محسن نقوی اور پاکستان بچاؤ!
شیئر کریں
کبھی کبھی کتابیں اپنے زمانے سے پہلے لکھی جاتی ہیں۔ جب وہ شائع ہوتی ہیں تو بہت سے لوگ انہیں محض ایک مصنف کی رائے ، ایک خواب یا ایک جذباتی تجزیہ سمجھتے ہیں، لیکن وقت کا پہیہ جب آگے بڑھتا ہے تو وہی خیالات قومی مباحثے کا حصہ بننے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نظریات کی اصل طاقت ان کی مقبولیت میں نہیں، بلکہ ان کی پیش بینی میں ہوتی ہے ۔ اگر کوئی بات آج غیر مقبول لگتی ہے لیکن چند برس بعد وہی بات ایوانوں، اداروں اور حکومتی حلقوں میں دہرائی جانے لگے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مصنف جیت گیا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ اتنا گہرا تھا کہ آخرکار سب کو اسے تسلیم کرنا پڑا۔چند ماہ قبل میری کتاب ‘‘ پاکستان بچاؤ’’ منظرعام پرآئی۔ اس کتاب میں میں نے ایک بنیادی سوال اٹھایا تھا کہ کیا پاکستان کا موجودہ نظام واقعی عوام کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ؟ میرا جواب صاف تھا کہ یہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے ، اس کی ساخت فرسودہ ہوچکی ہے ، اس کے اندر اصلاحات کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے ، اس لیے محض حکومتیں، وزراء یا جماعتیں بدلنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔ اصل ضرورت اس پورے نظام پرسنجیدہ نظرثانی کی ہے ۔ اسی لیے میں نے صرف تنقید پراکتفا نہیں کیا بلکہ ایک متبادل نظام بھی پیش کیا تھا، کیونکہ مسائل کی نشاندہی آسان ہے ، حل پیش کرنا اصل امتحان ہوتا ہے ۔ گزشتہ روزجب وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا موجودہ نظام اپنی حدوں کو پہنچ چکا ہے اور نئے نظام کی ضرورت ہے ۔ وہی بات،جو میں نے اپنی کتاب ‘‘ پاکستان بچاؤ’’میں لکھی،وہی سوال جو میں نے اٹھایا،وہی درد جومیں نے محسوس کیا،وہی نظریہ جو میں نے بیان کیا،مجھے خوشی اس بات کی نہیں کہ کسی نے میری بات سے ملتی جلتی بات کہہ دی،خوشی اس بات کی ہے ، شاید اب پاکستان پہلی بار اس بنیادی سوال پر سنجیدگی سے غور کرنے کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے کہ مسئلہ افراد کا ہے یا نظام کا؟ وہ سوال، جسے کبھی مبالغہ یا مایوسی قراردیا جاتا تھا، اب قومی سطح پرزیربحث آنے لگا ہے ۔
ہم نے اپنی قومی سیاست میں ہمیشہ چہروں کو موضوع بنایا، نظام کو نہیں۔ کبھی کسی ایک جماعت کو تمام خرابیوں کی جڑ قرار دیا گیا، کبھی دوسری جماعت کو ملک کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، کبھی کسی ایک وزیراعظم کو نجات دہندہ سمجھا گیا اور کبھی دوسرے کو تمام مسائل کا سبب۔ عوام ہرچند سال بعد نئی امید کے ساتھ ووٹ ڈالتی رہی، نئے نعرے سنتی رہی، نئے وعدوں پر یقین کرتی رہی، مگرنتیجہ وہی نکلا جو پہلے نکلتا تھا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس ملک میں قابل لوگ پیدا نہیں ہوتے ، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک کمزوراورفرسودہ نظام اچھے سے اچھے انسان کو بھی رفتہ رفتہ اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ۔
دنیا کی کامیاب ریاستوں کی تاریخ اٹھا کردیکھ لیجیے ، انہوں نے صرف حکمران نہیں بدلے ، انہوں نے نظام بدلے ، ادارے مضبوط کیے ، قوانین کو شخصیات پرمقدم رکھا اوراحتساب کو طاقتورطبقے تک پہنچایا۔ اسی لیے وہاں حکومتیں تبدیل ہونے سے ریاستی سمت تبدیل نہیں ہوتی۔ پاکستان میں اس کے برعکس ہرنئی حکومت گویا صفر سے آغاز کرتی ہے ، پچھلی حکومت کے منصوبوں کو ختم کرتی ہے ، نئی ترجیحات بناتی ہے ، نئے مشیرلاتی ہے اورچند سال بعد خود بھی اسی انجام سے دوچارہوجاتی ہے ۔ یوں ریاست آگے بڑھنے کے بجائے ایک دائرے میں گھومتی رہتی ہے ۔شاید اسی حقیقت کو محسوس کرتے ہوئے آج مختلف حلقوں سے یہ آواز بلند ہونے لگی ہے کہ اگر واقعی پاکستان کو معاشی، انتظامی اورسماجی بحرانوں سے نکالنا ہے تو محض اقتدار کی منتقلی کافی نہیں ہوگی، بلکہ ریاستی ڈھانچے پرسنجیدہ اور بے خوف مکالمہ کرنا ہوگا۔ سوال یہ نہیں کہ اگلا وزیراعظم کون ہوگا، سوال یہ ہے کہ وہ کس نظام کے تحت حکومت کرے گا۔ اگر گاڑی کا انجن ہی جواب دے چکا ہو توڈرائیور بدلنے سے سفرکامیاب نہیں ہوتا، پہلے انجن کو درست کرنا پڑتا ہے ، ورنہ منزل ہرباردورہی رہتی ہے ۔
یہاں ایک غلط فہمی کو بھی دور کرنا ضروری ہے ۔ جب ‘‘ نئے نظام ’’ کی بات کی جاتی ہے تو بعض لوگ فوراً یہ تاثر دینے لگتے ہیں کہ شاید ریاست کی بنیادیں ہلانے یا آئین کو ختم کرنے کی بات ہو رہی ہے ، حالانکہ سنجیدہ معاشروں میں نظام کی تبدیلی کا مطلب انتشار نہیں بلکہ اصلاح ہوتا ہے ۔ دنیا میں بے شمار ممالک نے وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے انتظامی ڈھانچے ، معاشی پالیسیوں، عدالتی طریقِ کار، مقامی حکومتوں، ٹیکس نظام، تعلیمی ڈھانچے اور ریاستی اداروں میں ایسی اصلاحات کیں جنہوں نے ان کی تقدیر بدل دی۔ کسی نے اسے بغاوت کا نام نہیں دیا بلکہ اسے قومی ارتقا کہا۔پاکستان کو بھی آج اسی جرأت مندانہ سوچ کی ضرورت ہے ۔ ہمیں یہ ماننے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ ستر سے زائد برس پہلے تشکیل پانے والا انتظامی ڈھانچہ، جو مختلف ادوار میں جزوی تبدیلیوں کے باوجود بنیادی طور پر وہی رہا، آج کی آبادی، معیشت، ٹیکنالوجی اور عالمی مقابلے کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں رہا۔ دوڑتی ہوئی دنیا میں ہم اب بھی بہت سے معاملات میں پرانے طریقوں سے بندھے ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ فیصلے سست ہیں، ادارے کمزور ہیں، عوام غیر مطمئن ہیں اور ریاست مسلسل نئے بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے ۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان کوکس طرزِ حکمرانی، کس انتظامی ڈھانچے ، کس معاشی ماڈل اور کن مضبوط اداروں کی ضرورت ہے ۔ قومیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے مستقبل کی تعمیر کا حوصلہ پیدا کرتی ہیں، نہ کہ جب وہ صرف ماضی کا دفاع کرتی رہیں۔
میں نے ‘‘پاکستان بچاؤ’’ اس لیے نہیں لکھی تھی کہ چند جملے سچ ثابت ہوجائیں یا کوئی سرکاری شخصیت میرے مؤقف سے ملتی جلتی بات
کر دے ،میری خواہش صرف یہ تھی کہ پاکستان میں ایک ایسی سنجیدہ قومی بحث شروع ہو، جس میں ہم یہ سوال اٹھانے کی ہمت کریں کہ آخر
ستر سے زائد برس گزرنے کے باوجود ہم باربار وہیں کیوں آ کھڑے ہوتے ہیں جہاں سے چلے تھے ؟ آخرکیوں ہر نئی حکومت پرانی حکومت کی ناکامیوں کا نوحہ پڑھتے ہوئے خود بھی انہی مسائل کا شکارہو جاتی ہے ؟ آخر کیوں عوام کی امیدیں ہرچند سال بعد جنم لیتی ہیں اور پھر ٹوٹ جاتی ہیں؟اگرآج واقعی ملک کی اعلیٰ قیادت اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے ، تو پھر اگلا قدم صرف تقریروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے ،قومیں بیانات سے نہیں، فیصلوں سے بدلتی ہیں۔ پاکستان کو بھی ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو شخصیات سے بالاتر، جماعتوں سے آزاد اور آنے والی نسلوں کے مفاد میں ہوں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کسی بھی نظام کی اصل کامیابی یہ نہیں ہوتی کہ وہ حکمرانوں کو سہولت دے ، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ عام آدمی کو انصاف، روزگار، معیاری تعلیم، بہتر صحت اورباوقارزندگی فراہم کرے ۔
٭٭٭


