سندھ بلڈنگ،غیرقانونی کمرشل تعمیرات ، رہائشی علاقے خطرے میں
شیئر کریں
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2، پلاٹ ایس۔116اور اے۔ 206پر قواعد پامال
ڈائریکٹر سمیع جملانی اور تعمیراتی مافیا کی ملی بھگت کے الزامات، تحقیقات کا مطالبہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضلع شرقی کے پوش رہائشی علاقے پی ای سی ایچ ایس میں رہائشی پلاٹوں پر مبینہ طور پر خلافِ ضابطہ کمرشل تعمیرات
کا سلسلہ جاری ہے ، جس نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بلاک 2 کے پلاٹ نمبر ایس۔116اور اے 206 پر رہائشی استعمال کے لیے مختص اراضی پر کمرشل یونٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں، جس پر علاقہ مکینوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ منصوبوں کے منظور شدہ نقشوں میں بعد ازاں مبینہ طور پر ردوبدل کیا گیا، جبکہ متعلقہ ایس بی سی اے ڈائریکٹر سمیع جملانی کی جانب سے تعمیراتی ٹھیکیداروں کو غیرمعمولی رعایت فراہم کی گئی۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ نہ صرف عمارتی قوانین بلکہ شہری منصوبہ بندی کے اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے ۔مقامی رہائشیوں کے مطابق رہائشی پلاٹوں پر کمرشل سرگرمیوں کے فروغ سے ٹریفک، پارکنگ، شور، ماحولیاتی آلودگی اور سکیورٹی کے مسائل میں اضافہ ہوگا، جبکہ علاقے کا رہائشی تشخص بھی متاثر ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو دیگر رہائشی پلاٹ بھی اسی طرز کی تعمیرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔شہریوں نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ پی ای سی ایچ ایس میں جاری تعمیرات کے منظور شدہ نقشوں میں مبینہ تبدیلی اور متعلقہ افسران کے کردار کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی مرحلے پر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار افسران اور تعمیراتی عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے اور غیرقانونی تعمیرات کو فوری طور پر روکا جائے ۔ اس معاملے پر متعلقہ حکام کا مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر کی اشاعت تک ان کا جواب موصول نہیں ہوا۔ مؤقف موصول ہونے کی صورت میں اسے بھی شائع کیا جائے گا۔


