نیٹو کا انقرہ سربراہی اجلاس 2026۔۔۔۔عالمی طاقتوں کے اہم فیصلے
شیئر کریں
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
٭نیٹوکا بنیادی مقصد سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو روکنا تھا، یہ امریکہ، کینیڈا اور 10یورپی ممالک سمیت کل 12بانی ارکان کا ایک اجتماعی دفاعی اتحاد تھا
٭ترکیہ نے 1952میں نیٹو میں شمولیت اختیار کی، جس سے اتحاد کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ ہوا کیونکہ ترکیہ یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک اہم جغرافیائی مقام رکھتا ہے۔
٭ بائیس برس بعد، 2004میں استنبول میں منعقد ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد 2026 میں ایک بار پھر ترکیہ کو اس اہم عالمی اجلاس کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیٹو کا قیام دوسری جنگِ عظیم (1939-1945)کے بعد بدلتے ہوئے عالمی سیاسی اور دفاعی حالات کے نتیجے میں عمل میں آیا۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد یورپ تباہ حال تھا، جبکہ امریکا اور سوویت یونین دو بڑی عالمی طاقتوں کے طور پر سامنے آئے ۔
مغربی ممالک کو خدشہ تھا کہ سوویت یونین کا اثر و رسوخ مشرقی یورپ سے آگے بھی پھیل سکتا ہے ، جس کے مقابلے کے لیے مشترکہ دفاعی نظام قائم کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔
نیٹو (NATO-North Atlantic Treaty Organization)کا قیام 4؍اپریل 1949ء کو واشنگٹن میں ایک معاہدے کے تحت عمل میں آیا، جس کا بنیادی مقصد سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور فوجی جارحیت کو روکنا تھا۔ یہ امریکہ، کینیڈا اور 10یورپی ممالک سمیت کل 12بانی ارکان کا ایک اجتماعی دفاعی اتحاد تھا۔اس کے بانی ممالک میں امریکا، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، اٹلی، بیلجیم، نیدرلینڈز، لکسمبرگ، ڈنمارک، ناروے ، پرتگال اور آئس لینڈ شامل تھے ۔ ترکیہ نے 1952میں نیٹو میں شمولیت اختیار کی، جس سے اتحاد کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ ہوا کیونکہ ترکیہ یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک اہم جغرافیائی مقام رکھتا ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ معاشی اور فوجی طور پر شدید کمزور ہو چکا تھا۔
سوویت یونین نے مشرقی یورپ کے کئی ممالک پر اپنا سیاسی اور فوجی کنٹرول قائم کر لیا تھا، جس سے مغربی یورپی ممالک غیر محفوظ محسوس کر رہے تھے ۔مغربی یورپ کے دفاع اور وہاں دوبارہ قوم پرستی کو ابھرنے سے روکنے کے لیے امریکہ نے اس اتحاد کی قیادت سنبھالی۔ نیٹو کے چارٹر کا آرٹیکل 5اس کا سب سے اہم ستون ہے ، جس کے مطابق کسی بھی ایک رکن ملک پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ نیٹو کی تاریخ میں اس آرٹیکل کا استعمال صرف ایک بار، 11؍ستمبر 2001ء کو امریکہ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں (9/11) کے بعد کیا گیا۔نیٹو کے جواب میں سوویت یونین نے 1955ء میں اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر "وارسا پیکٹ” (Warsaw Pact) نامی فوجی اتحاد قائم کیا، جس سے دنیا دو بڑے فوجی بلاکس میں تقسیم ہو گئی۔سرد جنگ کا خاتمہ:1991ء میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی وارسا پیکٹ بھی ختم ہو گیا، جس سے نیٹو کا اصل ہدف ختم ہو گیا۔ سوویت یونین کے خاتمے( (1991 کے بعد نیٹو نے اپنے کردار میں تبدیلی کی اور روایتی دفاع کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، سائبر سکیورٹی، امن مشنز اور عالمی سلامتی کے دیگر چیلنجز پر بھی توجہ مرکوز کی۔ نیٹو نے بوسنیا، کوسووو اور افغانستان سمیت مختلف بین الاقوامی مشنز میں کردار ادا کیا۔
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد نیٹو نے اپنا دائرہ کار عالمی امن، جمہوریت کے فروغ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ تک بڑھا دیا۔نیٹو نے پہلی بار 1990ء کی دہائی میں بوسنیا اور کوسوو کی جنگوں میں عملی فوجی مداخلت کی۔9/11کے بعد نیٹو افواج نے افغانستان میں طویل ترین فوجی آپریشن (ISAF) کیا اور 2011ء میں لیبیا کی خانہ جنگی میں بھی حصہ لیا۔سرد جنگ کے بعد سابقہ سوویت یونین اور وارسا پیکٹ کے کئی ارکان (جیسے پولینڈ، ہنگری، اور بلقان کی ریاستیں) نیٹو میں شامل ہو گئے ۔ فن لینڈ( (2023 اور سوئیڈن( (2024 کی شمولیت کے بعد اس اتحاد کے کل ارکان کی تعداد 32 ہو چکی ہے ۔ آج نیٹو دنیا کا سب سے بڑا دفاعی اتحاد ہے ، جس میں 32 رکن ممالک شامل ہیں۔ امریکا، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، بیلجیم، نیدرلینڈز، لکسمبرگ، ڈنمارک، ناروے ، آئس لینڈ، پرتگال، اسپین، یونان، ترکیہ، پولینڈ، جمہوریہ چیک، ہنگری، رومانیہ، بلغاریہ، سلوواکیہ، سلووینیا، البانیہ، کروشیا، مونٹی نیگرو، شمالی مقدونیہ، ایسٹونیا، لٹویا، لتھوانیا، فن لینڈ اور سوئیڈن۔ موجودہ دور میں اتحاد کو روس کے ساتھ کشیدگی، یوکرین جنگ، جدید ٹیکنالوجی کے خطرات، سائبر حملوں اور عالمی سلامتی کے نئے مسائل کا سامنا ہے ۔حالیہ برسوں میں روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد نیٹو ایک بار پھر یورپی براعظم پر روس کے جارحانہ عزائم کو روکنے کے لیے سرگرم ہو چکا ہے ۔
ترکیہ میں نیٹو اجلاس 2026 اہم فیصلے
دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد ‘نیٹو’کے رہنماؤں کا ایک اہم دو روزہ اجلاس ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں گزشتہ دنوں منعقد ہوا۔
تقریباً بائیس برس بعد، 2004میں استنبول میں منعقد ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد 2026 میں ایک بار پھر ترکیہ کو اس اہم عالمی اجلاس کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا۔ترکیہ نے اس سے پہلے نیٹو کے سربراہی اجلاس کی میزبانی 28،29جون 2004 کو استنبول میں کی تھی۔نیٹو (NATO)کا 36واں سربراہی اجلاس 7اور 8جولائی 2026کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں واقع صدارتی کمپلیکس (Betepe Presidential Compound) میں منعقد ہوا۔اجلاس کی میزبانی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کی، جبکہ اس کی صدارت نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کی۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی نیٹو اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی پہنچ گئے ۔ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے نیٹو کے دو روزہ تاریخی سربراہی اجلاس کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دارالحکومت انقرہ پہنچنے پر پرجوش استقبال کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انقرہ آمد پر ایتیمسگوت ایئر بیس پر خصوصی استقبالی تقریب منعقد کی گئی۔ ترک روایتی استقبالی انداز کے تحت سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جو ترکیہ کے ثقافتی ورثے سے منسوب کیا جاتا ہے ، جبکہ ترک اعزازی گارڈ نے امریکی صدر کو سلامی پیش کی۔ترک صدر رجب طیب اردوغان کی جانب سے بیش تپے صدارتی کمپلیکس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں ایک پروقار سرکاری استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، جہاں دونوں رہنماؤں کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ استقبالیہ تقریب کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان صدارتی کمپلیکس میں ون آن ون ملاقات اور بعد ازاں وفود کی سطح پر اہم مذاکرات ہوئے ۔ ان اعلیٰ سطحی مذاکرات میں معاشی و دفاعی تعاون، نیٹو اتحاد کے مستقبل، دفاعی بجٹ اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات اور عالمی سیاست کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل قرار دی جا رہی ہے ۔انقرہ میں صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ صدر اردوان ان کے قریبی دوست ہیں اور امریکا و ترکیہ کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔ انہوں نے صدر اردوان کی قیادت اور ترکیہ کی فوجی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا کے بہت سے لوگ اب بھی ترکیہ کی حقیقی دفاعی طاقت سے پوری طرح واقف نہیں۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی صدر اردوان کے ساتھ تجارت، دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون، ایران کی صورتحال اور دیگر اہم علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ ترکیہ بھی یہی چاہتا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے ۔نیٹو کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اتحاد کے بعض اتحادی ممالک کے کردار سے مایوس ہیں اور اگر نیٹو اجلاس ترکیہ میں منعقد نہ ہو رہا ہوتا تو ممکن ہے کہ وہ اس میں شرکت نہ کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی میزبانی اور صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے انہوں نے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نیٹو کے لیے بھاری مالی اخراجات برداشت کرتا ہے تاکہ مشکل وقت میں اتحادی ممالک اس کا ساتھ دیں، لیکن جب امریکا کو ضرورت پیش آئی تو اسے وہ تعاون حاصل نہیں ہوا جس کی اسے توقع تھی۔
ترکیہ اپنی بڑھتی ہوئی دفاعی صنعت کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کرے گا اور نیٹو اتحادی ممالک سے دفاعی تجارت پر عائد پابندیوں میں نرمی یا خاتمے کے اپنے دیرینہ مطالبے کو دوبارہ پیش کرے گا۔ صدر رجب طیب اردوان فرانس اور اٹلی جیسے اتحادیوں کے ساتھ SAMP/Tمیزائل دفاعی نظام کی خریداری سمیت دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی بات چیت کرنا چاہیں گے ۔ترکیہ کے دفاعی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایف-35 لڑاکا طیاروں سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ترکیہ کو ایف۔35طیاروں کی ممکنہ فراہمی پر کوئی خاص تشویش نہیں، جبکہ روسی دفاعی سازوسامان کی خریداری کے معاملے پر بھی انہوں نے اعتراض نہیں کیا اور کہا کہ ہر خودمختار ملک کو اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے ۔ روس اور یوکرین جنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ تنازع کے حل کے لیے پیش رفت ہوگی اور جنگ جلد اختتام کو پہنچ سکتی ہے ۔رائٹرز کے مطابق، نیٹو سربراہی اجلاس کے اعلامیے کے مسودے میں رہنماؤں کی جانب سے کہا جائے گا کہ 2025میں یورپی اتحادیوں اور کینیڈا نے بنیادی دفاعی ضروریات میں اپنی سرمایہ کاری میں 139بلین ڈالر سے زیادہ کا اضافہ کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘ہم مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں:ایک مضبوط نیٹو میں ایک مضبوط یورپ ایک جدید اتحاد۔ یورپی اتحادی اور کینیڈا، امریکا کے ساتھ مل کر، اتحاد کے دفاع کی زیادہ ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔اجلاس میں دفاعی اخراجات میں اضافے ، روس۔یوکرین جنگ، یورپی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، دہشت گردی کے خطرات، سائبر سکیورٹی اور نیٹو کی آئندہ دفاعی و تزویراتی حکمتِ عملی سمیت متعدد اہم علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اس اجلاس میں نیٹو کے تمام 32رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت یا حکومت شریک ہیں، تاہم اس کے ساتھ چند غیر رکن ممالک کے اہم رہنماؤں کو بھی مدعو کیا گیا ہے ۔ ان میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے اپنے وزرائے دفاع یا وزرائے خارجہ کو نمائندگی کے لیے بھیجا ہے ، جبکہ خلیجی ممالک بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بھی اپنے اعلیٰ حکام کے ذریعے اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات ان ممالک پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ شام کے صدر احمد الشرع کی اجلاس میں شرکت متوقع نہیں، تاہم وہ انقرہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے الگ ملاقات کر رہے ہیں۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ چھ ماہ سے نیٹو پر مسلسل تنقید کرتے رہے ، یورپی اتحادی ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے اور اتحاد کے مستقبل سے متعلق کئی سوالات بھی اٹھاتے رہے ۔ ایسے حالات میں انقرہ اجلاس کو نہ صرف نیٹو کے اتحاد اور یکجہتی کے اظہار بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں اس کے مستقبل کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے ۔ان تمام حالات کے باعث انقرہ سربراہی اجلاس کو نیٹو کے اتحاد، اجتماعی دفاع اور مستقبل کی حکمت عملی کے تعین کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے ۔امریکی دباؤ اور بدلتی ہوئی عالمی سلامتی کی صورتحال کے پیشِ نظر توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی ممالک دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے اربوں ڈالر کے نئے فوجی معاہدوں کا اعلان کریں گے ۔ اسی تناظر میں گزشتہ سال ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں رکن ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ 2035تک اپنی مجموعی قومی آمدنی (جی ڈی پی) کا 5 فیصد دفاع اور سلامتی پر خرچ کریں گے ۔ اس میں 3.5فیصد حصہ براہِ راست فوجی صلاحیتوں، اسلحے اور دفاعی تیاریوں پر جبکہ باقی 1.5فیصد سائبر سکیورٹی، اہم بنیادی ڈھانچے ، لاجسٹکس اور سلامتی سے متعلق دیگر ضروری شعبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ اس فیصلے کا مقصد نیٹو کی اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا اور مستقبل میں درپیش سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنا ہے ۔
نیٹو اجلاس 2026 میں روس کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں یوکرین کے لیے مسلسل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں یوکرینی افواج کو مزید فوجی امداد، جدید دفاعی ساز و سامان کی فراہمی، تربیت اور دفاعی تعاون بڑھانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نیٹو اتحادیوں نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا یورپی اور عالمی سلامتی کے لیے اہم ہے ، جبکہ روسی جارحیت کے مقابلے میں یوکرین کی مدد جاری رکھنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔
نیٹو اتحادیوں نے 2026کے لیے یوکرین کو فوجی سازوسامان، دفاعی معاونت اور تربیت کی مد میں تقریباً 70ارب یورو فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ، جبکہ 2027میں بھی کم از کم اسی سطح کی حمایت برقرار رکھنے کے اپنے وعدوں کی توثیق کی ہے ۔ اس امدادی پیکیج کا ایک حصہ موجودہ دو طرفہ وعدوں پر مشتمل ہوگا، جبکہ یورپی یونین کے یوکرین سپورٹ قرض پروگرام سے بھی مدد فراہم کی جائے گی، جس میں 2026-2027 کے دوران یوکرین کی دفاعی صنعت، فوجی صلاحیتوں اور دفاعی سازوسامان کی خریداری کے لیے 60؍ارب یورو مختص کیے گئے ہیں۔ اس پیکیج میں براہِ راست امریکی مالی امداد شامل ہونے کی توقع نہیں کی جا رہی۔
نیٹو اجلاس 2026میں اتحادی ممالک کی دفاعی صنعت کو مزید مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ اجلاس کے دوران دفاعی ساز و سامان کی پیداوار میں اضافے ، مشترکہ دفاعی منصوبوں کے فروغ اور نیٹو ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے امور پر بات چیت ہوئی۔ اتحادی ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ جدید دفاعی صلاحیتوں کے حصول اور مستقبل کے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دفاعی صنعتی شعبے کو مضبوط بنانا ضروری ہے ، جبکہ بڑے دفاعی معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں کو بھی اہم قرار دیا گیا۔نیٹو اجلاس 2026میں اتحاد کے اندر دفاعی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کا معاملہ بھی اہم موضوع رہا۔ امریکا کی جانب سے یورپی اتحادی ممالک پر مسلسل زور دیا جاتا رہا کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کریں اور سلامتی کے معاملات میں زیادہ ذمہ داری ادا کریں۔ اجلاس میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ نیٹو کے تمام رکن ممالک کو مشترکہ دفاع کے لیے اپنے کردار اور مالی و عسکری تعاون کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ اتحادیوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دفاعی بوجھ کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے نیٹو کی اجتماعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
نیٹو اجلاس 2026میں عالمی اور علاقائی سلامتی سے متعلق متعدد اہم چیلنجز پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں روس سے متعلق سیکیورٹی خدشات، مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال، توانائی کے تحفظ اور عالمی امن کو درپیش خطرات سمیت مختلف امور زیر بحث آئے ۔ نیٹو اتحادیوں نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حالات میں مشترکہ حکمت عملی، دفاعی تعاون اور مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے عالمی سلامتی کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔ اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

اس اجلاس کے دوران یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست ملاقات کی۔ اگرچہ یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے ، تاہم روسی حملوں میں اضافے کے پیش نظر زیلنسکی نے اس ملاقات میں امریکہ سے پیٹریاٹ نامی جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سیکیورٹی ماہر جیک واٹلنگ کے مطابق یوکرین مسلسل نیٹو ممالک سے فوجی اور تکنیکی تعاون کا خواہاں ہے تاکہ روس کو یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ یوکرین کی دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے عالمی حمایت جاری رہے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ ایک سے دو برسوں میں یوکرین کی دفاعی طاقت میں کمی نہ آنے دینا انتہائی اہم ہے ، کیونکہ یوکرین کو فراہم کیے جانے والے دفاعی نظام اور روسی میزائل حملوں سے ہونے والے نقصانات کے درمیان براہِ راست تعلق موجود ہے ۔ جیک واٹلنگ کے مطابق جتنے زیادہ دفاعی نظام یوکرین کو فراہم کیے جائیں گے ، روسی حملوں سے ہونے والا نقصان اتنا ہی کم کیا جا سکے گا۔
ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق، اجلاس کے دوران دفاعی اخراجات میں اضافے ، یوکرین کے لیے طویل المدتی حمایت اور نیٹو کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق امور سرفہرست رہنے کی توقع ہے ۔نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے اور دیگر حکام کے مطابق یورپی ممالک اس سربراہی اجلاس کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ دفاعی اخراجات میں اضافے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل درآمد کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے اور بڑے دفاعی معاہدوں کے اعلانات بھی متوقع ہیں۔ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے نیٹو سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد کے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی یکجہتی کو برقرار رکھیں، کیونکہ مضبوط اتحاد ہی اجتماعی سلامتی کی بنیاد ہے ۔صدر اردوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیٹو اتحادیوں کے درمیان قریبی ہم آہنگی اور تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ان کے مطابق یورپ اور شمالی امریکا کے اتحادی ممالک کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی بات سے گریز کرنا چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد کا بنیادی مقصد مشترکہ سلامتی کا تحفظ ہے ، اس لیے ایسے تمام اختلافات سے بچنا ہوگا جو نیٹو کے اندر تقسیم یا کمزوری کا سبب بن سکتے ہیں۔ترک صدر نے امید ظاہر کی کہ انقرہ میں ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس عالمی امن، استحکام اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔واضح رہے کہ ترکیہ 1952سے نیٹو کا رکن ہے اور گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے یہ اتحاد کے ایک اہم رکن کے طور پر دفاعی اور سلامتی کے معاملات میں فعال کردار ادا کر رہا ہے ۔نیٹو سربراہی اجلاس میں ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے گرین لینڈ سمیت ڈنمارک کی تمام سرزمین کے دفاع کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک نیٹو کے ہر حصے کے دفاع کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں اور اس کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام اور ڈنمارک ہی کریں گے ۔

کریملن (روسی حکومت اور صدر کے دفتر) نے نیٹو اجلاس کی پیش رفت اور فیصلوں پر قریبی نظر رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجلاس میں روس کے حوالے سے کیے جانے والے اعلانات اور فیصلوں کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔ تاریخی طور پر کریملن ماسکو میں واقع قدیم قلعہ نما حکومتی کمپلیکس ہے ، جہاں روسی صدر کا دفتر قائم ہے ، اسی وجہ سے عالمی میڈیا میں "کریملن”کی اصطلاح روسی حکومت کے مؤقف کے لیے استعمال کی جاتی ہے ۔
نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل ترکیہ کے استنبول، انقرہ اور ازمیر سمیت مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ، جن میں مظاہرین نے نیٹو کی پالیسیوں اور دفاعی اخراجات میں اضافے کے مطالبے کی مخالفت کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ قومی وسائل کو فوجی بجٹ بڑھانے کے بجائے عوامی فلاح و بہبود، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں پر خرچ کیا جانا چاہیے ۔ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران 200 سے زائد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ نیٹو اجلاس 2026کا بنیادی مقصد بدلتے ہوئے عالمی سیکیورٹی حالات کے پیش نظر اتحاد کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانا، دفاعی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا، یوکرین کے لیے حمایت جاری رکھنا اور نیٹو کی فوجی تیاریوں کو بہتر بنانا تھا۔ اجلاس میں رکن ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مشترکہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کا حصول اور باہمی تعاون کے ذریعے مستقبل کے سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جائے گا۔ یہ اجلاس نیٹو کے اندر دفاعی تعاون بڑھانے اور عالمی سطح پر سلامتی کی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔
٭٭٭


