قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی
شیئر کریں
وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ نے گزشتہ روز پاکستان کی قومی زرعی بایوٹیکنالوجی پالیسی کی منظوری دی،
اس پالیسی کے بارے میں حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اس پر عمل سے ملک میں زرعی انقلاب آجائے گا، اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ زرعی بایوٹیکنالوجی پالیسی پر پوری طرح عملدرآمد سے ملک کے سسکتے ہوئے زرعی شعبے اور اس شعبے سے وابستہ مفلوک الحال کاشتکاروں کے چہروں پر کسی حد تک طمانیت آسکتی ہے اس لئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ زرعی بایوٹیکنالوجی پالیسیکی منظوری ملک کے زرعی شعبے کے لیے ایک اہم اور بروقت اقدام تھا۔
اس پالیسی کا بنیادی مقصد سائنسی بنیادوں پر جدت، بہتر بیجوں کے نظام، غذائی تحفظ، کسانوں کی پیداواری صلاحیت اور ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کے لیے ایک واضح قومی سمت فراہم کرنا ہے۔ یہ پالیسی راتوں رات تیار نہیں ہوئی بلکہ اسے سرکاری اداروں، سائنس دانوں، ریگولیٹری حکام، صوبائی نمائندوں، جامعات، صنعت اور دیگر متعلقہ فریقوں سے طویل مشاورت کے بعد تشکیل دیا گیا لیکن یہ بات واضح ہے کہ زرعی ترقی اور کاشتکاروں کے چہروں پر مسکان لانے کیلئے صرف پالیسی کی منظوری ہی کافی نہیں ہے بلکہ اب حکومت کے سامنے اصل چیلنج پالیسی کی عدم موجودگی نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد میں حائل رکاوٹیں ہیں۔ ایسی پالیسی جو صرف کاغذوں تک محدود رہے، نہ پیداوار میں اضافہ کر سکتی ہے، نہ برآمدات، نہ درآمدی متبادل فراہم کر سکتی ہے اور نہ ہی غذائی تحفظ کو یقینی بنا سکتی ہے۔ اس کی حقیقی افادیت کا اندازہ تب ہوگا جب منظور شدہ ٹیکنالوجیز ایک قابلِ پیش گوئی، شفاف اور سائنسی بنیادوں پر قائم عمل درآمد کے نظام کے تحت آگے بڑھیں گی۔ایک بڑی رکاوٹ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) مکئی کے بارے میں غلط معلومات کا مسلسل پھیلاؤ ہے۔ جی ایم مکئی کو اکثر اچانک متعارف کرائی جانے والی یا غیر آزمودہ ٹیکنالوجی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ اس کے بایو سیفٹی ٹرائلز 2009 میں شروع ہوئے تھے۔ تمام مطلوبہ مطالعات اور ڈیٹا تیار کیا گیا، اور بعد ازاں متعلقہ بایو سیفٹی اداروں کے جائزے کے بعد اس کی تجارتی منظوری دی گئی۔ یہ آزمائشیں قومی بایو سیفٹی کمیٹی کی نگرانی میں انجام دی گئیں۔دوسری بڑی رکاوٹ مقامی کارکردگی سے متعلق دستیاب اعداد و شمار کو نظر انداز کرنے کا رجحان ہے۔ جی ایم مکئی کی ہائبرڈ اقسام نے مختلف مقامات پر ریگولیٹری نگرانی میں قومی یکسانیت اور پیداوار کے آزمائشی مراحل کامیابی سے مکمل کیے۔ پاکستان کے کسان بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، کیڑوں کے دباؤ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور مویشیوں کے چارے کی بڑھتی ہوئی طلب جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ جب کوئی ٹیکنالوجی مقامی زرعی حالات میں اپنی افادیت ثابت کر چکی ہو تو اس تک رسائی میں تاخیر کا مطلب کسانوں اور قومی معیشت دونوں کے ممکنہ فوائد میں تاخیر ہے۔پاکستان میں مکئی کی پیداوار کا بڑا حصہ پہلے ہی جانوروں کے چارے کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جس میں سب سے بڑا صارف پولٹری کی صنعت ہے، اس کے بعد مویشیوں کا چارہ اور ویٹ ملنگ کی صنعت آتی ہے۔ ملک پہلے ہی جی ایم سویابین اور کینولا پر مبنی چارے کے اجزا استعمال کر رہا ہے، جنہیں باقاعدہ منظوری حاصل ہے۔ اس لیے مقامی طور پر پیدا کی جانے والی جی ایم مکئی کسی نئے نظام کا حصہ نہیں بنے گی بلکہ پہلے سے موجود فیڈ مارکیٹ میں شامل ہوگی۔اس کی کاشت کی کچھ مخالفت کی وجہ قومی زرعی ترجیحات کے بجائے محدود تجارتی مفادات بھی معلوم ہوتی ہے۔ مقامی بیجوں کی صنعت کے بعض حلقے ممکنہ مسابقت سے خوف زدہ ہیں، جبکہ پروسیسنگ کے شعبے کے کچھ حصے موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم حکومت کو چاہئے کہ قومی پالیسی کو چند مخصوص تجارتی مفادات کا یرغمال نہ بننے دے۔ بیجوں کے شعبے میں مقابلہ کسانوں کے فائدے اور بہتر کارکردگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔پاکستان زرعی بایوٹیکنالوجی کو عالمی رجحانات سے الگ رکھ کر نہیں دیکھ سکتا۔ جی ایم مکئی کو کئی بڑی زرعی معیشتوں، مثلاً امریکہ، ارجنٹائن، برازیل، کینیڈا اور جنوبی افریقہ میں کئی برسوں سے منظور کیا جا چکا ہے اور اس کا استعمال جاری ہے۔ ایشیا میں بھی فلپائن، ویتنام، انڈونیشیا اور چین جیسے ممالک اس کی منظوری کے عمل میں آگے بڑھ چکے ہیں، جبکہ بھارت نے بھی منظوری کے عمل کو دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ اگر پاکستان اس پالیسی پر عمل درآمد میں تاخیر کرتا رہا تو وہ ٹیکنالوجی اپنانے، کسانوں کی پیداواری صلاحیت اور برآمدی مسابقت میں اپنے علاقائی حریفوں سے مزید پیچھے رہ جائے گا۔لہٰذا عمل درآمد میں حائل رکاوٹوں کو واضح انتظامی اقدامات کے ذریعے دور کرنا ضروری ہے۔ متعلقہ وزارتوں اور ریگولیٹری اداروں کو منظور شدہ پالیسی کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے، پہلے سے مکمل کیے گئے جائزوں کی غیر ضروری تکرار سے گریز کرنا چاہیے اور تمام متعلقہ فریقوں سے شفاف انداز میں رابطہ رکھنا چاہیے۔ بایو سیفٹی کی تجدید، اقسام کی منظوری، ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال، کاشت کے مختلف نظاموں کے باہمی وجود، نگرانی، جہاں ضروری ہو لیبلنگ، اور کسانوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک عملی روڈ میپ ترتیب دینا ناگزیر ہے۔وزیرِ اعظم کی جانب سے قومی زرعی بایوٹیکنالوجی پالیسی کی منظوری نے پاکستان کو اپنی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا ایک تاریخی موقع فراہم کیا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا
اس پالیسی پر عمل درآمد بھی اسی ویژن کے مطابق ہوگا یا نہیں۔ غلط معلومات، غیر ضروری انتظامی ہچکچاہٹ یا مخصوص مفاداتی گروہوں کو قومی پالیسی کی روح کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
٭٭٭


