سندھ بلڈنگ، انتظامی سرپرستی میں کمرشل پورشن کی غیر قانونی تعمیرجاری
شیئر کریں
نارتھ ناظم آباد کے رہائشی پلاٹ B51بلاک Rپر سیف بن رؤف کے کمرشل یونٹ کی تعمیر
ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی کا تعمیراتی مافیا سے گٹھ جوڑ، رہائشی پلان کی خلاف ورزی ، انتظامیہ خاموش
ضلع وسطی کے رہائشی علاقے نارتھ ناظم آباد علاقے میں پلاٹ نمبر بی-51، بلاک آر میں ایک رہائشی پلاٹ پر کمرشل پورشن یونٹ کی غیر قانونی تعمیر کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے ، جس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی سمیت انتظامیہ کے کچھ افسران کے تعمیراتی مافیا سے گٹھ جوڑ کی اطلاعات ہیں۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، سیف بن رؤف نامی شخص نے مذکورہ بالا رہائشی پلاٹ پر کمرشل پورشن یونٹ تعمیر کرنے کا آغاز کیا ہے ، جو علاقے کے رہائشی زون کے پلان کے صریحاً خلاف ہے ۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ تعمیراتی کام غیر قانونی ہے اور اس سے نہ صرف علاقے کا رہائشی ماحول برباد ہو رہا ہے بلکہ پارکنگ، پانی اور صفائی کے مسائل میں بھی اضافہ ہو گا۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ سیف بن رؤف کو انتظامی حلقوں کی سرپرستی حاصل ہے ۔ خاص طور پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی کا نام اس غیر قانونی تعمیر کے پیچھے ایک طاقتور حامی کے طور پر لیا جا رہا ہے ۔علاقہ مکینوں کی جانب سے دی جانے والی درخواستوں کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہونے سے علاقہ مکینوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن اداروں کو غیر قانونی تعمیرات روکنے کا اختیار ہے ،وہی ادارے اس میں ملوث ہیں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک پلاٹ تک محدود نہیں، بلکہ ضلع وسطی میں تعمیراتی مافیا اور انتظامی افسران کے گٹھ جوڑ کی ایک کڑی ہے ۔ اس گٹھ جوڑ کے تحت رہائشی علاقوں میں کمرشل تعمیرات کی اجازت دے کر بڑی رقم وصولی کی جاتی ہے ، جبکہ عام شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے ۔علاقے کے رہائشیوں نے انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ غیر قانونی تعمیر روکی نہ گئی تو وہ احتجاجی مہم چلانے پر مجبور ہوں گے ۔ انہوں نے سندھ حکومت اور کراچی کے اعلیٰ افسران سے اس گٹھ جوڑ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔اس واقعے پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان سے موقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ کوئی واضح بیان دینے سے قاصر رہے ۔جرأت سروے ٹیم کی جانب سے ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی سے براہ راست رابطہ کرنے کی کوشش بھی ناکام رہی۔یہ معاملہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دُہرے معیار کو واضح کرتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ حکام اس گٹھ جوڑ کے خلاف فوری طور پر کارروائی کریں اور شہریوں کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔


