میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امریکا میں سیاسی طاقت کا نیا نقشہ، ٹرمپ کی شکست، پاکستان کے لیے مشکل سوالات

امریکا میں سیاسی طاقت کا نیا نقشہ، ٹرمپ کی شکست، پاکستان کے لیے مشکل سوالات

جرات ڈیسک
جمعه, ۶ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

باسط علی
۔۔۔۔۔۔۔

امریکا میں سیاسی طاقت کا نیا نقشہ:ٹرمپ کی شکست، ڈیموکریٹس کی واپسی اور پاکستان کے لیے مشکل سوالات

٭امریکی انتخابی نظام میں وسط مدتی انتخابات صدر کی چار سالہ مدت کے نصف حصے میں ہوتے ہیں۔ ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستوں پر انتخاب ہوتا ہے

٭ ڈیموکریٹس نے آزاد ووٹروں کے علاوہ نوجوانوں اور لاطینی نژاد امریکیوں کے بعض حصوں میں بھی اپنی حمایت بہتر بنائی، 2024کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے انہی حصوں میں اپنی حمایت بڑھائی تھی

٭یہ انتخابات صدر کو تبدیل نہیں کرتے ، لیکن قانون سازی اوراس کی سیاسی طاقت کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں،ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں برقرار ہیں، مگر اب انہیں حزبِ اختلاف کی قیادت والی کانگریس کا سامنا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکا کے وسط مدتی انتخابات نے واشنگٹن میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے ۔ ریپبلکن پارٹی کی غیرمعمولی شکست اور ڈیموکریٹس کی دونوں ایوانوں میں کامیابی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدتِ صدارت کو ایک نئے سیاسی امتحان سے دوچار کر دیا ہے ۔ مہنگائی، معاشی بے چینی، ایران کے ساتھ جنگ، تجارتی محصولات اور حکومتی طرزِ عمل سے متعلق عوامی ناراضی نے انتخابی نتائج پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔ لیکن اس تبدیلی کے اثرات امریکا کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے ۔ چین، روس، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے ساتھ امریکی تعلقات میں نئے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ انتخابات خاص اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے گزشتہ ڈیڑھ برس میں ٹرمپ کے ساتھ غیرمعمولی قربت پیدا کی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اسلام آباد نے ایک امریکی صدر کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے ہیں یا امریکی ریاست کے ساتھ؟ اور نئی ڈیموکریٹک کانگریس پاکستان کی اس حکمت عملی کو کس نظر سے دیکھے گی؟

ووٹروں نے واشنگٹن کا سیاسی نقشہ بدل دیا
تین نومبر 2026کے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ محض معمول کی انتخابی تبدیلی نہیں تھی۔ ڈیموکریٹس نے ایسی ریاستوں میں بھی کامیابیاں حاصل کیں جہاں کئی دہائیوں سے ریپبلکن پارٹی کا غلبہ تھا۔ٹیکساس، کنساس، جنوبی کیرولائنا، آئیووا، اوہائیو اور شمالی کیرولائنا کے نتائج نے خاص طور پر توجہ حاصل کی۔ ٹیکساس میں جیمز ٹیلاریکو کی کامیابی، کنساس میں ایڈم ہیملٹن کا انتخاب اور اوہائیو میں شیروڈ براؤن کی واپسی ڈیموکریٹس کی انتخابی پیش رفت کی نمایاں مثالیں بنیں۔
کنساس نے 1932کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک سینیٹر منتخب کیا۔ ٹیکساس میں بھی تقریباً چار دہائیوں بعد ڈیموکریٹک امیدوار سینیٹ کا انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوا۔ ان نتائج کی اہمیت محض نشستوں کی تعداد میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ ووٹروں کے رویے میں تبدیلی روایتی سیاسی تقسیم سے آگے بڑھ گئی۔
رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس کے مطابق ریپبلکن پارٹی کو شہری علاقوں، مضافاتی حلقوں اور متعدد قدامت پسند علاقوں میں نقصان اٹھانا پڑا۔ ڈیموکریٹس نے آزاد ووٹروں کے علاوہ نوجوانوں اور لاطینی نژاد امریکیوں کے بعض حصوں میں بھی اپنی حمایت بہتر بنائی۔ یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے انہی سماجی گروہوں کے بعض حصوں میں اپنی حمایت بڑھائی تھی۔ دو برس بعد ان میں سے بہت سے ووٹروں نے مختلف انتخابی ترجیحات ظاہر کیں۔امریکی انتخابی نظام میں وسط مدتی انتخابات صدر کی چار سالہ مدت کے نصف حصے میں ہوتے ہیں۔ ایوانِ نمائندگان کی تمام 435نشستوں اور سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستوں پر انتخاب ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ مختلف ریاستوں میں گورنروں اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات بھی ہوتے ہیں۔یہ انتخابات صدر کو تبدیل نہیں کرتے ، لیکن اس کی حکومت کی قانون سازی اور سیاسی طاقت کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں برقرار ہیں، مگر اب انہیں ایک ایسی کانگریس کا سامنا ہوگا جس کی قیادت حزبِ اختلاف کے پاس ہے ۔

عبدالالسید ٹرمپ کے مذہبی حملوں کے باوجود امریکا کا پہلا مسلم سینیٹر
مشی گن سے ڈاکٹر عبدالالسید کی کامیابی امریکی وسط مدتی انتخابات کا ایک تاریخی واقعہ ہے ۔ مصری نژاد امریکی خاندان سے تعلق رکھنے والے 42سالہ عبدالالسید امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان ہیں۔وہ صحتِ عامہ کے ماہر اور ڈیٹرائٹ کے سابق ہیلتھ ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے 2018میں مشی گن کے گورنر کا انتخاب لڑا تھا، لیکن کامیاب نہیں ہوئے ۔ بعد میں وہ ترقی پسند ڈیموکریٹک سیاست کے ایک نمایاں رہنما کے طور پر سامنے آئے ۔ان کی انتخابی مہم میں صحت کی عالمی سہولت، مہنگائی میں کمی، بڑی کمپنیوں کے سیاسی اثرورسوخ کی مخالفت اور معاشی انصاف اہم موضوعات تھے ۔ڈیموکریٹک پرائمری میں انہوں نے نسبتاً معتدل امیدوار ہیلی اسٹیونز کو شکست دی۔ عام انتخابات میں ان کا مقابلہ سابق ریپبلکن رکن کانگریس مائیک راجرز سے ہوا۔اس انتخاب میں مذہبی شناخت غیرمعمولی طور پر نمایاں ہوئی۔صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران عبدالالسید پر سخت حملے کیے ۔ انہیں ‘‘جہادی’’ قرار دیا گیا، مسلم برادرہڈ سے تعلق کے الزامات عائد کیے گئے اور ان کی امریکی وفاداری پر سوالات اٹھائے گئے ۔ عبدالالسید نے ان الزامات کی تردید کی اور ان کے حق میں معتبر ثبوت سامنے نہیں آئے ۔ان کے خلاف مہم میں اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ بھی اہم رہا۔ عبدالالسید نے اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کی مخالفت کی اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا۔ان کے اس مؤقف پر بعض اسرائیل نواز حلقوں نے اعتراضات کیے ، جبکہ فلسطینی حقوق کے حامیوں نے ان کی حمایت کی۔عبدالالسید نے اپنی کامیابی کو صرف مذہبی نمائندگی کا مسئلہ نہیں بنایا۔ ان کی انتخابی مہم میں معاشی مسائل، صحت کی سہولتوں اور سیاسی نظام میں بڑی کمپنیوں کے اثرورسوخ پر تنقید بھی مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مشی گن میں تقریباً 97فیصد ووٹ شمار ہونے پر عبدالالسید کو اپنے حریف پر تقریباً سات فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔ان کی کامیابی امریکی سیاست میں تین اہم مباحث کو آگے بڑھائے گی۔مسلمانوں کی قومی نمائندگی، مذہبی شناخت کے خلاف انتخابی حملوں کی سیاسی افادیت اور ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کا مستقبل۔تاہم ایک تاریخی کامیابی اور اس کے بعد قانون سازی میں عملی اثرورسوخ دو مختلف مراحل ہیں۔ سینیٹ میں عبدالالسید کو اپنے انتخابی وعدوں کے لیے اپنی جماعت کے معتدل ارکان اور دوسرے قانون سازوں کی حمایت بھی حاصل کرنا ہوگی۔

ٹرمپ کے خلاف ووٹ کیوں پڑا؟
ان انتخابات کا سب سے اہم موضوع معیشت تھی۔ ٹرمپ نے 2024 میں مہنگائی کم کرنے ، امریکی صنعتوں کو مضبوط بنانے ، روزگار بڑھانے اور عام شہریوں کے اخراجات گھٹانے کے وعدوں کے ساتھ دوبارہ صدارت حاصل کی تھی۔لیکن وسط مدتی انتخابات کے موقع پر بڑی تعداد میں ووٹروں نے زندگی گزارنے کی بڑھتی ہوئی لاگت کو اپنی بنیادی پریشانی قرار دیا۔رائٹرز کے مطابق تقریباً دس میں سے نو ووٹروں نے گھریلو اخراجات کو اہم انتخابی مسئلہ سمجھا، جبکہ تقریباً دو تہائی نے بلند قیمتوں کی ذمہ داری ٹرمپ پر عائد کی۔ یہ اعداد ایگزٹ پولز میں شامل ووٹروں کی آرا ہیں، نہ کہ تمام امریکی شہریوں کی متفقہ رائے ۔ مہنگائی کا مسئلہ صرف اشیائے خورونوش تک محدود نہیں رہا۔ رہائش، طبی سہولتوں، توانائی، انشورنس اور روزمرہ ضروریات کی قیمتوں نے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کو متاثر کیا۔ٹرمپ کی تجارتی پالیسی بھی انتخابی بحث کا حصہ بنی۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ درآمدی محصولات امریکی صنعتوں کو غیرملکی مسابقت سے تحفظ دیتے ہیں۔ ان کے حامی اسے روزگار اور صنعتی خودمختاری کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن ناقدین کے مطابق محصولات سے درآمدی اشیا مہنگی ہو سکتی ہیں اور ان کا بوجھ امریکی صارفین اور کاروباروں پر منتقل ہو سکتا ہے ۔
دوسرا بڑا مسئلہ ایران کے ساتھ جنگ تھی۔ ٹرمپ نے ماضی میں امریکا کو بیرونی جنگوں سے دور رکھنے کو اپنی سیاسی شناخت کا حصہ بنایا تھا۔ ان کی دوسری صدارت میں ایران کے ساتھ فوجی تصادم نے اس مؤقف کے بارے میں نئے سوالات پیدا کیے ۔جنگ کے معاشی اثرات، توانائی کی قیمتوں، دفاعی اخراجات اور علاقائی عدم استحکام نے انتخابی بحث میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم تمام ووٹروں کے فیصلے کو جنگ کی مخالفت کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں۔ بعض امریکی حلقے ایران کے خلاف سخت فوجی اقدامات کی حمایت بھی کرتے ہیں۔تیسرا مسئلہ حکمرانی کا انداز تھا۔ ٹرمپ کی سیاست میں جارحانہ بیانات، سیاسی مخالفین پر سخت حملے اور انتظامی اختیارات کا بھرپور استعمال نمایاں رہے ہیں۔ ان کے حامی اس انداز کو روایتی سیاسی نظام کے خلاف مؤثر قیادت سمجھتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ادارہ جاتی توازن کے لیے مسئلہ قرار دیتے ہیں۔انتخابات میں ان اختلافات کا اظہار ہوا، لیکن نتائج کو صرف ٹرمپ کی شخصیت پر ریفرنڈم سمجھنا بھی ناکافی ہوگا۔ مقامی امیدواروں کی مقبولیت، ریاستی حالات، جماعتی تنظیم اور انتخابی مہمات نے بھی کردار ادا کیا۔

……………………………………………………………………………………………………………………………

پاکستان اور ٹرمپ ۔۔۔۔ قربت کی اہم تاریخیں
مئی 2025:پاک بھارت جنگ بندی کے بعد ٹرمپ نے اپنے سفارتی کردار کا دعویٰ کیا۔ پاکستان نے ان کی کوششوں کو سراہا۔
جون 2025:پاکستان نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی حمایت کی۔ بعد میں ایران پر امریکی حملوں کی مذمت بھی کی۔
جولائی 2025:پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی محصولات اور اقتصادی تعاون سے متعلق پیش رفت ہوئی۔
ستمبر 2025:وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کی۔
جنوری 2026:پاکستان نے ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کیا۔
فروری 2026:شہباز شریف نے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کی۔ غزہ میں ممکنہ پاکستانی کردار کے بارے میں سوالات سامنے آئے ۔
نومبر 2026:امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی نے پاکستان کے لیے واشنگٹن میں نئے سیاسی روابط کی اہمیت بڑھا دی۔

ریپبلکن شکست:کیا ٹرمپ کی سیاست کمزور پڑ گئی؟
ریپبلکن پارٹی کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ شکست عارضی انتخابی ردعمل ہے یا اس کے ووٹر اتحاد میں گہری تبدیلی کا اشارہ؟
گزشتہ ایک دہائی میں ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کی سیاسی شناخت بدل دی۔ امیگریشن، تجارت، قوم پرستی، عالمی اتحادوں اور وفاقی اداروں کے بارے میں ان کے مؤقف نے پارٹی کے روایتی نظریات پر گہرا اثر ڈالا۔لیکن ان کی سیاسی مقبولیت کے ساتھ ایک مسئلہ بھی رہا ہے ۔ ان کے بعض سخت گیر مؤقف اپنے حامیوں کو متحرک کرتے ہیں، مگر دوسرے ووٹروں کو مخالف جماعت کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں۔ 2026 کے نتائج نے اس تضاد کو نمایاں کیا۔اس کے باوجود ٹرمپ کے سیاسی اثرورسوخ کے خاتمے کا اعلان قبل از وقت ہوگا۔ ریپبلکن پارٹی کے اندر ان کی حمایت اب بھی ایک اہم حقیقت ہے ۔ بہت سے منتخب نمائندے اور سیاسی کارکن ان کی قیادت سے وابستہ ہیں۔
آنے والے مہینوں میں ریپبلکن قیادت کے سامنے دو سوال ہوں گے ۔کیا پارٹی اپنی موجودہ سیاسی حکمت عملی برقرار رکھے یا متوسط طبقے ، نوجوانوں اور آزاد ووٹروں کو دوبارہ متوجہ کرنے کے لیے اپنا پیغام تبدیل کرے ؟ان سوالات کا تعلق صرف 2026کی شکست سے نہیں بلکہ 2028کے صدارتی انتخابات سے بھی ہے ۔

ٹرمپ کی صدارت: اقتدار برقرار، مگر کانگریس کا تعاون ختم
ڈیموکریٹس کی کامیابی کا سب سے فوری اثر امریکی قانون سازی پر پڑے گا۔صدر ٹرمپ بدستور وفاقی انتظامیہ کی قیادت کریں گے ، مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف رہیں گے اور خارجہ پالیسی کے متعدد معاملات میں اہم فیصلے کر سکیں گے ۔ لیکن کانگریس کے تعاون کے بغیر نئے قوانین منظور کروانا مشکل ہوگا۔امریکی آئین میں صدر اور کانگریس کے اختیارات الگ ہیں۔ وفاقی بجٹ، سرکاری اخراجات اور قانون سازی میں کانگریس کا بنیادی کردار ہے ۔ڈیموکریٹس اس اختیار کے ذریعے حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کے لیے مذاکرات کر سکتے ہیں۔ صحت، تعلیم، امیگریشن، ماحولیات، دفاع اور ٹیکس سے متعلق منصوبے اختلافات کا مرکز بن سکتے ہیں۔سینیٹ کی اکثریت خاص طور پر اہم ہے ۔ وفاقی ججوں، کابینہ کے متعدد عہدیداروں اور دیگر اعلیٰ تقرریوں کے لیے سینیٹ کی توثیق ضروری ہوتی ہے ۔ ڈیموکریٹس ان نامزدگیوں کی منظوری روک سکتے ہیں یا متبادل امیدواروں پر زور دے سکتے ہیں۔اس کے علاوہ کانگریس کی کمیٹیاں حکومتی فیصلوں کی تحقیقات کر سکتی ہیں۔ سرکاری اخراجات، انتظامی احکامات، جنگی فیصلوں اور مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ پر سماعتیں ہو سکتی ہیں۔لیکن ڈیموکریٹس کی اکثریت کو ٹرمپ کے اختیارات کے خاتمے کے مترادف سمجھنا غلط ہوگا۔ صدر کا ویٹو برقرار ہے اور اسے مسترد کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے ۔اسی طرح صدر کے مواخذے اور انہیں عہدے سے ہٹانے میں فرق ہے ۔ ایوانِ نمائندگان مواخذے کی منظوری دے سکتا ہے ، لیکن صدر کی برطرفی کے لیے سینیٹ میں موجود ارکان کے دو تہائی ووٹ ضروری ہیں۔اس لیے آنے والے دو برسوں میں سیاسی تحقیقات، بجٹ پر مذاکرات اور قانون سازی میں تعطل زیادہ فوری مسائل ہو سکتے ہیں۔

ڈیموکریٹس کی کامیابی، مگر پارٹی کے اندر اختلافات
انتخابی کامیابی نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک پرانی بحث کو بھی نئی اہمیت دی ہے ۔پارٹی کا معتدل دھڑا کاروباری طبقے ، سیاسی مرکز اور روایتی اداروں کے ساتھ تعاون کو اہم سمجھتا ہے ۔ ترقی پسند دھڑا صحت کی عالمی سہولت، بڑی کمپنیوں پر زیادہ نگرانی، معاشی عدم مساوات میں کمی اور خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا حامی ہے ۔ مشی گن سے عبدالالسید کی کامیابی ترقی پسند سیاست کے لیے اہم واقعہ ہے ۔ لیکن ان کی فتح کو پوری پارٹی کی نظریاتی تبدیلی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ڈیموکریٹس کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ ٹرمپ کی مخالفت سے آگے بڑھ کر مہنگائی، رہائش، صحت اور روزگار کے بارے میں قابلِ عمل متبادل پیش کریں۔اگر نئی کانگریس صرف تحقیقات اور سیاسی محاذ آرائی میں مصروف رہی تو اس کی کارکردگی بھی ووٹروں کی جانچ کے دائرے میں آئے گی۔

عالمی سیاست:واشنگٹن کی تبدیلی دنیا کے لیے کیا معنی رکھتی ہے ؟
امریکی انتخابات کے نتائج کا اثر عالمی سیاست پر بھی پڑے گا، لیکن ہر خطے میں اس کی نوعیت مختلف ہوگی۔خارجہ پالیسی میں امریکی صدر کو وسیع انتظامی اختیارات حاصل ہیں۔ دوسری جانب کانگریس دفاعی بجٹ، بیرونی امداد، پابندیوں، تجارتی قوانین اور نگرانی کے ذریعے پالیسی کو متاثر کر سکتی ہے ۔
٭چین کے معاملے میں ،دونوں امریکی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باوجود اسٹریٹجک مسابقت پر وسیع اتفاق موجود ہے ۔ ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، دفاعی طاقت اور بحرالکاہل میں اثرورسوخ کے معاملات واشنگٹن کی مستقل ترجیحات ہیں۔
ڈیموکریٹک کانگریس ٹرمپ کے محصولات اور تجارتی پابندیوں کے معاشی اثرات کا جائزہ لے سکتی ہے ، لیکن چین کے بارے میں امریکی پالیسی کی بنیادی مسابقتی نوعیت ختم ہونے کا کوئی واضح سبب نہیں۔
٭روس اور یوکرین کے معاملے میں، نئی کانگریس فوجی امداد، پابندیوں اور یورپی سلامتی پر زیادہ فعال کردار ادا کر سکتی ہے ۔ ڈیموکریٹک رہنماؤں کے ایک بڑے حصے نے یوکرین کی حمایت کی ہے ۔ تاہم نئی امداد یا کسی بڑے فیصلے کے لیے قانون سازی اور صدر کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔
٭یورپ اور نیٹو کے لیے ،یہ نتائج امریکی اتحادوں کے مستقبل پر نئی بحث پیدا کریں گے ۔ ڈیموکریٹس عموماً نیٹو کے ساتھ مضبوط تعاون کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ ٹرمپ نے یورپی ممالک سے دفاعی اخراجات بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے ۔
٭مشرقِ وسطیٰ میں،ایران جنگ اور اسرائیل کے لیے امریکی امداد اہم موضوعات ہوں گے ۔ نئی کانگریس فوجی کارروائیوں کے قانونی جواز، جنگی اخراجات اور غزہ کی صورت حال پر سماعتیں کر سکتی ہے ۔تاہم ڈیموکریٹک پارٹی اسرائیل کے معاملے میں یکساں مؤقف نہیں رکھتی۔ بعض رہنما اسرائیل کے ساتھ مضبوط دفاعی تعاون کے حامی ہیں، جبکہ ترقی پسند حلقے فلسطینی حقوق اور فوجی امداد پر شرائط کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ اختلافات کانگریس کی پالیسی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، لیکن کسی فوری اور مکمل تبدیلی کی ضمانت نہیں۔

پاکستان کے لیے اصل امتحان:ٹرمپ سے قربت یا امریکا سے تعلق؟
امریکی وسط مدتی انتخابات کا پاکستان کے لیے سب سے اہم پہلو واشنگٹن میں طاقت کی نئی تقسیم ہے ۔گزشتہ ڈیڑھ برس میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کی سفارتی قیادت نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے غیرمعمولی سرگرمی دکھائی۔مئی 2025کی پاک بھارت کشیدگی کے بعد ٹرمپ نے جنگ بندی میں اپنے کردار کا بار بار ذکر کیا۔ پاکستان نے ان کی کوششوں کو سراہا، جبکہ بھارت نے بیرونی ثالثی کے بارے میں مختلف مؤقف اختیار کیا۔پاکستان نے جون 2025میں ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی حمایت کی۔ یہ فیصلہ اس وقت خاص طور پر نمایاں ہوا جب کچھ ہی عرصے بعد امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں کیں اور پاکستان نے ان حملوں کی مذمت کی۔ستمبر 2025میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کی۔ پاکستانی حکومت کے مطابق تجارت، معدنیات، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، علاقائی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے موضوعات زیرِ بحث آئے ۔یہ ملاقاتیں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی علامت تھیں۔ اسلام آباد نے امریکی صدر کے ساتھ براہِ راست روابط کو زیادہ اہمیت دی اور ٹرمپ کی شخصیت کے ساتھ ایک نمایاں سفارتی تعلق قائم کیا۔اس حکمت عملی کے کچھ عملی نتائج بھی سامنے آئے ۔ تجارتی مذاکرات میں پیش رفت ہوئی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات زیرِ بحث آئے اور واشنگٹن میں پاکستان کو نئی توجہ ملی۔لیکن ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے ۔کیا اسلام آباد نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنایا یا اس کی کوششیں بڑی حد تک ایک امریکی صدر کے گرد مرکوز رہیں؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ امریکی سیاسی نظام میں خارجہ پالیسی صرف وائٹ ہاؤس نہیں بناتا۔ کانگریس، محکمہ خارجہ، دفاعی ادارے ، کاروباری حلقے اور دیگر ادارے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

…………………………………………………………………………………………………………………………..

امریکی انتخابات پانچ اہم ریاستیں

ٹیکساس: جیمز ٹیلاریکو کی کامیابی نے طویل ریپبلکن غلبے کو توڑا اور ڈیموکریٹس کی انتخابی پیش رفت کو نمایاں کیا۔

کنساس: ایڈم ہیملٹن کی کامیابی 1932 کے بعد ریاست میں ڈیموکریٹس کی پہلی سینیٹ فتح بنی۔

مشی گن: عبدالالسید نے مائیک راجرز کو شکست دے کر پہلے مسلم امریکی سینیٹر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

اوہائیو: شیروڈ براؤن کی کامیابی نے سینیٹ کے طاقت کے توازن میں اہم کردار ادا کیا۔

جنوبی کیرولائنا : ڈیموکریٹس کی کامیابی نے ایک روایتی ریپبلکن ریاست میں ووٹروں کے بدلتے رجحان کو نمایاں کیا۔

 

شہباز شریف کی ٹرمپ کے لیے غیرمعمولی ستائش:ڈیموکریٹس کیا سوچ سکتے ہیں؟
پاکستانی قیادت نے ٹرمپ کے لیے جس انداز میں تعریف و ستائش کا اظہار کیا، وہ معمول کی سفارتی زبان سے زیادہ نمایاں تھا۔نوبیل امن انعام کی نامزدگی، پاک بھارت جنگ بندی میں ٹرمپ کے کردار کی مسلسل تعریف اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں ان کی امن کوششوں کو سراہنا اس حکمت عملی کے اہم اجزا تھے ۔ڈیموکریٹس اس طرزِ سفارت کاری کو مختلف زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں۔
ایک ممکنہ تعبیر یہ ہوگی کہ پاکستان نے اپنے قومی مفادات کے تحت برسراقتدار امریکی صدر کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی۔ دنیا کے دوسرے ممالک بھی واشنگٹن میں ایسا کرتے ہیں۔
دوسری تعبیر یہ ہو سکتی ہے کہ اسلام آباد نے ٹرمپ کی شخصیت کے ساتھ غیرمعمولی قربت پیدا کر کے امریکی جماعتی سیاست کے بارے میں اپنی سفارتی حکمت عملی کو محدود کر لیا۔
تیسرا زاویہ ان ڈیموکریٹک رہنماؤں کا ہو سکتا ہے جو ٹرمپ کی خارجہ پالیسی، ایران جنگ یا حکمرانی کے انداز کے ناقد ہیں۔ وہ پاکستان کی جانب سے نوبیل نامزدگی اور غیرمعمولی تعریفوں کو سوالات کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں۔
تاہم ان ممکنہ تعبیرات کو ڈیموکریٹک پارٹی کا ثابت شدہ اجتماعی مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسی معتبر بنیاد موجود نہیں کہ نئی کانگریس نے پاکستان کے خلاف صرف ٹرمپ سے قربت کی وجہ سے کوئی مشترکہ پالیسی اختیار کر لی ہے ۔اصل مسئلہ شخصی تعلقات کی موجودگی نہیں بلکہ سفارتی توازن ہے ۔پاکستان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ٹرمپ کے ساتھ اس کے روابط امریکی ریاست کے ساتھ طویل مدتی تعلقات کا حصہ ہیں، نہ کہ کسی ایک جماعت کے ساتھ سیاسی وابستگی کا اظہار۔

……………………………………………………………………………………………………………………

پاکستان کے لیے سات بڑے سوال
1۔کیا نئی ڈیموکریٹک کانگریس پاکستان میں جمہوریت، سیاسی آزادیوں اور انسانی حقوق پر زیادہ توجہ دے گی؟
2۔کیا ٹرمپ سے قربت کو پاکستان کی قومی سفارت کاری سمجھا جائے گا یا شخصی سیاسی وابستگی؟
3۔کیا پاک امریکا تجارتی انتظامات اور سرمایہ کاری کے منصوبے برقرار رہیں گے ؟
4۔کیا پاکستان کی عسکری قیادت کے ساتھ امریکی تعاون کانگریس کی زیادہ نگرانی میں آئے گا؟
5۔کیا سی پیک اور چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نئے سوالات پیدا کریں گے ؟
6۔کیا غزہ بورڈ آف پیس اور ایران جنگ میں پاکستان کا کردار زیادہ پیچیدہ ہو جائے گا؟
7۔کیا اسلام آباد وائٹ ہاؤس کے ساتھ ساتھ دونوں امریکی جماعتوں اور کانگریس کے ساتھ مستقل روابط قائم کر سکے گا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عسکری قیادت، جمہوریت اور انسانی حقوق
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ٹرمپ سے براہِ راست روابط نے پاک امریکا تعلقات کے سلامتی پہلو کو نئی اہمیت دی۔ٹرمپ نے پاکستانی عسکری قیادت کی تعریف کی اور علاقائی سلامتی میں اس کے کردار کو سراہا۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے یہ رابطے انسدادِ دہشت گردی، افغانستان، بھارت اور علاقائی استحکام کے حوالے سے اہم تھے ۔لیکن نئی ڈیموکریٹک کانگریس پاکستان کے ساتھ تعلقات کو صرف سلامتی کے زاویے سے نہیں دیکھ سکتی۔پاکستان میں جمہوری اداروں کی صورت حال، سیاسی آزادیوں، انتخابی عمل، اظہارِ رائے اور سول و عسکری تعلقات کے معاملات بھی امریکی قانون سازوں کی توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف مقدمات، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور سیاسی عمل سے متعلق اختلافات پہلے بھی پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک زیرِ بحث رہے ہیں۔نئی کانگریس کی متعلقہ کمیٹیاں ان معاملات پر محکمہ خارجہ سے وضاحت طلب کر سکتی ہیں یا سماعتیں منعقد کر سکتی ہیں۔لیکن انسانی حقوق سے متعلق سوالات اٹھانا اور پاکستان کے خلاف پابندیاں عائد کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ کسی مخصوص اقدام کے لیے الگ قانونی اور سیاسی مراحل درکار ہوں گے ۔
پاکستانی حکومت کے لیے یہ ایک سفارتی امتحان ہوگا کہ وہ امریکی قانون سازوں کے سامنے اپنے مؤقف کو کس طرح پیش کرتی ہے اور سلامتی تعاون کے ساتھ جمہوری و آئینی معاملات پر بھی مکالمہ کیسے برقرار رکھتی ہے ۔

تجارت اور سرمایہ کاری: تعلقات کی اصل پائیداری
ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں اقتصادی تعاون ایک اہم عنصر رہا۔جولائی 2025میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی انتظام کے تحت پاکستانی مصنوعات کے لیے امریکی محصولات کی 19فیصد شرح سامنے آئی۔ اس کے ساتھ معدنیات، توانائی اور دوسرے شعبوں میں تعاون کی بات ہوئی۔ڈیموکریٹک کانگریس کے آنے سے امریکی تجارتی پالیسی پر نئی بحث ہو سکتی ہے ، لیکن اس سے پاکستان کے لیے فوری رعایت یا نقصان کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان کے لیے امریکا ایک اہم برآمدی منڈی ہے ۔ ٹیکسٹائل، ملبوسات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دوسری مصنوعات کے لیے امریکی تجارتی پالیسی براہِ راست اہمیت رکھتی ہے ۔اس لیے اسلام آباد کے لیے بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا تجارتی تعاون شخصی سیاسی تعلقات سے آگے بڑھ کر مستحکم کاروباری معاہدوں، سرمایہ کاری اور صنعتی روابط کی صورت اختیار کر سکتا ہے ؟امریکی کمپنیوں کے فیصلے صرف سیاسی تعریفوں سے نہیں ہوتے ۔ منافع، قانونی تحفظ، توانائی کی دستیابی، ٹیکس، سیاسی استحکام اور کاروباری ماحول بھی فیصلہ کن عوامل ہیں۔پاکستان کے لیے طویل مدتی فائدہ اسی وقت ممکن ہوگا جب سفارتی قربت قابلِ عمل اقتصادی نتائج میں تبدیل ہو۔

  • ٹیکساس میں جیمز ٹیلاریکو کی کامیابی، کنساس میں ایڈم ہیملٹن کا انتخاب اور اوہائیو میں شیروڈ براؤن کی واپسی ڈیموکریٹس کی انتخابی پیش رفت کی نمایاں مثالیں بنیں۔ کنساس نے 1932کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک سینیٹر منتخب کیا۔ ٹیکساس میں بھی تقریباً چار دہائیوں بعد ڈیمو کریٹک امیدوار سینیٹ کا انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوا۔ ان نتائج کی اہمیت محض نشستوں کی تعداد میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ ووٹروں کے رویے میں تبدیلی روایتی سیاسی تقسیم سے آگے بڑھ گئی۔

 

چین، بھارت اور افغانستان:مستقل امریکی مفادات
چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات امریکی خارجہ پالیسی میں ایک مستقل اہمیت رکھتے ہیں۔سی پیک، گوادر، دفاعی تعاون اور معدنی وسائل کے معاملات واشنگٹن کی توجہ کا حصہ رہ سکتے ہیں۔ چونکہ چین کے بارے میں امریکی جماعتوں میں کئی مشترکہ تحفظات موجود ہیں، اس لیے ڈیموکریٹک کانگریس کی کامیابی سے اس معاملے میں بنیادی تبدیلی فرض نہیں کی جا سکتی۔بھارت کے ساتھ امریکی تعلقات بھی طویل مدتی اقتصادی، تکنیکی اور دفاعی مفادات پر قائم ہیں۔ ٹرمپ اور نئی دہلی کے درمیان تجارتی اختلافات کے باوجود بھارت امریکا کے لیے ایشیا میں ایک اہم شراکت دار ہے ۔پاکستان کو اس حقیقت کے ساتھ اپنی امریکی پالیسی تشکیل دینا ہوگی کہ واشنگٹن میں بھارت کے ساتھ تعلقات کسی ایک صدر کی ترجیحات تک محدود نہیں۔افغانستان کا معاملہ پاکستان کے لیے ایک اور مستقل موضوع ہے ۔ دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور علاقائی استحکام کے مسائل امریکا اور پاکستان کے درمیان تعاون کی ضرورت برقرار رکھ سکتے ہیں۔یہ تینوں معاملات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی صرف ٹرمپ سے قربت یا ڈیموکریٹس کی انتخابی کامیابی سے متعین نہیں ہوگی۔ اس میں وسیع تر امریکی مفادات بھی کردار ادا کریں گے ۔

غزہ اور ایران: پاکستان کی سفارت کاری کا حساس محاذ
پاکستان نے جنوری 2026میں ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ اسلام آباد نے اس فیصلے کو جنگ بندی، انسانی امداد اور تعمیرنو کی کوششوں سے منسلک کیا۔لیکن غزہ میں کسی ممکنہ بین الاقوامی فورس میں پاکستانی کردار کے بارے میں سوالات بھی سامنے آئے ۔ پاکستانی حکام کے لیے یہ وضاحت اہم تھی کہ کسی فورس کا مقصد امن برقرار رکھنا ہوگا یا اسے حماس کو غیرمسلح کرنے جیسے اقدامات بھی کرنا ہوں گے ۔ڈیموکریٹک کانگریس غزہ سے متعلق امریکی پالیسی، امداد، مالی معاملات اور ممکنہ فوجی انتظامات پر سوالات اٹھا سکتی ہے ۔پاکستان کے لیے یہ معاملہ اس لیے حساس ہے کہ فلسطینی حقوق کی حمایت اس کی خارجہ پالیسی کا مستقل حصہ رہی ہے ، جبکہ ٹرمپ کے سفارتی منصوبے میں شرکت نے نئی ذمہ داریوں کے سوالات پیدا کیے ۔ایران کے معاملے میں بھی پاکستان کو دُہرا دباؤ درپیش ہے ۔ ایک طرف امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش ہے ، دوسری طرف ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد، تجارت، سلامتی اور علاقائی استحکام کے مفادات ہیں۔اگر واشنگٹن میں ایران جنگ کے بارے میں اختلافات بڑھتے ہیں تو پاکستان کو اپنے مؤقف اور سفارتی ترجیحات زیادہ واضح رکھنا ہوں گی۔

2028 کی سیاست اور امریکا کا مستقبل
ان انتخابات نے اگلے صدارتی مقابلے کے بارے میں بھی نئی بحث شروع کر دی ہے ۔امریکی آئین کی بائیسویں ترمیم کے تحت کوئی شخص دو مرتبہ سے زیادہ صدر منتخب نہیں ہو سکتا۔ ٹرمپ 2016اور 2024میں صدر منتخب ہو چکے ہیں، اس لیے موجودہ آئینی نظام کے تحت وہ 2028میں تیسری مرتبہ صدر منتخب ہونے کے اہل نہیں۔ریپبلکن پارٹی کو نئی صدارتی قیادت اور انتخابی حکمت عملی کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔ نائب صدر جے ڈی وینس سمیت مختلف رہنما پارٹی کے مستقبل کی بحث میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ڈیموکریٹس کے سامنے بھی قیادت اور نظریاتی سمت کے سوالات موجود ہیں۔ معتدل اور ترقی پسند دھڑوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ معاشی مسائل، سماجی حقوق اور خارجہ پالیسی کے بارے میں کس مشترکہ پروگرام پر آگے بڑھتے ہیں۔لیکن 2026کے نتائج کو 2028کے صدارتی انتخاب کی پیش گوئی نہیں سمجھنا چاہیے ۔ امریکی سیاست میں دو برس ایک طویل مدت ہیں اور معاشی حالات، عالمی واقعات، امیدواروں اور حکومتی کارکردگی سے انتخابی ترجیحات بدل سکتی ہیں۔

نتیجہ:واشنگٹن میں اقتدار کی نئی تقسیم، اسلام آباد کے لیے نیا سبق
امریکی وسط مدتی انتخابات نے ٹرمپ کی صدارت ختم نہیں کی، لیکن ان کے لیے سیاسی ماحول بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے ۔ڈیموکریٹس کے پاس اب کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول ہے ۔ وہ قانون سازی، بجٹ، تقرریوں اور حکومتی نگرانی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب صدر کے انتظامی، سفارتی اور دفاعی اختیارات برقرار ہیں۔یہ صورت حال آنے والے دو برسوں میں مذاکرات، سیاسی محاذ آرائی اور ادارہ جاتی کشمکش کا سبب بن سکتی ہے ۔عالمی سطح پر امریکی اتحادیوں اور حریفوں کو ایک ایسی حکومت کے ساتھ معاملات طے کرنا ہوں گے جس میں وائٹ ہاؤس اور کانگریس مختلف جماعتوں کے زیرِ اثر ہوں گے ۔پاکستان کے لیے ان انتخابات کا سب سے اہم سبق شخصیات اور اداروں کے درمیان فرق کو سمجھنا ہے ۔وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے غیرمعمولی سفارتی کوششیں کیں۔ ان کوششوں سے اعلیٰ سطحی روابط، تجارتی مذاکرات اور سلامتی تعاون کو نئی توجہ ملی۔لیکن اب اسلام آباد کو یہ بھی دکھانا ہوگا کہ وہ امریکی سیاست کی بدلتی ہوئی صورت حال میں دونوں بڑی جماعتوں اور کانگریس کے ساتھ پائیدار تعلقات برقرار رکھ سکتا ہے ۔

ڈیموکریٹس پاکستان کے بارے میں جمہوریت، انسانی حقوق، چین، افغانستان اور علاقائی سلامتی کے سوالات اٹھا سکتے ہیں۔ دوسری طرف تجارت، انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی استحکام میں تعاون کے امکانات بھی موجود رہیں گے ۔اس لیے ٹرمپ کی انتخابی مشکلات کو پاکستان کی لازمی سفارتی شکست سمجھنا درست نہیں۔ لیکن ٹرمپ سے قربت کو امریکا کی مستقل حمایت کی ضمانت سمجھنا بھی اتنا ہی غلط ہوگا۔

امریکی انتخابات نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ امریکا میں اقتدار صرف وائٹ ہاؤس کا نام نہیں۔ پاکستان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کی خارجہ پالیسی ایک طاقتور صدر کے ساتھ شخصی تعلقات سے آگے بڑھ کر امریکی ریاست کے مختلف اداروں کے ساتھ پائیدار شراکت داری میں تبدیل ہو سکتی ہے ؟
واشنگٹن میں طاقت کا توازن بدل چکا ہے ۔ اب اسلام آباد کی سفارتی حکمت عملی کا امتحان شروع ہوتا ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں