میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کراچی کے کارڈیالوجسٹس نے عالمی طبی تحقیق میں پاکستان کا نام روشن کردیا

کراچی کے کارڈیالوجسٹس نے عالمی طبی تحقیق میں پاکستان کا نام روشن کردیا

جرات ڈیسک
پیر, ۷ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

دل کے دورے کے ہر مریض کی بند شریان میں اسٹنٹ ڈالنا ضروری نہیں

جدید ٹیکنالوجی سے غیر ضروری اسٹنٹ سے بچا جا سکتا ہے،تحقیق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی کے قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) کے ماہرین نے دل کے دورے کے علاج سے متعلق عالمی طبی تحقیق میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کا نام روشن کردیا۔عالمی سطح پر ہونے والی نئی تحقیق کے نتائج کے مطابق دل کا دورہ پڑنے کے بعد بند شریان میں ہر مریض کے لیے اسٹنٹ ڈالنا ضروری نہیں ہوتا، جبکہ جدید طبی ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ تعین کیا جا سکتا ہے کہ کن مریضوں کو اسٹنٹ کی ضرورت ہے اور کن مریضوں کا علاج اس کے بغیر ممکن ہے۔تحقیق میں دنیا بھر سے 1800 سے زائد مریضوں کو شامل کیا گیا، جن میں کراچی کے این آئی سی وی ڈی سے تقریباً 200 مریض بھی تحقیق کا حصہ بنے۔این آئی سی وی ڈی کے انٹرونشنل کارڈیالوجی پروگرام کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبدالحکیم کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شریان میں خون کے بہاؤ اور رکاوٹ کی شدت کا زیادہ درست اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس طریقہ کار سے ایسے مریضوں کی نشاندہی ممکن ہے جنہیں اسٹنٹ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ماہرین کے مطابق تحقیق کے نتائج دل کے دورے کے مریضوں کے علاج میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ اس کے ذریعے غیر ضروری اسٹنٹ ڈالنے سے گریز کرتے ہوئے مریض کے لیے زیادہ موزوں علاج کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔طبی ماہرین نے کہا کہ نئی تحقیق سے دل کے دورے کے علاج میں جدید تشخیصی ٹیکنالوجی کے استعمال کی اہمیت مزید واضح ہوئی ہے، جبکہ پاکستان کے ماہرین کی عالمی تحقیق میں شرکت ملک کے طبی شعبے کے لیے بھی ایک اہم اعزاز ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں