عالمی معیشت اور ٹرمپ کی ہٹ دھرمی!
شیئر کریں
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد تہران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے،
ایرانی فوج کی جانب سے بحرین میں امریکی بحریہ کے ہیڈ کوارڑ اور فوجی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں 160 امریکیوں کے ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایران نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کی رات سے جاری امریکی و اسرائیلی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 1045 ہوگئی جب کہ شدید زخمیوں کی تعداد بھی
درجن سے زائد ہے۔جس کے جواب میں اسرائیل سمیت عرب ممالک میں قائم امریکی بیسز اور سفارت خانوں پر ایران کے حملے جاری ہیں جن میں متعدد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے ۔کشیدگی میں اضافے اور آ بنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت کو لاحق خطرات کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر حملے کے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے تک یہ حملے جاری رہیں گے۔ مطلوبہ نتائج سے مراد ایران میں موجودہ حکومت کی جگہ امریکہ کی من پسند حکومت کو برسرِ اقتدار لانا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنے اعلان کردہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے گا؟ ایران امریکہ جنگ کیا رُخ اختیار کرے گی؟ ایران کی اسلامی حکومت اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کرے گی؟ اور اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے توامریکہ جو یوکرین میں اپنی پٹھو حکومت کو منج دھار میں چھوڑ کر بھاگ چکاہے اس طویل جنگ کا بار کب تک برداشت کرسکے گا اور امریکی عوام اس جنگ کو کب تک برداشت کرسکتے ہیں جبکہ ایران کے برخلاف صورت حال امریکہ میں ابھی سے بگڑی نظر آرہی ہے،جس کا اندازہ امریکہ میں خود ڈونلڈ ٹرمپ پارٹی کے مقتدر حلقوں کی جانب سے اس جنگ کے خلاف اٹھتی ہوئی آوازوں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف امریکی عوام کے مظاہروں سے لگایا جاسکتاہے۔امریکہ میں صدر ٹرمپ کی ایران پر فوجی حملوں کے خلاف سیاسی اور عوامی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے علاوہ خود صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت رپبلکن پارٹی کے ارکان نے بھی جنگ کے خلاف آواز اٹھائی ہے جب کہ عوامی رائے عامہ کے جائزوں میں عوام کی اکثریت جنگ کے خلاف ہے۔ ورجینیا کے ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر انتظامیہ نے ایران پر حملہ کرنے کی کئی وجوہات بتائی ہیں، جن میں پہلے اس کا جوہری پروگرام تباہ کرنا، پھر اس کے بیلسٹک میزائل کی تیاری ختم کرنا، اس کی حکومت تبدیل کرنا اور اب اس کے بحری بیڑے کو غرق کرنا شامل ہے۔سینیٹر ٹم کین سینیٹ کی آرمڈ سروسز اور فارن ریلیشنز کمیٹیوں کے رکن بھی ہیں۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے حکم کو ایک ‘بہت بڑی غلطی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہر سینیٹر کو اس خطرناک، غیر ضروری اور احمقانہ اقدام کے حوالے سے اپنا موقف آن دی ریکارڈ لانے کی ضرورت ہے۔امریکی حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے دوسرے ارکان نے بھی حملوں کو ‘ٹرمپ کی جنگ’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر یہ جنگ غیر قانونی ہے۔سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا کہ ‘ٹرمپ کی جنگ، کوئی حکمت عملی نہیں، کوئی اختتام نہیں۔ امریکی مزید لمبی اور مہنگی جنگ نہیں چاہتے۔اس کے علاوہ متعدد دوسرے امریکی سیاست دانوں اور دوسری سرکردہ شخصیات نے بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ میں حصہ لینے کے فیصلے کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹر الزبتھ وارن نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ میں نے ابھی ایران کے بارے میں ایک خفیہ بریفنگ میں شرکت کی ہے اور میں کہہ سکتی ہے کہ صورتِ حال آپ کے تصور سے بھی بری ہے۔ انتظامیہ کے پاس ایران کے بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ یہ جنگ جھوٹ پر مبنی ہے اور ایران سے امریکہ کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔ سابقہ صدارتی امیدوار کاملا ہیرس نے کہا کہ یہ جنگ ‘ٹرمپ کی مرضی کی جنگ ہے،امریکی جانیں خطرے میں ہیں اور کانگریس کو مزید مداخلت روکنی چاہیے۔کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ حکیم جیفریز نے کہا کہ ٹرمپ نے کانگریس سے ‘اجازت لیے بغیر فوجیوں کو خطرے میں ڈالا’ اور ان کے پاس کوئی واضح منصوبہ نہیں کہ جنگ طول نہ پکڑے۔سابق رپبلکن رکنِ کانگریس مارجری ٹیلر گرین، جو ماگا کی پرجوش حامی تھیں، نے صدر ٹرمپ کی ‘ذہنی حالت’ پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ان کی ذہنی حالت کیا ہے۔معروف اینکر ٹکر کارلسن نے اس جنگ کو گھناؤنی اور شیطانی قرار دیا ہے اور کہتے ہیں کہ یہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ‘امریکہ فرسٹ’ پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ ٹکر کارلسن نے پیر کو اپنی پوڈکاسٹ میں کہا کہ یہ ‘اسرائیل کی جنگ’ ہے اور امریکہ اسے صرف اسرائیل کی وجہ سے لڑ رہا ہے۔روئٹرز/اپسوس کے اختتامِ ہفتہ کیے گئے رائے عامہ کے ایک نئے جائزے کے مطابق، صرف 27 فیصد امریکیوں نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کی حمایت کی،پیر اور منگل کو کیے گئے سی بی ایس (CBS) کے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 1,400 امریکی بالغوں میں سے 60 فیصد سے زائد کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں امریکی مقاصد کے حوالے سے کوئی واضح وضاحت پیش نہیں کی۔نیویارک ٹائمز کے ایک سروے میں صرف 21 فیصد نے ایران پر حملے کی حمایت کی۔ اس سرویز میں لوگوں نے مخالفت کی وجوہات میں لمبی جنگ، فوجی اخراجات اور مہنگائی وغیرہ بتائیں۔اس کے علاوہ کئی امریکی شہروں میں جنگ کے خلاف مظاہرے اور احتجاج ہوئے ہیں۔ لاس اینجلس، واشنگٹن ڈی سی اور نیویارک میں بڑے مظاہرے ہوئے جہاں ہزاروں افراد نے حملوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔ لاس اینجلس میں مظاہرین نے ‘پیسہ نوکریوں کے لیے، بموں کے لیے نہیں’ کے نعرے لگائے۔ سی این این کے ایک سروے کے مطابق 59 فیصد افراد نے جنگ کی مخالفت کی امریکی کانگریس کا رواں ہفتے اجلاس ہو رہا ہے جس میں سینیٹ کی وار پاورز ریزولوشن اور ایوانِ نمائندگان میں دو قراردادوں پر غور کیا جائے گا جن کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اختیار کو محدود کرنا ہے جس کے تحت وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کو وسعت دے سکتے ہیں امریکی حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ٹم کین کی زیرِ قیادت سینیٹ کی قرارداد میں 1973 کی وار پاورز ریزولوشن کا حوالہ دیا گیا ہے، جسے ویت نام جنگ کے دوران صدارتی جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔اگر یہ قرارداد منظور ہو گئی تو اس کے تحت ضروری ہو گا کہ جب تک کہ کانگریس منظوری نہ دے، ایران کے خلاف جنگ بند کر دی جائے۔خود امریکی اور مغربی ممالک کے میڈیا کی ان خبروں سے ظاہرہوتاہے کہ ٹرمپ کو اس وقت یہ جنگ بند کرنے کیلئے کتنے دباؤ کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں جو افسوس ناک صورتحال پیدا ہوئی ہے یہ انتشار پسند اور تخریب کار صہیونیوں کے سوا کسی کے بھی حق میں نہیں ہے۔ گریٹر اسرائیل بنانے کے لیے وہ پہلے ہی عرب ممالک کے علاوہ ترکیہ اور شام جیسے ملکوں کے بھی مختلف حصوں پر قبضے کے لیے نقشے جاری کر چکے تھے اور نا جائز صہیونی ریاست میں تعینات امریکی سفیر سمیت صہیونیوں کے کئی اہم حمایتی بھی اس بات پر زور دیتے آ رہے ہیں کہ گریٹر اسرائیل کی تعمیر صہیونیوں کا حق ہے۔ اس کام کے لیے انھیں امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے اسی لیے یہ ممالک صہیونیوں کو صرف سفارتی مدد ہی فراہم نہیں کرتے بلکہ فلسطینیوں اور ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کرنے کے لیے اسلحہ اور گولا بارود انھی کی طرف سے مہیا کیا جاتا ہے۔ غزہ میں غاصب صہیونیوں کی جانب سے جو انسانی المیہ پیدا کیا گیا وہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کے مکمل تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ناجائز صہیونی ریاست نے امریکہ کو ساتھ ملا کر ایران پر حملہ بھی اسی لیے کیا تاکہ خطے میں موجود واحد مضبوط ملک کو کمزور کر کے اپنے مذموم عزائم کو آسانی سے آگے بڑھایا جا سکے لیکن اس حملے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کے اندازے میں نہیں تھی۔ امریکہ کو اس جنگ میں جتنا نقصان اب تک اٹھانا پڑا ہے اور جتنا مزید نقصان ہونے کے امکانات واضح ہو رہے ہیں وہ کسی بھی طرح ڈونلڈ ٹرمپ اور انھیں جنگ کے لیے اکسا کر میدان میں لانے والوں کے علم میں نہیں تھا۔ بظاہرایسا نظر آرہا ہے کہ اِس بار امریکہ ایک گہرے جال میں پھنس گیا ہے۔خود امریکہ کے اندر سینیٹرز اور دیگر بڑے عہدیدار جن میں خود ٹرمپ کی اپنی ری پبلکن پارٹی کے سینیٹرز اور عہدیدار شامل ہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے فیصلے کو غلط قرار دے رہے ہیں،جبکہ ٹرمپ کی توقع کے برعکس ایران کی جانب سے شدید مزاحمت اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کے ساتھ اسرائیل میں اہم مقامات پر تباہ کن حملوں سے ہونے والی تباہی پر ٹرمپ ایک ایسی جھنجھلاہٹ کا شکار دکھائی دے رہے ہیں،جو مزید غلطیوں کا باعث بنتی ہے ،ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان کہ امریکہ ایران کے خلاف زمینی فوج بھی اتارنے کا فیصلہ کرنے والا ہے ان کی اسی جھنجلاہٹ کا عکاس ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پنی ہی ایک خاص بادشاہت کھڑی کر کے دیگر ممالک کے سربراہان کو اُٹھانے یا مارنے کی جوپالیسی متعارف کرائی ہے کوئی مہذب ملک اُس کی حمایت نہیں کر سکتا،خود برطانیہ جیسے امریکہ کے پرانے حلیف برطانیہ کے وزیراعظم نے ایوان میں بیان دیا ہے کہ برطانیہ اِس جنگ میں شامل نہیں ہو گا۔حتیٰ کہ خلیجی ممالک بھی اس بات پر امریکہ سے جواب طلب کررہے ہیں کہ اِس مشکل گھڑی میں وہ انہیں تنہا کیوں چھوڑ گیا ہے۔ ایرانی میزائلوں کی بارش کو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔امریکہ نے صرف اسرائیل کو تحفظ دینے کی جو حکمت عملی اختیار کی ہے اُس کی وجہ سے سعودی عرب، بحرین، کویت، اردن، قطر اور دیگر امریکی حلیف ممالک گہری تشویش میں مبتلا ہو چکے ہیں لمحہ موجود میں مشرقِ وسطیٰ گویا دنیا سے کٹ چکا ہے۔ فلائٹ آپریشن بند ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز بھی بند کر دی ہے۔تجارت کا راستہ بھی نہیں رہا، اس طرح صاف نظر آرہاہے کہ امریکہ ایران کو تنہا کرنے کے زعم میں خود ہی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ جب آپ کسی دشمن کا بہت بڑا نقصان کر دیتے ہیں تو پھر آپ کے پاس اسے ڈرانے کے لئے کچھ بچتا ہی نہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا غیر سنجیدہ اور لاابالی پن امریکہ کو دلدل میں دھکیل رہا ہے اُن کی باڈی لینگویج اُس وقت دیکھنے والی تھی جب وہ ایران پر حملے اور آیت اللہ خامنہ ای سمیت بڑی ایرانی قیادت کو مارنے کی خبر کے بعد پینٹاگان سے واپس وائٹ ہاؤس پہنچے۔یوں لگ رہا تھا وہ ایک بڑی فتح کے نشے سے سرشار ہیں آگے کا منصوبہ تو یہی تھا کہ قیادت ختم ہوتے ہی ایرانی عوام لڑکوں پر نکل آئیں گے اور40 سال سے قائم رجیم کا تختہ اُلٹ دیں گے۔ امریکہ کے کٹھ پتلی رضا شاہ پہلوی بھی امریکہ میں بیٹھے اسی بات کا انتظار کر رہے تھے، مگر ایرانی عوام نے بازی پلٹ دی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال تھا جس طرح وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنے کے بعد وینزویلا کے عوام نے امریکی غلامی قبول کر لی اسی طرح ایرانی عوام بھی کر لیں گے، حالانکہ ایران اور وینزویلا میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ایران کے عوام ایک تاریخی ورثے کے مالک ہیں جو ظلم اور جبر کے خلاف مزاحمت سے جڑا ہے۔ان کے ایمان اور نفسیات میں امام حسینؓ اور یزید کی کشمکش زندہ ہے اور وہ یزید کو شکست دینے کے نظریے پہ یقین رکھتے ہیں۔اپنے لیڈر کی شہادت کے بعد ایرانی عوام سے یہ توقع کوئی احمق ہی کر سکتا ہے کہ وہ اس کے بدلے میں جارح کی غلامی قبول کریں گے۔اندازے کی یہی غلطی معاملات کو بگاڑ گئی ہے اور اب کسی کو بھی یہ معلوم نہیں جو لڑائی شروع ہوئی ہے وہ کب اور کیسے ختم ہو گی۔تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ اس وقت کوئی بھی ایسا فورم یا ثالث کا ملک نہیں جو درمیان میں آئے اور ایران کو راضی کرے کہ وہ اس جنگ کو بند کر دے، کیونکہ ایرانی یہ سوال کر رہے ہیں کہ جب اقوام متحدہ یا سلامتی کونسل نے امریکہ کو جارحیت سے نہیں روکا تو ایران کو ردعمل دینے سے کیسے روک سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے بھی اعتبار کھو چکے ہیں کہ انہوں نے ایک طرف ایران کو مذاکرات میں الجھائے رکھا اور دوسری طرف اچانک حملہ کر کے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کر دیا۔اب اس کے بعد وہ کس طرح ایران کو مذاکرات پر مجبور کر سکتے ہیں، اسرائیل بھی اس وقت صرف دفاعی پوزیشن میں ہے اور ایران پر حملے کی سکت اُس میں بھی نہیں رہی۔ اس وقت ایران میں تو خوف کی نہیں غصے کی فضا ہے۔جس کی وجہ سے یہ صاف نظر آرہاہے کہ امریکہ ایک بڑی ہزیمت سے دوچار ہونے جا رہا ہے۔شاید یہ ہزیمت افغانستان سے ناکام و نامراد نکلنے کی ہزیمت سے بھی بڑی ہو۔
٭٭٭


