میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ریاست مسئلے کا حل گولی سے کرتی ہے، بلوچستان مسائل کے حل کا مطالبہ، آل پارٹیز کانفرنس

ریاست مسئلے کا حل گولی سے کرتی ہے، بلوچستان مسائل کے حل کا مطالبہ، آل پارٹیز کانفرنس

جرات ڈیسک
بدھ, ۸ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

جبر مسئلے کا حل نہیں ہمیں بات کرنا ہوگی، شاہد خاقان،اسلام آباد والے بلوچستان کو سنجیدہ نہیں لیتے اسے مسئلہ سمجھتے ہی نہیں، جان محمد بلیدی، چمن بارڈر بند ہے تو دہشتگردی مزید بڑھ گئی، جے یو آئی

لاپتا افراد کو بازیاب کرایا جائے، اس وقت حقیقی نہیں جعلی قیادت ہے، جماعت اسلامی،بلوچستان کے مسئلے پر جلد جرگہ بلائیں گے، اسد قیصر،اختر خان مینگل کی زیرصدارت کانفرنس کا انعقاد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریک انصاف کے زیر اہتمام بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس ہوئی جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے بلوچستان میں طاقت کا استعمال ترک کرکے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے، لاپتا افراد کی بازیابی، شفاف انتخابات، مقامی افراد میں وسائل کی تقسیم کے مطالبات پیش کردیے۔

پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے زیر اہتمام بلوچستان کے حالات پر آل پارٹیز کانفرنس خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی۔ جس کی صدارت اختر خان مینگل نے کی۔

کانفرنس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سمیت بلوچستان کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، اختر خان مینگل، جے یو آئی کے صلاح الدین، شاہد خاقان عباسی، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، محسن داوڑ، مولانا شاکر، جان محمد بلیدی، اصغر جان اچکزئی اور دیگر نے شرکت کی۔

جماعت اسلامی کے رہنما مولانا شاکر نے اظہار خیال کیا کہ بلوچستان میں یتیموں، بیواؤں اور قبرستانوں میں اضافہ ہورہا ہے، غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان ڈاکو بن رہے ہیں، وہاں جموں کشمیر اور غزہ سے بھی بدتر حالات ہیں، بلوچستان میں دہشت گردی اور لاقانونیت انتہا پر ہے، وسائل ہیں لیکن مسائل بے تحاشا ہیں، لاپتا افراد کو بازیاب کرایا جائے، اس وقت حقیقی قیادت نہیں ہے جعلی قیادت ہے۔

رہنما جے یو آئی مولانا صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ ملک میں کوئی جمہوریت نہیں، سرمایہ دارانہ نظام بغیر جمہوریت کے وسائل پر قبضہ چاہتا ہے، ہم بھی اسی نظام کے ملازم ہیں، اب اسی مقصد کے لیے دہشت گردی اور اسمگلنگ کا نام دیا جاتا ہے،

چمن بارڈر 2 سال سے بند ہے اور کہا گیا کہ دہشت گردی اور اسمگلنگ آرہی ہے، اب چمن بارڈر بند ہے دہشت گردی پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے، ہم افغانستان کو 20 فیصد نقصان پہنچاتے ہیں تو ہمیں 80 فیصد نقصان ہوتا ہے،

افغانستان کے بارڈرز کی بندش سے پاکستانی تاجروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ طویل جنگوں کے قصے کہانیاں اچھی نہیں لگتیں، بلوچستان کے موضوع پر پی ٹی آئی نے کانفرنس بلا کر ہمت کی ہے، اس وقت بڑی ملکی سیاسی قیادت بلوچستان سے ہے، مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی، ایمل ولی خان بلوچستان سے ہیں، ہر مشکل وقت میں بلوچ سیاسی قیادت نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا،

پی ٹی آئی حکومت گرانے میں یہی بلوچستان کی قیادت پیش پیش تھی، اس وقت پہلا مطالبہ یہی تھا کہ انتخابی عمل سے ریاستی اداروں کا کردار ختم ہو، جب یہ بڑی جماعتیں اقتدار میں آجاتی ہیں تو وعدوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔

جان محمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی سیٹوں کی تعداد 16 ہے، 16 سیٹیں کیا مدد کرسکتی ہیں؟ اس نظام میں ہماری ساکھ بہت کمزور ہے، سینیٹ سی سی آئی، صدارتی انتخاب میں سب برابر ہیں مگر رویے الگ ہیں، این ایف سی، سی سی آئی میں نہیں جاتیں پارلیمان کا احترام نہیں کرتے، آئین پر عمل داری نہیں کرتے،

بلوچستان کا مسئلہ آج کا نہیں دیرینہ ہے، اسلام آباد بلوچستان کو سنجیدہ نہیں لیتے اسے مسئلہ سمجھتے ہی نہیں، اسلام آباد میں بیٹھے لوگ اسے سیکیورٹی مسئلہ سمجھتے ہیں، بلوچستان ایک سنجیدہ سیاسی مسئلہ ہے، بلوچستان کا حل سیکیورٹی نہیں بلکہ اور ہے، بیماری جسم کے کسی بھی حصے میں دیگر حصے ٹھیک نہیں رہ سکتے، بلوچستان کے مسائل پر سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ جب ملک ٹوٹا تو ہم چھوٹی قومیتوں کے لوگ شیخ مجیب سے پاکستان جوڑنے کی بات کر رہے تھے، ایک لوکل کونسلر سے لے کر قومی اسمبلی تک وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں، بلوچستان میں دو دھرنے چل رہے ہیں لاشیں سامنے پڑی ہیں،

عجیب و غریب قوت ہے جسے کبھی فتنۃ الخوارج کبھی فتنہ الہند کا نام دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وسائل لوٹنے کے لیے دہشت گردی پیدا کی جاتی ہے، آئین پاکستان کا حلیہ محکوم عوام کے وسائل تک پہنچنے کے لیے بگاڑا جا رہا ہے،

آج بلوچستان کے موجودہ مسائل پر کہیں بات نہیں کرسکتے، بلوچستان کی واحد اسمبلی ہے جہاں سب کے سب ایک پیج پر ہیں، بجٹ سے لے کر قانون سازی تک بلوچستان اسمبلی سچ ایک پیچ پر ہے، ڈپٹی کمشنر کے لئے اضلاع میں ایک ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں، بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی اور جرائم پر بات نہیں ہو سکتی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں