میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ ، اسکیم 33میں دندناتی غیرقانونی تعمیرا ت، عدیل قریشی کی سرپرستی

سندھ بلڈنگ ، اسکیم 33میں دندناتی غیرقانونی تعمیرا ت، عدیل قریشی کی سرپرستی

ویب ڈیسک
هفته, ۱۱ اکتوبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

محکمہ مافیا بن گیا ، عوامی سلامتی کو سنگین خطرات ،شکایات پرکوئی شنوائی نہیں ،شہریوں کا الزام
الحرا نیو سٹی سوسائٹی سمیت متعدد پلاٹوں پر خلاف ضابطہ تعمیرات دن کے اجالے میں جاری

شہر کے معزز سمجھے جانے والے علاقے اسکیم 33 میں خلاف ضابطہ تعمیرات کا دندناتا ہوا سلسلہ جاری ہے ، جس کی سرپرستی کے سنگین الزامات خود عمارتوں کی نگرانی کی ذمہ دار ادارے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عدیل قریشی پر عائد کیے جا رہے ہیں۔ مقامی رہائشیوں، سماجی کارکنوں اور محکمہ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ غیرقانونی کام اعلیٰ افسران کی چھتری تلے بغیر کسی رکاوٹ کے ہو رہے ہیں، جس نے عوامی سلامتی کو سنگین خطرات میں ڈال دیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق اسکیم 33 کے مختلف بلاکس میں الحرا نیو سٹی سوسائٹی سمیت متعدد پلاٹوں پر کئی منزلہ عمارتیں بغیر منظور شدہ بلڈنگ قوانین کے تعمیر کی جا رہی ہیں۔ ان عمارتوں میں بنیادی سہولیات جیسے کہ پارکنگ کا بندوبست، آگ سے بچاؤ کے لیے فرار کے راستے ، اور معیاری تعمیراتی مواد کا استعمال یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ یہ خلاف ورزیاں نہ صرف ان عمارتوں کے رہائشیوں بلکہ پڑوسیوں کے لیے بھی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایس بی سی اے کے دفاتر میں متعدد بار ان خلاف ورزیوں کی تحریری شکایات درج کروائیں، لیکن ہر بار انہیں یا تو ٹال مٹول کا سامنا کرنا پڑا یا پھر خاموشی کے ساتھ یہ پیغام دیا گیا کہ ’’اوپر سے ہدایات ہیں کہ اس معاملے میں مداخلت نہ کی جائے ‘‘۔ایک رہائشی، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ’’ہماری شکایات کے باوجود کام جاری ہے ۔ ایسا لگتا ہے جیسے پورا محکمہ ہی اس میں ملوث ہے‘‘ ۔سماجی حلقے اس صورتحال کو ایک منظم مافیا قرار دے رہے ہیں۔ ایک سماجی کارکن نے کہا، ’’یہ کوئی راز نہیں رہا۔ یہاں ہر غیرقانونی اینٹ کے پیچھے ایس بی سی اے کے کسی افسر کا مالی مفاد ہے ۔ چھوٹے تعمیرکار ہوں یا بڑے بیلر، سب کو ’ٹھیکے ‘ادا کرنے پڑتے ہیں۔ یہ سرکاری محکمہ اپنے اصل فرض کو بھول چکا ہے ۔ایس بی سی اے کے اندرونی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اسکیم 33 کا علاقہ ’’حساس‘‘ سمجھا جاتا ہے اور وہاں کسی بھی کارروائی کے لیے اعلیٰ سطحی منظوری درکار ہوتی ہے ، جو اکثر نہیں دی جاتی۔ ان ذرائع کے مطابق، جونیئر افسران اعلیٰ افسران کے دباؤ کی وجہ سے ان غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں۔یہ صورتحال اس لیے اور بھی تشویشناک ہے کہ ماضی میں ایس بی سی اے کی جانب سے اسکیم 33 میں کئی بار چھاپے مارے گئے اور کچھ غیرقانونی ڈھانچے گرائے بھی گئے ، لیکن یہ کارروائیاں محض عوام کو مطمئن کرنے کا ذریعہ ثابت ہوئیں۔ چند ہفتوں کے بعد ہی تعمیراتی کام دوبارہ اپنی پوری آب و تاب سے شروع ہو جاتے ہیں، جو محکمہ کی نیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے ۔اس سارے عمل نے شہریوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے ۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ سندھ حکومت فوری طور پر اس اسکینڈل کی اعلیٰ سطح پر آزادانہ انکوائری کا حکم دے اور نہ صرف خلاف ضابطہ تعمیرات کو گرایا جائے بلکہ ان افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے جن کی سرپرستی میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں