میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پی آر سی، ڈومیسائل پر 5رکنی کمیٹی تشکیل ،جعلی دستاویزات کی اسکروٹنی کریگی

پی آر سی، ڈومیسائل پر 5رکنی کمیٹی تشکیل ،جعلی دستاویزات کی اسکروٹنی کریگی

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۰ مارچ ۲۰۲۱

شیئر کریں

حکومت سندھ نے پی آر سی اور ڈومیسائل پر 5رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے، جو جعلی دستاویزات کی اسکروٹنی کرے گی۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے جعلی ڈومیسائل اور پی آر سی کے خلاف اہم قدم اٹھاتے ہوئے 5رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو سندھ بھر میں بننے والے ڈومیسائل کی پہلے اسکروٹنی کرے گی۔یہ کمیٹی ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق بنائی گئی ہے، ڈومیسائل پی آر سی کے لیے اب درخواست گزار مقامی اور مطلوبہ رہائش ثابت کرنے کا پابند ہوگا۔سیکرٹری محکمہ داخلہ اس کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے، جب کہ ایڈیشنل سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ کمیٹی کے سیکرٹری ہوں گے، سیکرٹری قانون، سیکرٹری یونی ورسٹیز اینڈ بورڈ اور رجسٹرار ایس ٹی اے / اے ٹی سی کورٹ اس کمیٹی کے رکن ہوں گے۔یہ کمیٹی ضرورت پڑنے پر درخواست گزار سے ریکارڈ کے تمام دستاویزات طلب کر سکتی ہے، یاد رہے کہ ایم کیو ایم نے جعلی ڈومیسائل کے حوالے سے عدالت سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں وفاق کی جانب سے سندھ میں جعلی ڈومیسائلز کے معاملے پر چیئرمین نیب کو خط لکھ کر تحقیقات کی درخواست کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ سندھ میں ہزاروں لوگوں کو نوکریاں دینے کے لیے جعلی ڈومیسائل جاری کیے گئے ہیں۔خط میں نشان دہی کی گئی تھی کہ سرکاری نوکریوں میں 40 فی صد کوٹہ شہری علاقوں، 60 فی صد کوٹہ اندرون سندھ کے لوگوں کا ہے، لیکن حیدر آباد کے ساڑھے 5 ہزار سے زائد جعلی ڈومیسائلز پر نوکریاں دی گئیں، اور کراچی میں ساڑھے 30 ہزار سے زائد ملازمین سرکاری نوکری کے مستحق نہیں تھے۔جعلی ڈومیسائل معاملہ سامنے آنے پر حکومت سندھ نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے جعلی ڈومیسائلز کی تیاری میں ڈپٹی کمشنرز کو قصور وار قرار دیا، رپورٹ میں انکوائری کمیٹی نے سندھ حکومت کو پی آرسی کے قانون میں مزید سختی کی سفارش کرتے ہوئے تجویز دی کہ جعلی ڈومیسائل سے ملازمتیں حاصل کرنے والوں کو فارغ کیا جائے اور 10 سال میں جاری ڈومیسائل کی جانچ کی جائے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں