میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
احمد ندیم قاسمی کو دنیا چھوڑے 20 برس بیت گئے

احمد ندیم قاسمی کو دنیا چھوڑے 20 برس بیت گئے

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۰ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں 1968 میں تمغہ حسن کارکردگی اور1980 میں ستارہ امتیاز سے نوازا

 

معروف شاعر، ادیب، افسانہ نگار اور کالم نگار احمد ندیم قاسمی کی آج بیسویں برسی منائی جارہی ہے۔

”کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جائوں گا””میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جائوں گا”احمد ندیم قاسمی 20 نومبر 1916 کو پنجاب کے ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق خانقاہ سے تھا، اسی لئے مزاج میں قلندری اورصوفیت تھی، اصل نام احمد شاہ جبکہ ندیم تخلص ٹھہرا تھا۔

احمد ندیم قاسمی نے پہلا شعر1927 میں کہا جبکہ پہلی نظم 1931 میں روزنامہ سیاست لاہور میں شائع ہوئی، جو انہوں نے مولانا محمد علی جوہر کی وفات پر کہی۔احمد ندیم قاسمی کے 17 افسانوی اور 6 شعری مجموعے شائع ہوئے، تنقید و تحقیق کی 3 کتابیں چھپیں اور ترتیب و ترجمہ کے تحت 6 کتابیں منظر عام پر آئیں۔

احمد ندیم قاسمی نے بچوں کے لئے بھی بہت کچھ لکھا جو تین کتابوں کی شکل میں شائع ہوا، ان کے افسانوں کے ترجمے ایک درجن سے زائد زبانوں میں چھپ چکے ہیں۔احمد ندیم قاسمی کے افسانے پہاڑوں کی برف، نصیب،لارنس آف تھیلیسیا، بھاڑا،، بدنام، کفن دفن، رئیس خانہ، موچی اور ماں بے حد مقبول ہوئے۔احمد ندیم قاسمی کو حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں 1968 میں تمغہ حسن کارکردگی اور1980 میں ستارہ امتیاز سے نوازا ۔ادب کی دنیا کا یہ درخشندہ ستارہ 10 جولائی 2006 کو لاہور میں اس دارفانی سے کوچ کرگیا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں