میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
فرق

فرق

ویب ڈیسک
هفته, ۱۶ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ب نقاب /ایم آر ملک

”ایک غریب نہتی عورت کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا جا رہا ہے جبکہ منشیات مافیا کی ایجنٹ پنکی کو پروٹوکول مل رہاہے ”۔
لیکن ٹھہریئے !
ہمارے پولیس ، عدالتی نظام کا ماسٹر مائنڈ فرنگی کردار”لارڈ میکالے” تھا !
تھامس بیبنگٹن میکالے(Thomas Babington Macaulay) (1800ئ–1859ئ) ایک برطانوی سیاست دان، مؤرخ اور شاعر تھے، جو برصغیر میں برطانوی تعلیمی نظام کے معمار کے طور پر مشہور ہے ۔ 1835ء میں اس کی تعلیمی پالیسی نے فارسی کی جگہ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا، جس کا مقصد ایسے ہندوستانی پیدا کرنا تھا جو انگریزوں کے وفادار ہوں، بر عظیم پاک و ہند آج بھی اس کے بنائے گئے نظام کا قیدی ہے۔لارڈ میکالے کی وہ ”شیطانی وارداتیں” جنہوں نے دنیا کو آج تک غلام بنا رکھا ہے:
مخالفانہ عدالتی نظام (Adversarial System)
لارڈ میکالے نے ہندوستانیوں کا وہ قاضی چھین لیا جو سچ کی تلاش میں خود نکلتا تھا۔ قاضی اور پنچایت پر مشتمل اسلامی نظامِ عدل کو غیر مہذب قرار دے کر وہ نظام دیا جہاں جج کا کام سچ ڈھونڈنا نہیں، بلکہ صرف ایک خاموش تماشائی بن کر وکیلوں کی کہانیاں سننا ہے۔ لارڈ میکالے نے ریاست کو بری الذمہ کر کے ثبوت اکٹھا کرنے کا سارا بوجھ (Burden of Proof) مظلوم عوام پر ڈال دیا۔ کیوں کہ ایک بے بس مظلوم کبھی بھی برطانوی سامراج کے وفادار چوہدریوں اور وڈیروں کے خلاف ثبوت نہیں لا سکے گا۔
لارڈ میکالے کا قانونِ شہادت (Law of Evidence)
تھامس لارڈ میکالے نے سچائی کے گرد قانونی باریکیوں (Legal Technicalities) کا ایسا جال بُنا کہ سچ اس کے آگے خود ہی دم توڑ جائے۔ اگر جج کی آنکھوں کے سامنے بھی کسی کا قتل ہوجائے، لیکن پھر بھی جج قاتل یا مجرم کو سزا نہیں سنا سکتا جب تک انگریز کے بنائے ہوئے قانونِ شہادت (Evidence Act) کے سخت تقاضے پورے نہ ہوں۔ جج کے ضمیر کو گروی رکھ کر اسے کاغذ کا غلام بنا دیا۔
تعزیراتِ ہند (Indian Panel Code /Pakistan Panel Code )
تعزیراتِ ہند جسے آج ہم تعزیراتِ پاکستان (Pakistan Penal Code) کہتے ہوئے ہماری اشرافیہ جسے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں، میکالے کا سب سے خطرناک ہتھیار یہی ہے۔ اُس نے اس میں Benefit of Doubtکا ایسا خطرناک سوراخ رکھا کہ پاکستانی پولیس (جو کہ میکالے نے ہی ہندوستانی عوام کو کچلنے کے لیے بنائی تھی) تفتیش میں ذرا سی بھی جان بوجھ کر غلطی کر دے، تو جج اسی شک کی بنیاد پر قاتل وڈیروں جاگیر داروں با اثر شخصیات کو باعزت بری یعنی رہا کر سکتاہے۔
انصاف میں تاخیر (Justice Delayed)
بینینگٹن لارڈ میکالے کی خواہش تھی کہ مقبوضہ عوام کے لیے انصاف کو اتنا مہنگا اور ناقابلِ رسائی بنا دیا جائے کہ عام بندہ تھک کر گھر بیٹھ جائے۔ میکالے نے مقدمہ بازی کے طریقہ کار یعنی لیجٹ میشن پراسیس کو اتنا مشکل بنا دیا، جہاں ایک سول مقدمے کو سول کورٹ سے سپریم کورٹ پہنچنے میں تقریباً 25 سال لگتے ہیں۔ میکالے جانتا تھا کہ جب تک فیصلہ آئے گا، مظلوم کی نسلیں مٹ چکی ہوں گی اور قاتل کے بیٹے اور پوتے اسمبلی میں بیٹھ کر اسی کے قانون کی حفاظت کر رہے ہوں گے۔ وہ جانتا تھا انصاف میں تاخیر ہی اصل میں ظلم ہے، لیکن ہندوستانیوں کو غلام رکھنے کے لیے یہ ظلم اس نے ضروری سمجھا۔
تعلیمی پالیسی کا تاریخی نوٹ (Minute on Education)
تھامس میکالے نے لوکل ہندوستانی زبان چھین کر انہیں انگریزی قانون کا محتاج کیا۔ اُس نے اپنی کمال حیوانی عقل سے وہ طبقہ تیار کیا جو
رنگ اور خون کے اعتبار سے تو پاکستانی ہے، مگر Hobby Thinking Personality اور آئیڈیالوجی میں انگریز ہے۔ آج ہمارا عدالتی نظام ججوں کے کالے کرتوت اور بیوروکریسی اسی میکالے والی سوچ کی وارث ہے۔
آج مڈل کلاس/لوئر مڈل کلاس طبقے کی شکست اور جاگیر داروں لٹیروں مافیاز کا پروٹوکول لائف اسٹینڈرڈ ہی دراصل لارڈ میکالے کی جیت ہے۔ ہماری اشرافیہ آزاد نہیں ہوئے، یہ آج بھی تھامس میکالے کے استعماری ورثے (Colonial Legacy) کے قیدی ہیں۔ جب تک انگریز کی روح (اُسکا چھوڑا ہوا نظام) ہماری عدالتوں میں زندہ ہے، تب تک عوام کو صرف تاریخ پہ تاریخ ملے گی، انصاف نہیں! پنکی خود بوس ہے یا اسکے پیچھے مافیا
پاکستانی معاشرے میں جب بھی کسی بڑے منشیات فروش، بااثر شخصیت یا طاقتور طبقے سے تعلق رکھنے والے کردار کی گرفتاری سامنے آئی میڈیا، سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ایک شور برپا دیکھا ۔ کوکین ڈیلر”پنکی” کی گرفتاری اور عدالت میں پیشی بھی اسی بحث کا حصہ بنی ۔ پرنٹ میڈیا سے لے کر الیکٹرانک میڈیا تک ہر طرف اس واقعے کے چرچے ہوئے ، مگر اصل سوال یہ نہیں کہ کون گرفتار ہوا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ قانون اور انصاف کا معیار آخر کس کے لیے مختلف ہو جاتا ہے؟ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان میں انصاف کا ترازو اکثر طاقت، دولت اور تعلقات کے وزن سے جھک جاتا ہے۔ عرصہ قبل منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ہونے والی ایک ماڈل کی مثال آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ باتیں گردش کرتی رہیں کہ انہیں ہتھکڑی نہ لگانے کی وجہ ان کے بااثر حلقوں سے روابط تھے۔ پھر وقت گزرا، مقدمات کی گرد بیٹھ گئی اور وہ منظر سے غائب ہو گئیں۔ اسی طرح ایک منتخب نمائندے کی گاڑی سے برآمد ہونے والی شراب کی بوتل بھی لمحوں میں”شہد”قرار دے دی گئی ۔ سوال یہ ہے کہ کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟
یہ المیہ صرف چند شخصیات کا نہیں بلکہ پورے نظام کی کمزوری کا ہے۔ غریب، لاوارث اور بے وسیلہ انسان جب تھانے یا عدالت کے دروازے پر پہنچتا ہے تو اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی اور آنکھوں میں خوف ہوتا ہے، جبکہ طاقتور طبقہ اکثر پروٹوکول، ضمانتوں اور تعلقات کے حصار میں محفوظ دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جو معاشرے میں احساسِ محرومی، نفرت اور ناانصافی کو جنم دیتا ہے۔منشیات فروش چاہے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، ان کا اصل جرم صرف قانون شکنی نہیں بلکہ پوری نسل کو تباہی کے دہانے پر دھکیلنا ہے۔ کوکین، آئس اور دیگر نشہ آور اشیاء نے نوجوان نسل کی سوچ، اخلاق، صحت اور مستقبل کو بری طرح متاثر کیا ،تعلیمی اداروں سے لے کر گلی محلوں تک نشے کا پھیلاؤ تہذیبی اقدار، خاندانی نظام اور معاشرتی امن کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اس تباہی کے اصل کردار اکثر قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں جبکہ کمزور طبقات سخت سزاؤں اور ذلت کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ صورتحال صرف قانونی بحران نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور تہذیبی زوال کی عکاس بھی ہے۔ جب معاشرے میں طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ قانون ہو تو نوجوان نسل انصاف، دیانت اور ریاستی اداروں پر اعتماد کھو دیتی ہے۔ یہی بے اعتمادی رفتہ رفتہ معاشرتی بگاڑ، بدامنی اور اخلاقی انحطاط کو جنم دیتی ہے، تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انصاف کمزور ہوا، معاشرے میں انتشار نے جنم لیا۔ ریاستیں صرف طاقت سے نہیں انصاف، مساوات اور اخلاقی اقدار سے قائم رہتی ہیں۔ اگر قانون کی عملداری واقعی مضبوط کرنی ہے تو پھر قانون کو ہر چہرے، ہر حیثیت اور ہر طاقتور کے سامنے یکساں ہونا ہوگا۔ ورنہ عدالتیں، گرفتاریاں اور میڈیا ٹرائل صرف تماشہ بن کر رہ جائیں گے جبکہ نسلیں خاموشی سے تباہ ہوتی رہیں گی۔
ایک عورت کو روٹی چرانے کے جرم میں سڑکوں پر گھسیٹا گیا دوسری جاگیر داروں وڈیروں کے بچوں منشیات سپلائی کرنے والے مافیا کی ملازم، ایک بیچاری مظلوم مڈل/لوئر مڈل کلاس نہتی عورت ، دوسری کو شاہانہ پروٹوکول اب ہر پاکستانی یقین سے کہہ رہا ہے پنکی جس نے اشرافیہ کے لئے برسوں کام کیا یہ اب اُن کے گلے کی ہڈی بنی تو اسے گرفتار کیا گیا ورنہ یہ سب ایک ہی ہیں یہی وجہ ہے کہ پنکی بہت دھڑلے سے چیلنج کرتی ہوئی نظر آرہی ہے یقینا اس کے پیچھے مضبوط کردار ہونگے جن کو یہ بلیک میل کرسکتی ہے اور نظام کو جھکنا پڑے گا اگر پنکی کے نصیب ہارے ہوئے تو اشرافیہ نے کئی ایسے مہرے استعمال کیے پھر ٹشو بنا کر پھینک دیے، آگے دیکھتے ہیں ہوتا کیا ہے لیکن یہ پنکی کے اپنوں کی سازش لگتی ہے۔ ریاست، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سماجی قیادت کو مل کر یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان میں انصاف کی بنیاد طاقت ہے یا سچ اور قانون کیونکہ جب قانون کمزور اور ضمیر خاموش ہو جائے تو پھر قومیں صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی طور پر بھی ٹوٹنے لگتی ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں