میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تلوار سے ووٹ کی پرچی تک

تلوار سے ووٹ کی پرچی تک

جرات ڈیسک
منگل, ۸ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

انسانی تاریخ دراصل اقتدار کی تاریخ ہے؛ اور اقتدار کی تاریخ اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ حکومت کس کی ہوگی اور اسے بدلنے کا حق کس
کے پاس ہوگا؟ ہزاروں سال تک اس سوال کا جواب تلوار، نیزے، توپ اور بندوق دیتی رہی۔ جو طاقتور تھا، وہ حکمران تھا؛ جو زیادہ خون بہا
سکتا تھا، وہ زیادہ دیر تک تخت پر بیٹھ سکتا تھا۔ مگر انسانی تہذیب کا سب سے بڑا سفر شاید یہ ہے کہ اس نے بالآخر تلوار کو ہاتھ سے رکھ کر ووٹ
کی پرچی کو ہاتھ میں لے لیا۔

ابتدائی انسانی معاشرے میں طاقت ہی قانون تھی۔ قبیلہ، سردار، بادشاہ اور فاتح-97اقتدار کی بنیاد اکثر جسمانی قوت اور جنگی صلاحیت تھی۔ قدیم سلطنتوں میں بادشاہ کی حیثیت صرف حکمران کی نہیں بلکہ قانون کے سرچشمے کی بھی ہوتی تھی۔ مصر کے فرعون ہوں، میسوپوٹیمیا کے بادشاہ، فارس کے شہنشاہ یا روم کے مطلق حکمران، اقتدار زیادہ تر اوپر سے نیچے آتا تھا۔ عوام حکومت کے تابع تھے؛ حکومت عوام کی مرضی کی تابع نہیں تھی۔یہ انسانی نفسیات کا بھی ایک تاریک باب تھا۔ انسان اپنے خوف کو منظم کرکے دوسروں پر حکومت کرتا رہا۔ جس کے پاس طاقت تھی، اس کے پاس سچ بھی سمجھا جاتا تھا۔ کمزور صرف اس لیے غلط تھا کہ وہ کمزور تھا۔مگر انسانی عقل نے آہستہ آہستہ اس ترتیب پر سوال اٹھانا شروع کیا۔یونان نے پانچویں صدی قبل مسیح میں شہری شرکت کی ایک ایسی شکل پیدا کی جسے آج جمہوریت کی ابتدائی شکلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایتھنز کی جمہوریت آج کے معنی میں مکمل جمہوریت نہیں تھی؛ عورتیں، غلام اور بہت سے غیر شہری سیاسی حقوق سے محروم تھے۔ لیکن ایک بنیادی خیال پیدا ہو چکا تھا: حکومت صرف بادشاہ کی ملکیت نہیں؛ شہری بھی سیاسی فیصلے میں شریک ہو سکتے ہیں۔یہ معمولی تبدیلی نہیں تھی۔ یہ انسانی ذہن میں ایک نئے تصور کی پیدائش تھی۔افلاطون نے جمہوریت پر شدید تنقید کی، ارسطو نے ریاست اور شہری کے تعلق کا تجزیہ کیا، اور رومی جمہوریہ نے قانون، اداروں اور نمائندگی کے کچھ تصورات کو آگے بڑھایا۔

تاریخ نے پہلی مرتبہ یہ دیکھنا شروع کیا کہ اقتدار کو صرف ایک شخص کی خواہش کے بجائے قانون اور اداروں کے ذریعے محدود بھی کیا جا
سکتا ہے۔پھر صدیوں تک بادشاہتیں واپس غالب رہیں۔ یورپ میں بادشاہوں نے خدائی حقِ حکمرانی کا تصور پیش کیا۔ لیکن اسی دوران
انسانی فکر کے اندر ایک خاموش انقلاب جاری تھا۔ سوال بڑھتا گیا:اگر انسان آزاد پیدا ہوتا ہے تو حکومت اس کی مرضی کے بغیر اس پر کیوں
حکومت کرے؟یہ سوال بعد میں جان لاک، روسو اور دیگر سیاسی مفکرین کے ہاں ایک باقاعدہ فلسفہ بن گیا۔ نے حکمرانی کی مشروعیت کو رضامندی سے جوڑا؛ نے عوامی حاکمیت کا تصور پیش کیا۔ یوں اقتدار کے مرکز میں بادشاہ کی جگہ انسان آنے لگا۔پھر تاریخ نے ایک بڑا دھماکہ دیکھا: ۔فرانس میں صدیوں پرانی بادشاہت، طبقاتی امتیاز اور معاشی بحران کے خلاف بغاوت پھوٹی۔ باسٹیل کا قلعہ گرا، بادشاہت لرزی، خون بہا اور انقلاب نے ایک نئی سیاسی زبان پیدا کی: آزادی، مساوات اور اخوت۔لیکن انقلاب نے انسان کو ایک اور تلخ سبق بھی دیا۔ صرف پرانا تخت گرا دینا کافی نہیں؛ اگر اقتدار کی منتقلی کا پرامن اور ادارہ جاتی راستہ نہ ہو تو انقلاب خود تشدد کا شکار ہو سکتا ہے۔ انقلاب فرانس کے بعد دہشت کا دور آیا، گلوٹین چلی، مخالفین مارے گئے اور بالآخر نپولین کے ہاتھ میں طاقت مرکوز ہو گئی۔یہ انسانی تاریخ کا ایک بنیادی سبق ہے:تشدد ظالم کو ہٹا سکتا ہے، مگر لازماً ظلم کو ختم نہیں کرتا۔انیسویں اور بیسویں صدی میں انسان نے اسی مسئلے کا دوسرا حل تلاش کیا: نمائندہ جمہوریت۔برطانیہ میں پارلیمانی نظام بتدریج وسیع ہوا۔ امریکہ میں انتخابی ادارے مضبوط ہوئے، اگرچہ ابتدا میں ووٹ کا حق بہت محدود تھا اور غلامی ایک خوفناک تضاد کے طور پر موجود رہی۔ خواتین کو ووٹ کے حق کے لیے طویل جدوجہد کرنا پڑی۔ یوں جمہوریت بھی کوئی آسمانی تحفہ نہیں تھی؛ اسے انسانوں نے لڑائی، احتجاج، قربانی اور مسلسل اصلاح کے ذریعے بنایا۔یہاں ووٹ کی اصل فلسفیانہ اہمیت سامنے آتی ہے۔ووٹ صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں؛ یہ اس اعلان کا نام ہے کہ اقتدار میرے جسم پر بندوق رکھ کر نہیں، میری رضامندی سے قائم ہوگا۔ووٹ طاقتور اور کمزور کے درمیان ایک عجیب مساوات پیدا کرتا ہے۔ ارب پتی اور غریب، وزیر اور مزدور، جاگیردار اور کسان۔بیلٹ باکس کے سامنے اصولاً ہر شخص ایک ووٹ رکھتا ہے۔یہ انسانی نفسیات کے لیے بھی ایک عظیم تبدیلی تھی۔ پہلے اقتدار چھیننے کے لیے دشمن کو مارنا پڑتا تھا؛ اب اسے شکست دینے کے لیے صرف اتنا کافی تھا کہ لوگ آپ کے ساتھ نہ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ جمہوریت نے انسانی جارحیت کو ختم نہیں کیا، بلکہ اسے ایک نئے راستے میں منتقل کرنے کی کوشش کی۔ سیاسی غصہ ووٹ میں بدل سکتا ہے، احتجاج پارلیمان تک پہنچ سکتا ہے، اختلاف حکومت کی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔نے سیاسی فلسفے میں ایک بنیادی سوال اٹھایا تھا کہ ایسا نظام کیسے بنایا جائے جس میں برے حکمرانوں کو بغیر خونریزی کے ہٹایا جا سکے۔ یہی جمہوریت کی اصل خوبصورتی ہے۔جمہوریت یہ وعدہ نہیں کرتی کہ عوام ہمیشہ درست فیصلہ کریں گے۔ وہ صرف یہ وعدہ کرتی ہے کہ غلط فیصلہ تبدیل کرنے کا راستہ بندوق نہیں ہوگا۔یہاں کا تصور بھی اہم ہوجاتا ہے: حکومت عوام کی، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے۔ اس تصور میں اقتدار کسی خاندان، قبیلے یا فاتح کی مستقل ملکیت نہیں رہتا بلکہ ایک عارضی امانت بن جاتا ہے۔لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ووٹ کا ہونا اور جمہوریت کا ہونا ایک ہی چیز نہیں۔ اگر انتخابات آزاد نہ ہوں، ادارے کمزور ہوں، اختلاف کو جرم بنا دیا جائے، میڈیا خاموش ہو، دولت سیاست خرید لے اور ووٹ کو دھاندلی، خوف یا تعصب سے قید کر دیا جائے تو بیلٹ باکس صرف ایک صندوق رہ جاتا ہے؛ جمہوریت نہیں رہتی۔انسان آج بھی اپنی پرانی نفسیات سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوا۔ وہ شخصیت پرستی کرتا ہے، دشمن تراشتا ہے، گروہوں میں تقسیم ہوتا ہے اور طاقتور کے سامنے جھکنے کا رجحان رکھتا ہے۔ مگر تہذیب کا کمال یہ نہیں کہ انسان کے اندر سے حیوان ختم ہوگیا؛

کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانی جبلتوں کو قابو کرنے کے لیے ادارے پیدا کیے۔ووٹ انہی اداروں میں سب سے اہم دریافتوں میں سے ایک ہے۔جب ایک قوم اپنے حکمران کو اس لیے ہٹا سکتی ہے کہ اس نے عوام کا اعتماد کھو دیا ہے، اور اس عمل کے لیے توپ، ٹینک یا انقلاب کی ضرورت نہیں پڑتی، تو یہ محض سیاسی طریقہ نہیں رہتا؛ یہ انسانی تہذیب کی ایک بلند ترین منزل بن جاتا ہے۔تلوار کہتی تھی: جو طاقتور ہے وہ حکمران ہے۔بادشاہت کہتی تھی: جو تخت کا وارث ہے وہ حکمران ہے۔آمریت کہتی ہے: جس کے پاس بندوق ہے وہ حکمران ہے۔جمہوریت پہلی مرتبہ کہتی ہے:جس کے پاس عوام کا اعتماد ہے، وہ حکمران ہے؛ اور جب اعتماد ختم ہوجائے تو عوام اسے پُرامن طریقے سے واپس بھیج سکتے ہیں۔یہی انسان کی ہزاروں سالہ سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے۔تہذیب کا مطلب یہ نہیں کہ انسان نے لڑنا چھوڑ دیا؛ تہذیب کا مطلب یہ ہے کہ اس نے لڑائی کا طریقہ بدل دیا۔اس نے میدانِ جنگ کو پولنگ اسٹیشن سے بدلنے کی کوشش کی، تلوار کو بیلٹ پیپر سے، تخت کو پارلیمان سے اور خونریزی کو انتخاب سے۔شاید انسانی تاریخ کی سب سے بڑی سیاسی ایجاد یہی ہے کہ حکومت بدلنے کے لیے اب لاشوں کی ضرورت نہیں؛ صرف عوام کی رائے کافی ہونی چاہیے۔اور جس دن کوئی معاشرہ یہ اصول کھو دیتا ہے، اس دن وہ صرف جمہوریت نہیں کھوتا-97وہ انسانی تہذیب کی ہزاروں سالہ جدوجہد سے حاصل کیا ہوا وہ راستہ کھو دیتا ہے جو انسان کو تلوار سے ووٹ کی پرچی تک لے کر آیا تھا۔

انسان نے ہزاروں سال کی خون آلود تاریخ کے بعد یہ سیکھا کہ اقتدار بدلنے کے لیے ہر بار تلوار نہیں اٹھانی پڑتی؛ کبھی ایک چھوٹی سی پرچی بھی سلطنت کے تخت کو ہلا سکتی ہے۔ مگر پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں انسان نے ووٹ کی طاقت تو دریافت کر لی، مگر طاقتور طبقے نے
آج تک ووٹ کی آزادی کو دل سے قبول نہیں کیا۔قیامِ پاکستان کے بعد جمہوریت کو مضبوط اداروں، مسلسل انتخابات اور آئینی بالادستی کے
ذریعے آگے بڑھنا چاہیے تھا، مگر ہماری سیاسی تاریخ بار بار غیر جمہوری مداخلتوں، مارشل لاؤں، آئینی تعطل اور اقتدار کی غیر فطری منتقلیوں کا شکار رہی۔ 1958 میں پہلا مارشل لا، پھر 1977، پھر 1999-97تاریخ کے یہ ابواب محض تاریخ کی کتابوں میں دفن واقعات نہیں؛ یہ
پاکستانی سیاسی نفسیات پر لگے ہوئے زخم ہیں۔ہم نے ہر بار عوام سے کہا کہ ووٹ دو، مگر جب عوام نے اپنی مرضی کا فیصلہ دیا تو اقتدار کے
دروازوں پر موجود طاقتوروں نے پوچھ لیا: فیصلہ تم نے کیا ہے، مگر مانیں گے ہم۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کا سیاسی المیہ، پاکستانی
انسان کے نفسیاتی المیے سے جڑ جاتا ہے۔ہم نے نسلوں کو یہ سکھایا کہ طاقت کے سامنے سر جھکانا عقل مندی ہے۔ بچے نے باپ کو طاقتور
کے سامنے خاموش دیکھا، شہری نے افسر کے سامنے جھکتے دیکھا، سیاست دان نے طاقت کے مراکز کی طرف دیکھ کر سیاست کی، اور عام
آدمی نے آہستہ آہستہ یہ یقین کر لیا کہ اس کی آواز صرف اس وقت اہم ہے جب اسے ووٹ دینے کی ضرورت ہو۔پھر انتخابات آتے
ہیں۔پوسٹر لگتے ہیں، نعرے بلند ہوتے ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں، غریب کی دہلیز پر امیر سیاست دان پہنچتا ہے، ہاتھ ملاتا ہے، گلے لگاتا
ہے اور اسے یقین دلاتا ہے کہ اب تمہاری حکومت ہوگی۔لیکن اقتدار ملتے ہی وہی غریب پھر قطار میں کھڑا ہوتا ہے-97آٹے کے لیے،
اسپتال کے لیے، نوکری کے لیے، انصاف کے لیے۔یہ صرف حکمرانوں کا جرم نہیں؛ یہ ہمارے سیاسی شعور کا المیہ بھی ہے۔ہم شخصیت کو ادارے پر، نعرے کو منشور پر، وابستگی کو دلیل پر اور جذبات کو عقل پر ترجیح دیتے ہیں۔ ہم لیڈر کو جواب دہ بنانے کے بجائے اسے مقدس بنا دیتے ہیں۔ پھر جب وہ ناکام ہوتا ہے تو اپنے فیصلے پر غور کرنے کے بجائے ایک نیا بت تراش لیتے ہیں۔یہ پاکستانی انسان کا سب سے خطرناک تضاد ہے:وہ آزادی چاہتا ہے، مگر شخصیت پرستی چھوڑنا نہیں چاہتا؛ وہ انصاف چاہتا ہے، مگر اپنے پسندیدہ ظالم کو معاف کر دیتا ہے۔دنیا کی سیاسی تاریخ نے یہ سبق بہت پہلے سیکھ لیا کہ اقتدار کا سب سے محفوظ راستہ اداروں سے گزرتا ہے، افراد سے نہیں۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں، مگر آئین، پارلیمان، عدالتیں، آزاد صحافت اور ووٹر کا حق باقی رہنا چاہیے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں