تھانہ خواجہ اجمیر نگری ،111 گٹکا ماوا فروخت کے کیبن قائم
شیئر کریں
ایس ایچ او اپنے بیٹروں کے ذریعے فی کیبن 30 سے 40 ہزار وصول کرنے کا انکشاف، ذرائع
عبداللہ، کاشی، کاشف لمبا، کاکا، شہزاد اور آصف شانی ڈیلروں کا ماوا گٹکا کھلے عام فروخت جاری
(رپورٹ؍ ایم جے کے)ڈسٹرکٹ سینٹرل’ تھانہ خواجہ اجمیر نگری’ کی حدود میں 111 گٹکا ماوا فروخت کے کیبن قائم، علاقائی ایس ایچ او فیض الحسن اپنے بیٹروں رضا، فہد اور جنید کے ذریعے 30 سے 40 ہزار روپے گٹکا ماوا فروخت کی مد میں فی کیبن وصول کرنے کا انکشاف، عبداللہ، کاشی، کاشف لمبا، کاکا، شہزاد اور آصف شانی ڈیلروں کا ماوا گٹکا کھلے عام فروخت۔ علاقہ باوثوق ذرائع کے مطابق تھانہ خواجہ اجمیر نگری کی حدود میں 111 گٹکا ماوا فروخت کے کیبن قائم ہیں جس کی سرپرستی خود ایس ایچ او فیض الحسن تھانہ خواجہ اجمیر نگری سمیت بیٹر پولیس اہلکار رضا، فہد جنید کررہا ہے، ایس ایچ او نے اپنے ان خاص بیٹروں کو علاقے میں منشیات فروشوں سے لاکھوں روپے ہفتہ جمع کرنے کے لیے رکھ لیا ہے، ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق علاقے میں منشیات و گٹکا ماوا کی فروخت پولیس کی سرپرستی میں بلا خوف جاری ہے پولیس اہلکار رضا، فہد اور جنید نامی پولیس اہکاروں کو ایس ایچ او فیض الحسن نے منشیات و ماوا گٹکا فرشوں سے وصولی کی ذمہ داری دے دی ہے جو لاکھوں روپے جمع کر کے ایس ایچ او خواجہ اجمیر نگری کو پہنچاتے ہیں ذرائع نے مزید بتایا کہ 30 سے 40 ہزار روپے گٹکا ماوا فروخت کی مد میں فی کیبن بھتہ لیا جارہا ہے، خواجہ اجمیر نگری تھانے کی حدود میں گٹکا ماوا ڈیلر عبداللہ، کاشی، کاشف لمبا کو علاقائی پولیس کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، عبداللہ اور کاشف پیلا اسکول کے پاس، کاکا سیکٹر 4، شہزاد سیکٹر 4 اور ڈیلر آصف شانی کا گٹکا ماوا پورے علاقے میں ایس ایچ او فیض الحسن اور پولیس اہلکار رضا، فہد، جنید خواجہ اجمیر نگری کی مبینہ سرپرستی میں کھلے عام سپلائی اور فروخت ہورہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں، علاقہ خواجہ اجمیر نگری عوام کا کہنا ہے کہ خواجہ اجمیر نگری میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں گٹکا ماوا فروخت نہ ہو رہا ہو، بچہ، بوڑھا جوان سب اسی لت میں لگے ہوئے ہیں اور اس سے نئی نسل تباہ ہو رہی ہے اور علاقائی پولیس ہفتہ لے کر مزے میں ہیں اور خاموش بھی، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ویسٹ زون فوری ایکشن لیتے ہوئے خواجہ اجمیر نگری کی حدود سے ان تمام گٹکا ماوا ڈیلروں کو فلفور گرفتار کریں اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی محکمہ جاتی کارروائی کریں۔


