میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسترد کرتے ہیں، مولانا فضل الرحمان

گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسترد کرتے ہیں، مولانا فضل الرحمان

جرات ڈیسک
اتوار, ۱۱ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

فیصلے کے خلاف بھرپور حکمت عملی بنائیں گے

پیپلز پارٹی نے آئین اور انسانی حقوق کو دفن کر دیا ہے

جمہوریت کے دعوے کرنیوالوں نے تیسری مرتبہ گورنر راج نافذ کیا 

بلوچستان میں ایمرجنسی کیوں نافذ نہیں کی جا رہی؟ردعمل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہیں،

فیصلے کے خلاف بھرپور حکمت عملی بنائیں گے، پیپلز پارٹی نے آئین اور انسانی حقوق کو دفن کر دیا ہے، جمہوریت کے دعوے کرنے والوں نے تیسری مرتبہ گورنر راج نافذ کیا جو جمہوری اقدار کے منافی ہے،

بلوچستان میں ایمرجنسی کیوں نافذ نہیں کی جا رہی؟ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایمرجنسی نافذ کرنی ہے تو پھر وفاق میں نافذ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے اور پارٹی کی سطح پر اس کے خلاف مکمل حکمت عملی مرتب کی جائے گی، اسحاق ڈار نے رات ساڑھے دس بجے انہیں فون کیا اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے حوالے سے بات کی۔

سربراہ جے یوآئی نے بتایاکہ اسحاق ڈار کا موقف تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہیں کر رہی۔سربراہ جے یو آئی نے جواب میں کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات یکساں نہیں ہیں، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی اقدام ضروری ہے تو بلوچستان میں ایمرجنسی کیوں نافذ نہیں کی جا رہی۔

مولانا فصل نے دہشت گردی کے خلاف حکومتی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بار بار آپریشنز کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونا حکمت عملی کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں آپریشن کی حمایت کرنے کیلئے کہا جا رہا ہے، لیکن پہلے یہ بتایا جائے کہ اب تک کیے گئے آپریشنز کے نتائج کیا نکلے ہیں؟ جمعیت علمائے اسلام (ف)نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں اور ان کے علما کو شہید کیا گیا ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے حکومت پر وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی، لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے آئین اور انسانی حقوق کو دفن کر دیا ہے، جمہوریت کے دعوے کرنے والوں نے تیسری مرتبہ گورنر راج نافذ کیا ہے جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

سربراہ جے یو آئی ف نے بتایا کہ انہوں نے کانفرنس کال پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں سہیل آفریدی، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سے بات کی تھی، ان کے مطابق انہوں نے متعلقہ قیادت کو بتایا تھا کہ اگر مطالبات تسلیم کر لیے جاتے ہیں تو لانگ مارچ ختم کیا جا سکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم سے بھی بات کی گئی تھی اور ان سے کہا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے علاج کے معاملے کو بھی طے کر لیا جائے، وزیراعظم نے اس تجویز پر اتفاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹھیک ہے، جس کے بعد انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا۔

انہوں نے ثالثی کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان اختلافات یا تلخی پیدا ہو جائے تو ثالث اپنا کردار ادا کرتا ہے، حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔انہوں نے مزید واضح کیا کہ جے یو آئی (ف)خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے فیصلے کو قبول نہیں کرے گی اور اس کے خلاف پارٹی کی سطح پر بھرپور سیاسی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں