میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
میر رضا قتل کیس، ایڈووکیٹ جنرل کی مداخلت پر جسٹس عمر سیال برہم

میر رضا قتل کیس، ایڈووکیٹ جنرل کی مداخلت پر جسٹس عمر سیال برہم

جرات ڈیسک
منگل, ۸ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

جوڈیشل کمیشن نے صوبائی وزیر داخلہ کو نوٹس جاری کرکے طلب کرلیا

کمیشن کی کارروائی کے دوران اختلافات کے بعد جسٹس عمر سیال اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے

…………………….

میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی مداخلت پر جسٹس عمر سیال برہم ہوگئے اور کمیشن ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔

کمیشن نے صوبائی وزیر داخلہ کو نوٹس جاری کرکے طلب کرلیا۔ میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سعید کا بیان ریکارڈ کیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر سمعیہ سے پوسٹ مارٹم اور میڈیکو لیگل کارروائی سے متعلق مختلف سوالات کیے گئے۔

ڈاکٹر سمعیہ سعید نے کمیشن کو بتایا کہ وہ 10 جون 2022ء سے کراچی میں پولیس سرجن کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 1999ء سے پوسٹ مارٹم کے شعبے سے وابستہ ہیں اور اب تک تقریباً ایک ہزار پوسٹ مارٹم کرچکی ہیں، جبکہ کراچی اور ٹھٹھہ میں 99 قبرکشائیاں بھی کرچکی ہیں۔

ان کے مطابق پی آئی اے دہشت گرد حملے کے ایک کیس میں ایک ہی روز 11 قبرکشائیاں کی گئی تھیں۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ اسپتال میں لاش پہنچنے کی صورت میں کیا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ لاش رشتہ دار، پولیس یا ایمبولینس کے ذریعے اسپتال پہنچ سکتی ہے، ہر لاش کا میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے اور اگر پولیس موقع پر موجود نہ ہو تو متعلقہ پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا بنیادی کردار تکنیکی مشیر کا ہے اور وہ کراچی و ٹھٹھہ میں ہونے والے پوسٹ مارٹم کی نگرانی کرتی ہیں۔ سیکشن 174 کے تحت پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے اور اسی دوران متعلقہ قانونی کارروائی بھی مکمل کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق 2021ء میں پوسٹ مارٹم کا باقاعدہ فارم رائج کیا گیا، جبکہ لاش کی شناخت فنگر پرنٹس اور چہرے کے ذریعے کی جاتی ہے۔ سکھر ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد لاشوں کی تصاویر بھی لی جاتی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر لاش نامعلوم ہو تو ڈی این اے نمونے حاصل کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ بائیومیٹرک کے ذریعے بھی شناخت کی تصدیق کی جاسکتی ہے، بصورت دیگر ڈی این اے نمونے محفوظ کیے جاتے ہیں۔ یہ تمام کارروائی سندھ میڈیکو لیگل ایکٹ 2023ء کے تحت کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ ڈی کمپوز شدہ لاشوں کے ایکسرے کی اجازت نہیں ہوتی، تاہم جناح اسپتال میں ایکسرے کی سہولت موجود ہے۔اس موقع پر کمیشن نے ریمارکس دیے کہ خوشی ہے سندھ حکومت نے ایک قابل افسر کو پولیس سرجن تعینات کر رکھا ہے۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور متعلقہ قواعد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا مقصد کمیشن کے دائرہ کار اور ضوابط سے مکمل طور پر آگاہ ہونا ہے۔

دورانِ کارروائی جسٹس عمر سیال نے کمیشن کو موصول ہونے والے پیغامات اور ای میلز سے بھی آگاہ کیا۔ تاہم بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی مداخلت پر صورتحال کشیدہ ہوگئی اور جسٹس عمر سیال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمیشن ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

aبعد ازاں جوڈیشل کمیشن نے صوبائی وزیر داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کرلیا، جبکہ جسٹس عمر سیال کارروائی سے اٹھ کر چلے گئے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں