ڈاکٹر عاصم کے چہیتے ڈی سی نے گلبرگ بلاک 13 کو نوگو ایریا بنا دیا
شیئر کریں
سپریم کورٹ احکامات مسترد، 14 گلیوں میں غیرقانونی گیٹ لگا کر 7 کو سیل کر دیا
750 مکانات سے 5 ہزار فی گھر زبردستی سیکیورٹی کے نام پر وصول، رہائشی پریشان
(رپورٹ؍ایم جے کے)ڈاکٹر عاصم کے چہیتے ڈی سی نے گلبرگ بلاک 13 کو نوگو ایریا بنا دیا، سپریم کورٹ کے احکامات مسترد، 14 گلیوں میں غیرقانونی گیٹ لگا کر 7 کو سیل کر دیا، 750 مکانات سے 5 ہزار فی گھر زبردستی سیکیورٹی کے نام پر وصول، ریزیڈنشل کمیٹی سے رہائشی پریشان۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ سینٹرل میں ڈاکٹر عاصم کے چہیتے ڈی سی نے اپنی رہائشی جگہ گلبرگ بلاک 13 کو ماضی کی طرح نائن زیرو کی طرز پر مبینہ طور پر نوگو ایریا بنا دیا، 14 گلیوں میں غیرقانونی گیٹ لگا کر 7 گلیوں کو سیل کر دیا گیا ہے، جبکہ 2020، 2021 سپریم کورٹِ پاکستان نے کراچی میں رہائشی علاقوں کی گلیاں بیرئیرز، رکاوٹوں اور گیٹس لگا کر بند کرنے کے عمل پر مختلف مقدمات میں سخت ریمارکس دیے تھے، عدالت کا مؤقف تھا کہ عوامی سڑکیں اور گلیاں کسی ایک محلے یا گروہ کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتیں، سیکیورٹی کے نام پر راستے بند کرنا شہریوں کی آزادانہ آمد و رفت کے بنیادی حق کے خلاف ہے، عدالت نے کراچی انتظامیہ، رینجرز، پولیس اور بلدیاتی اداروں کو غیرقانونی رکاوٹیں ہٹانے کے احکامات بھی دیے تھے، سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ شہر کو “نو گو ایریاز” میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور اصل ماسٹر پلان و عوامی رسائی بحال ہونی چاہیے، علاقہ مکین کا کہنا ہے کہ کچھ ماہ قبل کچھ افراد کی خواہش پر ڈی سی ڈسٹرکٹ سینٹرل نے اپنی رہائش گاہ والے علاقے گلبرگ بلاک13 میں ریزیڈنشل کمیٹی قائم کروائی جس کے صدر بلال مرزا نامی شخص کو بس نام کے لیے بنایا گیا اور سارے معاملات کچھ ممبران اور سابق اے سی ڈسٹرکٹ سینٹرل اور موجودہ گورنر ہاؤس میں ڈیوٹی سر انجام دینے والے رفیق نامی شخص دیکھتے ہیں، ریزیڈنشل کمیٹی اگست 2025 بننے کے بعد کمیٹی نے جنوری 2026 سے بلاک13 کے 14 گلیوں نما راستوں پر غیرقانونی گیٹ لگا کر 7 گیٹ کو سیل کردیا جس سے رہنے والے رہائشیوں اور ان کے گھر آنے جانے والے مہمانوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا ہے اس کے علاوہ بلاک13 میں دو گراؤنڈ موجود ہیں ایک راشد لطیف کرکٹ گراؤنڈ اور دوسرا ٹی ایم سی کرکٹ گراؤنڈ دونوں گراؤنڈوں میں میچ کھیلنے اور پریکٹس کرنے والے کھلاڑیوں کو آنے جانے میں بھی شدید پریشانی کا سامنا ہے، اس کے علاوہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بلاک13 کی حدود میں دو فٹنس جم موجود ہیں ایک فلیکس جم اور دوسرا حاجی کلب جبکہ ایک کینٹین گراؤنڈ کی پارکنگ میں بھی موجود ہے جہاں سے کھلاڑی بسکٹ، پانی، جوس خریدتے تھے، حاجی کلب کو کچھ دن قبل سیل کر دیا گیا تھا سمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جبکہ کیفے پیالہ 24 گھنٹے کھلا رہتا ہے سمارٹ لاک ڈاؤن سے بری الذمہ ہوکر، بہرحال حاجی کلب کو کچھ دن بعد جرمانہ لے کر کھول دیا گیا پر فلیکس جم اور کینٹین کو اب تک نہیں کھولا گیا، ریزیڈنشل کمیٹی کا کہنا ہے کہ فلیکس جم کے برابر میں اسنوکر کلب کی وجہ سے رات گئے تک نوجوان مختلف علاقوں سے یہاں پر آنا جانا لگا کر رکھتے تھے اور نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتے تھے جبکہ اس حوالے سے قریبی تھانہ گلبرگ سے بات کی گئی تو ان کا کہنا یہ تھا کہ ہمارے پاس اسنوکر کلب میں نشہ آور اشیاء کے استعمال کی کوئی اطلاع نہیں جبکہ روزانہ کی بنیاد پر شاہین فورس کے اہلکار مختلف اوقات میں پورے علاقے اور دونوں گراؤنڈ کی پارکنگ اور گراؤنڈ کے اندر پیٹرولنگ کرتے ہیں، الزام ہے کہ فلیکس جم اور کینٹین کو کھولنے کے لیے بڑی رقم کی ڈیمانڈ کی گئی تھی نہ دینے پر جم پر کے ڈی اے کی جانب سے بنا اسٹیمپ کے نوٹس لگا دیا گیا ہے کہ اس جگہ کو گرا دیا جائے گا کیونکہ یہ جگہ غیرقانونی ہے، کس تاریخ، کس وقت گرایا جائے گا یہ واضح نہیں نوٹس میں، اطلاعات ہیں کہ آر ایل سی اے گراؤنڈ سے منسلک فلیکس جم اور ٹی ایم سی گراؤنڈ سے منسلک کینٹین کی جگہ کو قبضہ کر کے وہاں ریزیڈنشل کمیٹی بلاک13 کا دفتر یا کچھ اور بنائے جانے کا امکانات ہیں اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ جگہ غیرقانونی ہے تو 25 سال سے یہ جم یہاں کیسے چل رہا تھا جہاں کھلاڑی مفت فٹنس حاصل کر رہے تھے، کے ایم سی کی جانب سے جب راشد لطیف کرکٹ گراؤنڈ کی تعمیر کی گئی تھی اس کے ساتھ ہی پاکستان کے سابق کپتان اور ٹیسٹ کرکٹر راشد لطیف نے اس فٹنس جم کو بنایا تھا تاکہ یہاں کھلاڑی فٹنس حاصل کرسکیں جب کے ایم سی اور راشد لطیف کرکٹ گراؤنڈ، کھلاڑیوں کو فلیکس جم سے کوئی اعتراض نہیں نہ یہ جم یا کینٹین بلاک13 کے…


