میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

ویب ڈیسک
منگل, ۱۶ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ
ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں گندم خریداری، ذخائر، قیمتوں اور غذائی تحفظ کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری سندھ، متعلقہ سیکریٹریز اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی جبکہ وزیراعلی کو گندم خریداری اور مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ میں گندم خریداری کا عمل یکم اپریل 2026 سے شروع کیا گیا اور حکومت نے امدادی قیمت 3500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی جبکہ 50 کلوگرام کی ہر بوری پر 60 روپے بار دانہ ادائیگی کی منظوری بھی دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ گندم آبادگار سپورٹ پروگرام کے تحت 3 لاکھ 32 ہزار سے زائد کاشتکار اہل قرار پائے جبکہ ایک ملین میٹرک ٹن گندم خریداری کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم 12 جون تک 81 ہزار 348 میٹرک ٹن گندم خریدی جا سکی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ نجی شعبے کے پاس صوبے بھر میں 5 لاکھ 88 ہزار 512 میٹرک ٹن گندم ذخیرہ موجود ہے جبکہ مختلف اضلاع میں بھی بڑی مقدار میں ذخائر موجود ہیں۔وزیراعلی سندھ نے گندم خریداری ہدف سے کم ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ کمی پوری کرنے کے لیے مقامی مارکیٹ سے ایک لاکھ 77 ہزار 40 میٹرک ٹن گندم خریدی جائے جبکہ سندھ میں موجود پاسکو گوداموں سے مزید 2 لاکھ ٹن گندم کے حصول کا عمل تیز کیا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ گندم کی ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ محکمہ خوراک کو ریئل ٹائم نگرانی، مارکیٹ استحکام اور قیمتوں کے موثر کنٹرول کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو ذخیرہ اندوزوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے جبکہ آٹے کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آبادگاروں اور صارفین دونوں کے مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور گندم کے وافر ذخائر اور قیمتوں میں استحکام کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں