میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایرانی شہر چاہ بہار سے کراچی کے ملیر تک اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب!

ایرانی شہر چاہ بہار سے کراچی کے ملیر تک اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب!

ویب ڈیسک
پیر, ۶ مارچ ۲۰۱۷

شیئر کریں

٭چاہ بہار سے اربوں روپے کراچی کے علاقے ملیر میں قائم بینکوں کے پانچ اکاو¿نٹس میں منتقل ہوتے رہے ،ساڑھے 8ارب روپے کی منتقلی کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا
٭پنجاب کی 25فیکٹریاں چاہ بہار سے چلنے والے ایرانی نیٹ ورک کے ذریعے چاول سمیت دیگر مصنوعات ایران منتقل کرنے میں ملوث ہیں
محمد فہد بلوچ
ایف آئی اے نے ایران کے شہر چاہ بہار سے کراچی کے علاقے ملیر تک چلنے والے اسمگلنگ کے منظم ایرانی نیٹ ورک کا سراخ لگا لیا ہے ، تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ پنجاب کی 25فیکٹریاں چاہ بہار سے چلنے والے ایرانی نیٹ ورک کے ذریعے چاول سمیت دیگر مصنوعات ایران منتقل کرنے میں ملوث ہیں۔ ایف آئی اے نے ان فیکٹریوںکے مالکان کو بیانات قلم بند کرنے اور تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے خطوط ارسال کرنے شروع کر دیے ہیں۔ تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ایران سے اسمگل ہو کر آنے والے تیل کو سندھ اور بلوچستان میں فروخت کر کے 8ارب روپے سے زائد رقم کمائی گئی اور اس رقم سے پاکستانی کارخانوں سے مصنوعات اور مویشی خرید کر اسی نیٹ ورک کے ذریعے ایران منتقل کیے گئے، ایف آئی اے نے کارخانوں اور مویشیوں کے تاجروں کو ملنے والی ادائیوںں کا بھی ریکارڈ حاصل کر لیا ہے۔ جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ ملک بھر میں موجود اس نیٹ ورک سے جڑے لوگوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ چاہ بہار ایران کا ہی علاقہ ہے جہاں سے بھارتی جاسوس پاکستان علاقوں میں داخل ہوتے رہے ہیں اور اسی علاقے سے پاکستان کی گوادر بندرگاہ کے خلاف سازشیں تیار کی جاتی رہی ہیں، تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ چاہ بہار سے اربوں روپے کراچی کے علاقے ملیر میں قائم بینکوں کے پانچ اکاو¿نٹس میں منتقل ہوتے رہے ہیں ان بینک اکاو¿نٹس کی تفصیلات بھی حاصل کر لی گئی ہیں، ملیر میں موجود بینک اکاو¿نٹس میں اربوں روپے گوادر ، تربت اور بلوچستان کے دیگر شہروں میں قائم بینکوں سے حاصل کردہ آرٹی سی یعنی روپیز ٹریول چیک کی مدد سے جمع کروائے جاتے رہے ۔یہ اربوں روپے پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود درجنوں افراد کے بینک اکاو¿نٹس میں منتقل ہوئے۔ اب تک کی تحقیقات میں ایف آئی اے نے ساڑھے 8ارب روپے کی منتقلی کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے جبکہ مزید چھان بین جاری ہے ۔ اس ضمن میں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایران سے پاکستان تک چلنے والے نیٹ ورک کے خلاف ایف آئی اے کو مشکوک بینک ٹرانزیکشن کی صورت میں اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس پر ایف آئی اے کے اسٹیٹ بینک سرکل کراچی میں انکوائری نمبر 04\2016شروع کی گئی تھی ، مذکورہ انکوائری میں ایف آئی اے اسٹیٹ بینک کے افسر نے جب تحقیقات کا آغاز کیا توانکشاف ہوا کہ چاہ بہار اسمگلنگ نیٹ ورک میں ایرانی تیل پاکستان اسمگل کیا جاتا ہے اور اسی کے عوض پاکستان سے چاول ، آٹا ، گنا اور کپاس سمیت دیگر اشیاغیر قانونی طور پر ایران منتقل ہوتی رہیں، اسمگلنگ نیٹ ورک کی رقم دہشت گردی میں استعمال ہونے کی علیحدہ سے تحقیقات جاری ہیں، تحقیقات میں اہم ثبوت اور شواہد سامنے آنے پر گزشتہ دنوں ایف آئی اے ٹیم نے کراچی کے علاقے ملیر سے ایک شخص زبیر ولد حاجی لال بخش کو گرفتار کر لیا،اور ایسے 5 اکاو¿نٹس پر تحقیقات شروع کی گئیں جس سے بھاری مالیت کی ٹرانزیکشن سامنے آئی ہیں، جب مذکورہ اکاو¿نٹس پر تحقیقات شروع ہوئیں تو معلوم ہوا کہ حبیب بینک دیہہ ملاح برانچ ملیر میں بلوچ اینڈ کمپنی کے ٹائٹل سے موجود اکاونٹ نمبر 03547900077003، مذکورہ بینک میں زبیر نامی شخص کے اکاونٹ نمبر 03547900077003، ملیر سٹی میں واقع یونائٹیڈ بینک لمیٹڈ میں زبیر کے نام سے موجود اکانٹ نمبر 200612616، مسلم کمرشل بینک ملیر سٹی برانچ میں موجود بلوچ اینڈ کمپنی کے نام سے موجود اکانٹ نمبر 462347571002511، اور مذکورہ برانچ میںزبیر نامی شخص کے اکانٹ نمبر 462347531001109، میں ساڑھے 8 ارب کی ٹرانزیکشن کے ثبوت ملے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ اکاونٹس کے مکمل ثبوت ملنے پر آیف آئی اے نے اپنی تحقیقات کو آگے بڑھایا تو تفشیشی افسران کو اسمگلنگ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا کہ پاکستان سے چاہ بہار تک رقوم کی غیر قانونی ترسیل کس طرح سے ہوتی رہی ہے،یہ رقم ایران سے اسمگل ہو کر پاکستان آنے والے تیل کے عوض پاکستانی اسمگلروں اور ڈیلروں سے وصول کی گئی اور پھر اسی رقم کو ٹریول ٹرانزیکشن یا حوالہ کے نیٹ ورک کے ذریعے ایران منتقل کر دیا گیا جبکہ بعض اوقات تیل پاکستانی اسمگلروں کو ڈیلروں کو سپلائی کرنے کے بعد ان اسمگلروں اور ڈیلروں کے ذریعے چاول ، چینی ، آٹا، کپاس اور دیگر اشیاکی کھیپ حاصل کرکے ان اشیاکو بڑے پیمانے پر ایران میں غیر قانونی طور پر سپلائی کیا جاتا رہا ۔اس طرح سے پاکستان معیشت کو ایک لمبے عرصے تک دُہرے بلکہ تہرے طریقوں سے نقصان پہنچایا جاتا رہا ۔ ایک جانب پاکستان میں ایرانی تیل اسمگل کر کے پاکستان کو ٹیکس کی مد میں کروڑوں کا نققصان پہنچایا گیا جبکہ دوسری جانب پاکستان سے ٹیکس کی ادائی کے بغیر سامان ایران منتقل کیا گیا۔ اسی طرح سے پاکستان سے کرنسی غیر قانونی طور پر ایران منتقل کر کے بھی پاکستانی معیشت کو زک پہنچائی گئی۔ ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل پاکستانی اداروں نے جس بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سنگھ کو ایران سے پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا، وہ بھی چاہ بہار میں موجود نیٹ ورک کی مدد سے پاکستان آتا جاتا رہتا تھا۔بھارتی فوج کے حاضر سروس فوجی جاسوس کو ایرانی خفیہ ایجنسی کی بھر پور معاونت حاصل رہی، جس کی وجہ سے یہی سمجھا جا رہا ہے کہ جاسوسی کا یہ نیٹ ورک اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کے مذکورہ گروپ کی آڑ میں چلایا جاتا تھا جس کے اخراجات بھی پاکستان میں اسمگلنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم سے پورے کیے جارتے رہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے نے مقدمے میں ایرانی شہری حاجی رقیب کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حاجی رقیب ایران سے ملنے والی تمام رقم زبیر کے اکا و¿نٹ میں منتقل کرتا رہا ہے جس کا ریکارڈ بھی ایف آئی اے کو مل چکا ہے، تا ہم ملزم کی ایران میں موجودگی کے باعث گرفتاری فوری طور پر ممکن نہیں ہو سکی۔ ذرائع نے بتایا کہ ملزم کے ریکارڈ کی چھان بین کی جا رہی ہے کہ وہ کتنی بار ماضی میں پاکستان آچکا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ انتہائی بااثر مافیا ہے جسے کئی تحقیقاتی اداروں میں موجود کرپٹ افسران کی سرپرستی کے ساتھ اہم سیاسی اور کاروباری شخصیات کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔کراچی میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں پولیس خود ہی ملوث پائی گئی، پیٹی بند بھائیوں کے خلاف اسپیشل برانچ پولیس نے رپورٹ جاری کردی۔کراچی پولیس ایک طرف شہر میں جرائم کے خاتمے کے دعوے کر رہی ہے تو دوسری جانب خود ہی ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث نکلی۔شہر میں پندرہ مقامات پر ایرانی تیل کے اڈے موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ضلع ویسٹ میں سات اور ضلع ملیر میں چھ اڈے جبکہ ایک ضلع ساو¿تھ اور ایک ڈپو ایسٹ میں بھی موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق علاقہ پولیس اڈوں کی سرپرستی کر رہی ہے جبکہ
رپورٹ میں ایرانی تیل کی اسمگلرز کے نام بھی واضح کر دیے گئے ہیں۔
ایرانی ڈیزل مافیا ایک بار پھر سے سرگرم ہوگئی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق گوادر اور تربت سمیت مختلف علاقوں سے مسافر کوچز میں ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ پھر سے شروع ہوگئی لیاری زیرو پوائنٹ سے حب ساکران تک پولیس کی سرپرستی میں ایک بار پھر سے یہ کاروبار شروع ہوچکا ہے۔
اس حوالے سے کچھ عرصے قبل ایک نجی ٹی وی چینل نے اس کاروبار کے حوالے سے ایک رپورٹ بنائی جس پر آئی جی پولیس بلوچستان نے نوٹس لیتے ہوئے سابقہ ایس ایچ او حب اور ایڈیشنل ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرکے انہیں معطل کر کے تنزلی بھی کی۔
اس کے بعد کافی عرصے تک یہ کاروبار بند رہا تاہم سابقہ ڈی پی او کے تبادلے کے بعد دوبارہ یہ کاروبار عروج پر چل رہا ہے۔ اس حوالے سے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ زیرو پوائنٹ سے لیکر حب ساکران تک 120000 روپے فی گاڑی پولیس لین لی جاتی ہے جبکہ ہر تھانے کے ایس ایچ اوز نے اس کاروبار کیلئے اپنے مخصوص بندے رکھے ہوئے ہیں جو ان سے باقاعدہ پولیس لین لے کر اعلیٰ افسران تک پہنچاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ماہانہ ایرانی ڈیزل کا کاروبار کرنے والے 25000000 دو کروڑ پچاس لاکھ ماہانہ حب پولیس کو دیتے ہیں جو آگے اعلی حکام سمیت دیگر پولیس افسران میں تقسیم ہوتی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں