کی کارکردگی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

کمیٹی رکن طحہٰ احمد نے کہا کہ اورنگی ٹاؤن، نیو کراچی، ناظم آباد اور دیگر علاقوں کی سڑکوں پر کچرا پڑا رہتا ہے، جبکہ ادارے کے بعض ملازمین کی حاضری اور شناخت کے نظام پر بھی سوالات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے پورٹل پر ملازمین کی شناختی معلومات اور تصاویر میں مبینہ تضادات پائے جاتے ہیں۔

کمیٹی رکن قاسم سراج سومرو نے کہا کہ ترمیمی ایکٹ 2021 کے تحت اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے ہر ڈویڑن میں بورڈز تشکیل دیے جانے تھے، لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجوہات سامنے آنی چاہئیں۔ایم ڈی فواد غفار سومرو نے بتایا کہ ترمیمی ایکٹ کے تحت کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص اور لاڑکانہ میں ڈویڑنل بورڈز کی تشکیل کی منظوری سندھ کابینہ اور متعلقہ اسٹیئرنگ کمیٹی دے چکی ہیں اور معاملہ محکمہ بلدیات کو بھیجا گیا ہے۔ وزیر بلدیات کی سربراہی میں اسٹیئرنگ کمیٹی کام کررہی ہے، جبکہ ڈویڑنل بورڈز کی تشکیل سے متعلق سفارشات کے لیے وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اور وزیر محنت و افرادی قوت پر مشتمل کمیٹی بھی قائم ہے۔نثار کھوڑو نے کہا کہ ترمیمی ایکٹ منظور ہوئے چار سال گزر چکے ہیں، لیکن نہ ڈویڑنل بورڈز تشکیل دیے گئے اور نہ ہی ادارے کے قواعد بنائے گئے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورت میں ادارہ کس قانونی بنیاد پر کام کررہا ہے۔ ایم ڈی نے جواب دیا کہ منیجنگ ڈائریکٹر انتظامی اور عملی امور کے لیے ایگزیکٹو اختیارات استعمال کرسکتا ہے۔

اجلاس کے اختتام پر پی اے سی نے سندھ کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں محکمہ بلدیات کو کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد اور لاڑکانہ میں ڈویڑنل سطح پر بورڈز تشکیل دینے اور ادارے کے قواعد مرتب کرنے کا حکم دیا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں